بھولے نے کیسے بدمعاش سے بدلہ لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھولا ایک نہایت ہی معصوم سا نوجوان تھا۔ بھولپنے کے علاوہ جسمانی طور پر بھی کچھ کمزور واقع ہوا تھا۔ اس لئے اسے تنگ کرنے والے بہت تھے۔ کبھی کلاس کا مشرقی لڑکا اس کا منہ چڑا دیتا تو کبھی مغربی لڑکا اس کو ایک دھپ رسید کر دیتا۔ اور کچھ نہ ہو تو جنوبی لڑکا ہی اس کا لنچ کھا جاتا۔ بھولا کسی نہ کسی طریقے سے ان سے بدلہ لے لیتا۔ کبھی خود سامنے آئے بغیر کسی دوست کے ذریعے ان شریر لڑکوں کو پراکسی مار پڑوا دیتا کبھی ان کی سائیکل سے ہوا نکال دیتا۔

بہرحال وقت گزرتا گیا۔ بھولا بڑا ہو گیا تو اس نے ایک نئی نکور گاڑی خرید لی۔ پہلے دن ہی وہ جی ٹی روڈ پر اپنی لشکتی ہوئی کار لے کر نکلا تو اس کی ٹکر ایک گوالے سے ہو گئی جو اپنی پک اپ میں دودھ لے کر جا رہا تھا۔ گوالا آگ بگولہ ہو کر ایک موٹا سا ڈنڈا تھامے اپنی گاڑی سے نکلا تو دیکھا کہ پک اپ کی بتی ٹوٹ گئی تھی۔ اس نے بھولے سے ہرجانہ طلب کیا مگر بھولے کا بٹوا اس کے دماغ کی طرح خالی نکلا۔

گوالا غصے سے لال ہو گیا۔ اس نے سڑک کے کنارے پر بھولے کے گرد اپنے ڈنڈے سے ایک دائرہ کھینچا اور اس نے بھولے کو کہا کہ ”خبردار جو تم اس دائرے سے پیر باہر نکالا، میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں“۔ یہ کہنے کے بعد اس نے ڈنڈا اٹھایا اور بھولے کی گاڑی پر مار مار کر اس میں ڈینٹ ڈال دیے۔
اس نے مڑ کر بھولے کی طرف دیکھا کہ وہ رو پیٹ رہا ہو گا مگر خلاف توقع وہ تو پیٹ پکڑے ہنس رہا تھا۔

گوالے کو مزید غصہ چڑھا۔ اس نے اب دوبارہ ڈنڈا اٹھایا اور بھولے کی گاڑی کی بتیاں توڑ ڈالیں۔ وہ پیچھے مڑا تو بھولا ہنس ہنس کر دوہرا ہوا جا رہا تھا۔
گوالا اب تو آپے سے ہی باہر ہو گیا۔ اس نے ڈنڈا گھمانا شروع کیا اور بھولے کی نئی گاڑی کا ایک ایک شیشہ توڑ ڈالا اور پھر بھولے کو روتا بلکتا دیکھنے کی آس میں مڑ کر دیکھا تو بھولا زمین پر گرا پڑا تھا اور ہنس ہنس کر بالکل ہی بے حال ہو چکا تھا۔

گوالے نے اب تھک کر ہار مان لی۔ اب وہ بھولے کی گاڑی کا کچومر نکال چکا تھا۔ اس کا مزید کچھ بگاڑنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے اپنا ڈنڈا ایک طرف پھینکا اور بھولے سے کہا ”میں نے تمہارا لاکھوں کا نقصان کر دیا ہے مگر تم بجائے رونے کے خوش ہو رہے ہو۔ تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟ “

بھولا ابھی تک پیٹ پکڑے ہنس رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہنس ہنس کر آنسو آ چکے تھے۔ بمشکل بولا ”میں نے تمہاری بدمعاشی کو ذرا لفٹ نہیں کرائی اور تمہارے سے اچھی طرح بدلہ لیا ہے۔ جب تم گاڑی توڑ رہے تھے تو میں نے تین مرتبہ دائرے سے پیر باہر نکالا تھا“۔
راوی کہتے ہیں کہ بھولے کی اس تباہ شدہ گاڑی کا نمبر کشمیر نو دو گیارہ اور گوالے کا نام مودی بدمعاش تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1199 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar