سبز ہوتے بھی نہیں، شاخ سے جھڑتے بھی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے ایک مضمون ”دیر کیا ہے آنے والے موسمو“ میں کہا تھا کہ ہمیں خوش ہونے کے لئے کس وقت کا انتظار ہے؟ خوشی کو کسی اور وقت کے لئے کیوں ملتوی کر دیتے ہیں؟ اس مضمون کو اس کا سیکوئل سمجھ لیں۔ اور دیکھیے کہ اس انتظار نے کہاں لا کھڑا کیا۔ مڈ لائف آ پہنچی اور ہم ابھی تک سچی خوشی کے منتظر ہیں۔ سن لیجیے سمجھ لیجیے کہیں دیر نہ ہو جائے۔ اسے غور سے پڑھیے کہیں اس میں آپ کو اپنی تو کوئی جھلک نہیں دکھ رہی؟

مڈ لائف یعنی درمیانی عمر وہ وقت ہے جب آپ ایک بار پھر بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اوپر کی طرف نہیں بلکہ دایئں بایئں۔ اور اگلا موڑ بڑھاپا ہے اسے آنا ہے وہ تو آئے گا۔

مڈ لائف وہ وقت ہے جب ہر گزرنے والے دن کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کی عمر میں شاید سال بھر کا اضافہ ہو گیا ہے۔ جب ویک اینڈ اور ہفتے کے باقی دن ایک جیسے لگیں۔ جب دل میں یہ خواہش اٹھے کہ کیا دن کا آغاز کسی اور صورت نہیں ہو سکتا؟ اور کیا بستر سے اٹھنا ہی پڑے گا؟ اب یادداشت کمزور اور رد عمل سست ہو رہے ہیں۔ انرجی گھٹ رہی ہے اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ جسم بھاری اور بال ہلکے ہو رہے ہیں۔ رات کو نیند نہیں آتی ہے لیکن دن میں اونگھ جاتے ہیں۔

اب تو اپنی سالگرہ بھی یاد رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ چپکے سے خواہش اٹھتی ہے کہ لوگ آپ کی سالگرہ کا دن بھول جایں اور آپ کو مبارکباد دے کر یاد نہ دلایں کہ آپ کتنے ”بڑے“ ہو گئے ہیں۔ اور پھر اگر کوئی بھول جائے تو دل ٹکڑے ہوتا ہے کہ اب ہم اتنے اہم بھی نہیں رہے کہ ہماری سالگرہ لوگوں کو یاد رہ جائے۔ ویسے اب تو خود بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنے سال کے ہو گئے ہیں، کوئی اگر پوچھ لے تو انگلیوں پر گننا پڑ جاتا ہے۔ یاد اس وقت رہتا تھا جب عمر کم تھی اور بڑے ہونے کا شوق اور انتظار رہتا تھا۔ بچے اپنی عمر بتانے میں بڑے دقیق ہوتے ہیں۔ کس شوق سے اپنی بڑھتی ہوئی عمر بتاتے ہیں۔ ”میں ساڑھے سات سال کا ہوں“ یا ”میں چھے سال اور چار مہینے کی ہوں“ اب مہینے تو کیا، سال گننے بھی چھوڑ دیے۔

یہ وہ وقت ہے جب کبھی لگتا ہے کہ اب زندگی میں کچھ باقی نہیں کرنے کو۔ سارے اہداف حاصل کر لئے۔ اور کبھی یہ احساس کہ ابھی تو اور بہت کچھ کرنا تھا۔ کبھی لگے کہ وقت کتنی جلدی گزر گیا اور کبھی یوں لگے کہ وقت ٹھہر سا گیا ہے۔

بچے ایک ایک کر کے اپنے نئے گھروندوں میں جا چکے ہوتے ہیں۔ اب ان کے انتظار میں وقت گزرتا ہے۔ اور جب وہ آجاتے ہیں تو ان کے جانے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ اگر کہیں سے بلاوا آجائے تو جان پر بن آتی ہے۔ دونوں کا بلاوا ہو تو دونوں ہی کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرا چلا جائے ہمیں نہ جانا پڑے۔ ۔ کو ئی بنا ہوا پروگرام ملتوی ہو جائے تو دل خوشی سے جھوم جاتا ہے۔

اگر آپ ریٹائر ہو چکے ہیں تو صورت حال یہ ہے کہ گھر سے نکلنا بھی مصیبت لگتا ہے۔ اپنے آپ سے غفلت کا دور چل رہا ہے۔ “نئے کپڑے پہن کر جاوں کہاں اور بال بناوں کس کے لئے” جیسا عالم ہے۔ جن کے لئے سجتے سنورتے تھے وہ دوسرے کمرے میں اپنے کمپیوٹر پر بیٹھے بلوں کی ادایئگی کر رہے ہیں یا شاید کسی سے چیٹ کر رہے ہیں۔ اب پرواہ بھی نہیں رہی۔ حالانکہ یہی وقت ہے جب زیادہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مڈ لائف کرائسس۔ یو نو

اپنے بیڈ روم کے چراغ اب بھی دھیمے کرتے ہیں لیکن اس کا رومنس سے کوئی تعلق نہیں، عادت بچت کی پڑ گئی ہے۔ حالانکہ کسی حد تک خوشحال ہو چکے ہیں۔ نوٹ جلانے کے لئے ہیں لیکن دل کا شعلہ جل نہیں پاتا۔

زندگی کے اسی دور میں کچھ اور درد بھی اجاگر ہونے لگتے ہیں۔ اپنے کھانے پینے پر بھی خود اپنی ہی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ میٹھا؟ نہیں کہیں ڈایبٹیس نہ ہو جائے۔ نمک۔ نہیں نہیں بلڈ پریشر کا خطرہ ہے۔ تلی ہوئی چیزیں۔ اف نا نا۔ کلسٹرول لیول اوپر جائے گی۔ چٹ پٹی مصالحے دار غذا۔ ہائے۔ نہیں۔ جلن ہوتی ہے نا۔

آپ یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ آپ کے دوست کچھ بدلے بدلے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں کیا ہو گیا؟ یہ تھکے تھکے اور بوڑھے سے کیوں نظر آنے لگے ہیں؟ صاف ظاہر ہے آپ کو آیئنہ دیکھے کافی عرصہ ہو چکا ہے۔ یا آپ نے پرواہ کرنی چھوڑ دی ہے۔ آیئنہ دیکھ بھی لیں تو بوڑھا سا کوئی اور نظر آتا ہے۔

اب آپ کی زندگی میں دھاتوں کا دخل ہو رہا ہے۔ عمر کی گولڈن جوبلی، شادی کی سلور جوبلی۔ بالوں میں چاندی کی تاریں اور شاید گھٹنے میں اسٹیل۔

کبھی ہمت کر کے کہیں گھومنے نکل جایں تو خوبصورت اور ایکساٹینگ مقام پر جاتے ہی یہ سوچ رہ رہ کر ستاتی ہے کہ کاش یہاں دس سال پہلے آتے۔ دکھتی کمر اور ٹانگوں میں کھینچاؤ کے ساتھ اب اور کتنا چل سکیں گے۔ اب فرصت بھی ہے، پیسہ بھی ہے لیکن وہ امنگیں باقی نہیں رہیں۔

یہ وہ دور ہے جب آپ کی بییڈ سایئڈ ٹیبل مختلف دواوں اور گولیوں سے اٹی پڑی ہے اور ان کے نیچے دبی کوئی کتاب کب سے آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔ چشمے ایک سے دو ہوئے اب تیسرا کمپیوٹر کے لئے بھی۔

کبھی جب دوستوں کے ساتھ مل بیٹھیں تو ساری گفتگو گھوم پھر کر بیماریوں اور دوایؤں پر آ جاتی ہے۔ اور ایک قسم کا مقابلہ سا ہونے لگتا ہے کہ کس کی بیماری زیادہ پیچیدہ ہے۔ کسی کو فخر ہے کہ کوئی بھی ڈاکٹر آج تک اس کی بیماری سمجھ ہی نہیں سکا۔ آپ خود بھی بڑے خشوع و خضوع سے اپنے درد کی نوعیت اور شدت بیان کرتے ہیں۔ پہلے جو باتیں کتابوں، فلموں اور کپڑوں پر ہوتی تھیں وہ اب بچوں سے ہوتی ہوئی بیماریوں پر رکتی ہیں اور رکی ہی رہتی ہیں۔

اگر کچھ زمین پر گر جائے اور اسے مجبوراً اٹھانے کے لئے آپ کوجھکنا ہی پڑ جائے، تو کچھ لمحے وہیں رکے اور جھکے رہتے ہیں کہ اب جھک ہی گئے ہیں توکیا کوئی اور کام بھی ہے جسے کر لیا جائے۔

کہتے ہیں عمر بس ایک ہندسہ ہے۔ اسے نظر انداز کر دیں اور دل جوان رکھیں۔ اب اگر بدن دل کا ساتھ نہ دے تو کیا کریں؟

صوفے پر لیٹ کر ٹی وی دیکھنا چاہا، ریموٹ دور پڑا ہے۔ اب انتظار میں ہیں کہ کوئی ادھر آ نکلے تو کہیں کہ بھئی ذرا ریموٹ تو پکڑانا۔ ”ارے کوئی ہے؟ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •