جانور راج: سنوبال کی سازشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جارج آرویل، مترجم، آمنہ مفتی)

جانی صاحب کے نکلنے کے بعد پہلی بار کچھ ایسا ہوا جو انقلاب جیسا ہی تھا۔ تین کالی اصیل مرغیوں کی سرکردگی میں مرغیوں نے نپولین کی خواہشوں کا تیا پانچہ کرنے کے لئے بہت جم کے کوشش کی۔ ان کا طریقۂ کاریہ تھا کہ وہ اڑ کر شہتیروں تک جاتیں اور وہاں بیٹھ کر انڈا دیتیں جو فرش پہ گر کے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ نپولین نے سرعت اور سفاکی سے قدم اٹھایا۔ اس نے مرغیوں کا دانہ بند کردیا اور حکم دیا کہ اگر کوئی جانور انہیں مکئی کا ایک دانہ بھی دیتا ہوا پایا گیا تو اس کی گردن مار دی جائے گی۔

کتوں کو اس حکم کی تکمیل پہ مامور کیا گیا۔ پانچ دن تک مرغیاں ثابت قدم رہیں، آخر کار انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور اپنے دڑبوں کو لوٹ آئیں۔ اس دوران نو مرغیاں مر گئیں۔ ان کی لاشیں، پھلوں کے باغ میں دبادی گئیں اور یہ کہا گیا کہ وہ رانی کھیت سے مر گئی ہیں۔ نوید مسرت صاحب کو اس معاملے کی ہوا تک نہ لگی اور انڈے قرینے سے پہنچائے جاتے رہے، ایک کنجڑے کا یکہ ہفتے میں ایک بار انہیں لینے آتا تھا۔

اس تمام عرصے میں سنو بال کی کچھ خبر نہ ملی۔ اس کے بارے میں افواہ اڑ چکی تھی کہ وہ دونوں پڑوسی مزرعوں، ’بوہڑ والا‘ یا ’خالصہ کلاں‘ میں سے کسی ایک میں چھپا ہوا تھا۔ نپولین اب تک، پڑوسیوں سے پہلے کی نسبت ذرا اچھے تعلقات بنا چکا تھا۔ ہوا یوں کہ احاطے میں لکڑی کا ایک ڈھیر پڑا تھا جو دس برس پہلے یہاں جوڑا گیا تھا جب درختوں کا ایک جھنڈ صاف کیا گیا تھا۔ یہ خوب پرانی لکڑی تھی۔ نوید مسرت صاحب نے نپولین کو صلاح دی کہ اسے بیچ دیا جائے ؛جناب اللہ دتہ اور رؤف جٹ دونوں ہی اسے خریدنے کے خواہش مند تھے۔

نپولین دونوں کے درمیان حیص بیض کا شکار تھا اور ذہن نہیں بنا پا رہا تھا۔ یہ محسوس ہوا کہ جب کبھی وہ رؤف جٹ کے ساتھ معاہدہ کرنے والا ہوتا تھا تو یہ پتا چلتا تھا کہ سنو بال، خالصہ کلاں میں چھپا ہوا ہے، جبکہ، جوں ہی وہ اللہ دتے کی طرف جھکتا تھا تو سنو بال کے، ’بوہڑ والا‘ میں چھپنے کی ہوائی اڑتی تھی۔

اچانک اوائلِ بہار میں ایک چونکا دینے والی بات معلوم ہوئی۔ سنو بال رات کو چوری چھپے فارم پہ آ تا تھا! جانور ایسے بدکے کہ بمشکل اپنے تھانوں پہ سوتے تھے۔ یہ کہا جاتا تھا کہ ہر رات، وہ تاریکی کی چادر میں آتا تھا اور ہر طرح کی شرارت کرتا تھا۔ اس نے مکئی چرائی، دودھ کی وولٹوہیاں الٹائیں، انڈے توڑے، نئی بیجائی پہ پھرا، پھلدار درختوں کی چھال کتر گیا۔ جب بھی کچھ گڑبڑ ہوتی سب ملبہ سنو بال پہ ڈال دیا جاتا۔

اگر کوئی کھڑکی ٹوٹتی یا پرنالہ بھر جاتا تو کوئی نہ کوئی یقین سے کہتا کہ رات کو سنو بال آیا تھا اور یہ کر گیا، اور جب، بھنڈار کی کنجی کھوئی گئی، پورے فارم کو یقین تھا کہ سنو بال نے اسے کنوئیں میں پھینک دیا ہے۔ حیرت انگیز طور پہ وہ تب بھی اس بات پہ یقین کرتے رہے جب یہ چابی، راشن کی ایک بوری کے نیچے دبی مل گئی۔ گائیوں نے متفقہ طور پہ اعلان کیا کہ رات کو سنو بال ان کے تھان پہ آ کے ان کے سوتے میں دودھ دوہ جاتا ہے۔ چوہے جو کہ ان سردیوں میں مصیبت بنے رہے تھے، انہیں بھی سنو بال کے ساتھ شامل سمجھا جاتا رہا۔

نپولین نے فرمایا کہ سنو بال کی حرکتوں کی پوری چھان بین ہونی چاہییے۔ اپنے کتوں کی معیت میں وہ نکلا اور فارم کی عمارات کا بڑی باریک بینی سے دورہ کیا، جبکہ باقی جانور ایک مہذب فاصلے پہ پیچھے پیچھے تھے۔ ہر چند قدم پہ نپولین رکتا تھا اور سنو بال کے کھرے کے لئے زمین سونگھتا تھا جو کہ اس کا کہنا تھا وہ بو سے ہی پا لے گا۔ اس نے ہر کونا سونگھا، گودام میں، مال کی حویلی میں، دڑبوں میں، سبزی کی کیاریوں میں، اور سنو بال کا نشان ہر جگہ پایا۔ وہ اپنی تھوتھن زمین پہ رکھتا، کئی گہرے گہرے سانس لیتا اور بھیانک آواز میں بنکارتا، ’سنو بال! وہ یہاں تھا! میں واضح طور پہ اس کی بو سونگھ سکتا ہوں‘ ۔ اور اس لفظ، ’سنو بال‘ پہ کتے خون خشک کر دینے والی آوازوں میں غراتے اور ان کے دانت جھلک مارتے۔

جانور خوب دہشت زدہ ہو چکے تھے۔ ان کو یوں لگتا تھا کہ سنو بال ایک نادیدہ اثر تھا، جو ان کے آس پاس ہوا میں چھایا ہوا تھا اور ان پہ ہر طرح کا خطرہ مسلط کیے ہوئے تھا۔ شام کو، چیخم چاخ نے انہیں اکٹھا کیا اور اپنے چہرے کے چونکیل تاثرات کے ساتھ انہیں بتایا کہ وہ ایک اہم خبر سنانے والا ہے۔

’کامریڈز!‘ چیخم چاخ، گھبرا گھبرا کے ادھر ادھر کودتے ہوئے چلایا ”ایک بڑی ہی خوفناک شے پتا چلی ہے۔ یہ بک گیا ہے سنو بال، خالصہ کلاں کے رؤف جٹ کے ہاتھوں، جو کہ اب ہم پہ حملہ کرنے اور ہم سے ہمارا فارم چھیننے کا منصوبہ بنا رہا ہے! جب وہ ہم پہ حملہ کرے گا تو سنو بال اس کی رہنمائی کرے گا۔ مگر اس سے بھی بری بات۔ ہم نے سوچا تھا کہ سنو بال کی بغاوت اس کی خود نمائی اور جذبے کے باعث تھی۔ مگر ہم غلط تھے کامریڈز۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اصل وجہ کیا تھی؟ سنو بال شروع ہی سے جانی صاحب کے ساتھ ملا ہوا تھا! وہ ہمیشہ سے جانی صاحب کا پوشیدہ مخبر تھا۔ یہ سب ان دستاویزات سے ثابت ہوا جو کہ وہ پیچھے چھوڑ گیا تھا اور جو کہ ہمیں ابھی ابھی ملی ہیں۔ میرے مطابق یہ بہت کچھ واضح کرتا ہے کامریڈز۔ کیا ہم نے دیکھا نہیں کہ، اس نے کس طرح ہمیں ’معرکۂ گاؤتھان‘ میں ہروانے اور برباد کرانے کی کوشش کی جو کہ ہماری خوش قسمتی سے ناکام رہی؟“
جانور بھونچکے رہ گئے۔ یہ خباثت، سنو بال کی پون چکی گرانے کی حرمزدگی سے کہیں آگے تھی۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: معاشی بحران اور مرغیوں کے انڈے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •