زرینہ حسن: ’خود کو مضبوط کرنا پڑا کیونکہ میرے آگے میرے بچے کھڑے تھے‘

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’جب میری آنکھ کی بینائی گئی تو مجھے ڈاکٹر نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اب آپ اپنا آٹھ ماہ کا بچہ گِرا دیں۔۔۔ مجھے یہ سُن کر بہت افسوس ہوا اور تعجب بھی کہ کوئی ایسا مشورہ کیسے دے سکتا ہے؟ میری بینائی جانے سے میرے ماں بننے پر کیا فرق پڑسکتا تھا، یہ میں نہیں سمجھ پائی۔‘

زرینہ حسن پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور میڈیکل وائرولوجسٹ کی ماہر ہیں۔ ان کا کام کسی بھی قسم کے انفیکشن کی تشخیص کرنے سے منسلک ہے۔

سنہ 2010 میں جب وہ آٹھ ماہ حمل سے تھیں تو اس وقت ان کی بائیں آنکھ موتیا (گلاؤکوما) کے مرض کے نتیجے میں ضائع ہوچکی تھی۔

ابھی وہ ِاس مرض کی تشخیص کے مشکل مرحلے اور اس بات کو قبول کرنے کی کوشش کر ہی رہی تھیں کہ اُن کی آنکھ ساری عمر بینائی کے بغیر رہے گی، جب انھیں پتا چلا کہ اُن کی دائیں آنکھ بھی اسی مرض سے متاثر ہوچکی ہے۔

اسی دوران ڈاکٹروں نے انھیں اپنے بچے کو رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کو کہا۔

کچھ دنوں بعد انھوں نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ وہ اپنے بچے کو رکھنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں اس کے بعد انھوں نے اس بارے میں مزید بات نہیں کی۔

’یہ میرے لیے بہت مشکل وقت تھا۔ کیونکہ اب میں صرف ڈاکٹر نہیں بلکہ مریض بھی تھی۔ جب تک موتیا کی تشخیص نہیں ہوئی تھی تو مجھے ہر روز ہسپتال بلایا جاتا تھا، کئی بارخون نکالا جاتا تھا۔ کئی دنوں تک پورے جسم میں درد رہتا تھا۔ اُس وقت مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں انسان ہوُں بلکہ شاید کسی لیبارٹری میں تجربہ کے لیے لائی گئی ہوں۔‘

اسی دوران زرینہ کو ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا بھی اندازہ ہوا۔

’میں نے محسوس کیا کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کو مریضوں سے بات کرنے کے لیے الگ تربیت ملنی چاہیے۔ اکثر کام کرتے ہوئے ڈاکٹر بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس آنے والے مریض کس حال میں وہاں پہنچتے ہیں۔ کیا کیا پریشانیاں ان کے ذہن میں ہوتی ہیں۔ آپ کو مریضوں کی عزّتِ نفس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ یہ لوگ تجربے کے لیے نہیں آتے یہاں۔‘

زرینہ کہتی ہیں کہ روز روز اس طرح کے واقعات دیکھ کر اُن کے پاس ایک ہی راستہ تھا۔

’مجھے خود کو مضبوط کرنا پڑا کیونکہ میرے آگے میرے بچے کھڑے تھے۔ میں نے سوچا کہ کچھ بھی ہوجائے میں ان کا دل نہیں ٹوٹنے دوں گی۔‘

لیکن دوسروں کا خیال کرنے کے لیے زرینہ کو پہلے اپنا خیال رکھنا ضروری تھا۔

’میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے سب کچھ خود کرنا ہے، خود سیکھنا ہے۔ تو پہلے ’سائٹ بیانڈ سائٹ‘ کے نام سے بلاگ بنایا۔ آرٹیکل لکھنے شروع کیے، خود کو کمپیوٹر استعمال کرنا سکھایا، ٹریکنگ کرنا شروع کی۔‘

اسی طرح انھوں نے خود ہی پینٹنگ کرنا بھی سیکھا۔

زرینہ کے گھر میں ایک کمرہ ان کی چیزوں سے بھرا ہوا ہے جس میں ان کا پینٹنگ کا سامان اور کمپیوٹر ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

’میں جو محسوس کررہی تھی سوچا اس کو پینٹ بھی کروں۔ ایک وقت میں مجھے بہت غصہ تھا سو اس کا میں نے حل اپنے کام کے ذریعے نکال لیا۔‘

اسلام آباد میں رہائش پذیر، 44 سالہ زرینہ کا تعلق پشاور سے ہے جہاں سے انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ وہ اکثر اپنے دونوں بچوں اور شوہر کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کراچی جاتی رہتی ہیں۔

زرینہ کے بارے میں جانتے ہی کئی لوگوں نے ان کے بارے میں لکھنا شروع کیا اور ان کے گھر والوں سے تاثرات جاننے کی بھی کوشش کی لیکن زرینہ اپنے بچوں اور شوہر کو میڈیا سے کوسوں دور رکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ان کے گھر والوں کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ اُن کے علاوہ کوئی اور میڈیا میں بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کے بچوں کی تصویر سامنے آئی گی۔

لیکن زرینہ اپنے پیشے کے لیے مستقبل میں کچھ کرنا چاہتی ہیں اور وہ ہے مریضوں کے ساتھ ہسپتالوں میں برتنے والے رویوں کے قواعد و ضوابط بنوانا۔

’میں اس پر کام کررہی ہوں اور کرتی رہوں گی جب تک مکمل نہیں ہوجاتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ مصیبتیں اور رکاوٹیں آتی رہیں گی۔ ’میری کہانی یہ ہے کسی اور کی کچھ اور ہوگی، مگر اتنی ہی اہم ہوگی۔ میری جتنی زندگی لکھی ہے اتنی ہی گزرے گی لیکن مایوسی سے نہیں اور یہ فیصلہ میرا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10277 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp