اسرائیل نواز ٹرمپ سے مسلمان دوست ہونے کی توقع؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بخدا میں نے طے کررکھا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئے بغیر میں نے اب اس موضوع پر مزید کچھ نہیں لکھنا۔بدھ کی صبح اٹھتے ہی لیکن حسب عادت بستر کے دائیں ہاتھ رکھا فون دیکھا تو Whatsappاور ٹویٹر کے ذریعے ایک وڈیو وائرل ہوچکی تھی۔امریکی صدر اس وڈیو کے ذریعے دُنیا کو ایک بار پھر کشمیر کا مسئلہ ’’سمجھا‘‘ رہا تھا۔ اس نے مذکورہ قضیہ کو بہت ہی گنجلک پکارتے ہوئے ہندو-مسلم تفریق کا ذکر بھی کیا۔کشمیر میں جاری بحران کو ’’مذہبی‘‘ لڑائی بتایا۔

ہم سادہ لوح پاکستانیوں کی اکثریت ایک فلمی کردار کی طرح ’’خوش‘‘ ہوگئی۔عمران خان صاحب کے کئی پرستار یہ دعویٰ کرتے بھی سنائی دئیے کہ پاکستانی وزیر اعظم سے ہوئی گفتگو کی بدولت امریکی صدر نے اب ’’دوقومی نظریہ‘‘ کی صداقت کو جان لیا ہے۔یہ بات بھی عیاں ہورہی ہے کہ وہ اب 70برسوں سے جاری اس قضیے کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ نریندرمودی کو فون کرتے ہوئے عملی حوالے سے ثالثی کروانا شروع ہوگیا ہے۔

عزیز ہم وطنو کی شادمانی سے میرا وسوسے بھرا دل واقعتا گھبراگیا۔ ’’ہوئے تم دوست جس کے …‘‘ والا مصرعہ یاد آگیا اور ساتھ ہی ’’کھلونے دے کر بہلایا گیا ہوں‘‘ والا غم۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی وڈیوز کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیاق وسباق سے ہٹ کر بنائی جاتی ہیں۔ امریکی صدر جیسا طاقت ور شخص جو بیان کررہا ہو اس میں سے وہ حصہ نکال کر فیس بک اور ٹویٹر پر پوسٹ ہونا شروع ہوجاتا ہے جو کسی نہ کسی صورت ہمارے دلوں میں موجود خواہشات کی ترجمانی کرتا سنائی دیتا ہو۔

محض چند لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے دلوں کو خوش کرنے والی وڈیوز کس تناظر میں ہوئی گفتگو کے ایک حصہ کو نمایاں کررہی ہیں۔حتیٰ کہ جو حصہ ہمارے من کو بھایا ہے اس میں بھی اصل پیغام کیا ہے۔ہمیں خوش کرتی وڈیوپر ہی ذراٹھنڈے دل سے غور کرلیں تو آپ کو بخوبی انداز ہوجائے گا کہ ا مریکی صدر اس میں قطعاََ اس لاک ڈائون کا ذکر نہیں کررہا جس کے ذریعے 80لاکھ کشمیری مسلمانوں کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے۔

وہ “Shooting”کا ذکرکررہا ہے۔ گولہ باری جس کے لئے عام بندوقیں نہیں بلکہ’’ Howitzerتوپیں‘‘ استعمال ہورہی ہیں۔توپوں کا استعمال یاد رہے کہ سری نگر یا اننت ناگ میں نہیں ہورہا۔ ٹرمپ کی پریشانی کا حقیقی سبب درحقیقت کشمیر کی سرحد پر موجود لائن آف کنٹرول پر کئی دنوں سے جاری بمباری ہے۔ وہ اس کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ یہ گولہ باری ہمارے لئے بھی یقینا فکرمندی کا باعث ہے کیونکہ بھارتی توپیں تمام تر جنگی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جان بوجھ کر شہری آبادی کو بھی اس کا نشانہ بنارہی ہیں۔

ہم ہر صورت اس کا مؤثر ترین جواب دے سکتے ہیں۔ہماری مجبوری مگر یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھی کشمیری ہیں۔ ہم بھارت کو تم نے ہمارے چار بندے مارے تو ہم نے تمہارے آٹھ بندے مارلئے والا جواب دینے سے گریز کو مجبور ہیں۔ہمیں بہت مہارت سے صرف بھارتی فوج کے بنکروں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں بھارتی فوجی ہلاک ہوں تو جواباََ مزید وحشت جوخاص طورپر وادیٔ نیلم کے ایک وسیع علاقے کی شہری آبادی کی زندگی اجیرن بنادیتی ہے۔

لائن آف کنٹرول پر مسلسل بمباری کے ذریعے بھارت درحقیقت ہماری شہری آبادی کو اپنے جنون کا Hostage بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ بدترین جنگی حالات میں بھی خود کوجدید کہلاتی ریاستوں کی افواج شہری آبادی کو Non Combatant تصور کرتی ہیں۔ عموماََ “Non State Actors”اسے نشانہ بناتے ہیں۔یہ عمل مگر ’’دہشت گردی‘‘ شمار ہوتا ہے۔ شہری آبادی پر جنگوں کی وجہ سے مسلط ہوئے عذاب کو نظرانداز کرنے کا حالیہ تاریخ میں چلن مگر ٹرمپ ہی کے امریکہ نے متعارف کروایا تھا۔

افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران Collateral Damageکی اصطلاح استعمال ہوئی۔عراق کی جنگ کے دوران امریکی وزیر دفاع ریمز فیلڈ اس کا ذکر کندھے اُچکاکر سفاکانہ رعونت سے کیا کرتاتھا۔ایک بار پھر یہ دہرانے کو مجبور ہوں کہ ٹرمپ کی اصل پریشانی لائن آف کنٹرول پر جاری گولہ باری ہے۔اسے خدشہ ہے کہ یہ جاری رہی تو پاک-بھارت کشیدگی ایک اور جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔کشیدگی جنگ میں بدل گئی تو پاکستان کے لئے یہ ناممکن ہوجائے گا کہ وہ محض افغانستان پر توجہ دیتے ہوئے اس ملک میں ٹرمپ کی خواہش والا ’’امن‘‘ اس کے ذہن میں موجود ٹائم لائن کے مطابق Deliverکرسکے۔

کشمیر ٹرمپ کی دانست میں زمین کا ایک ٹکڑا ہے۔جس پر ’’قبضے‘‘ کی خاطر ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں۔ٹرمپ کو ہرگز یہ احساس نہیں کہ مذکورہ زمین پر 80لاکھ انسان بھی موجود ہیں۔ان کی اکثریت یقینا مسلمان ہے۔ان انسانوں کو مگر روزگار کمانے کے لئے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں۔وہ اپنے عزیز واقارب سے آج کے نام نہاد Digital Villageمیں رابطہ کرنے کے تمام ذرائع سے محروم ہیں۔ ثالث کا ڈھونگ رچانے والے ٹرمپ کے ملک نے گزشتہ جمعہ کے دن محصور ہوئے 80لاکھ انسانوں کے بنیادی حقوق کی پائمالی کے بارے میں لیکن

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو محض سفارتی زبان میں ’’تشویش‘‘ کا اظہار کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔ مان لیتے ہیں کہ ٹرمپ نے دو قومی نظریہ کی صداقت جان لی۔ یہ تسلیم کرنے کے بعد جان کی امان پاتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھانا ضروری ہے کہ معاملہ جب مسلم اور غیر مسلم کے درمیان فرق کا ہو تو ٹرمپ ذاتی طورپر کس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔جن دوستوں کو اس سوال کا جواب جاننے میں دِقت ہو انہیں فقط یاددلانا ضروری ہے کہ امریکی کانگریس میں دو مسلم خواتین بھی موجود ہیں۔

ان میں سے ایک کا نام راشدہ طلیب ہے دوسری کا نام ہے الحان عمر۔راشدہ کا آبائی تعلق فلسطین سے ہے اور الحان کا صومالیہ سے۔یہ دونوں خواتین اسرائیل کی شدید ترین نقاد بھی ہیں۔ٹرمپ مگر ان کو ’’یہودی دشمن‘‘ قرار دیتا ہے اور ان کے خلاف اپنے جلسوں میں “Go Back”یعنی اپنے وطن واپس جائو کے نعرے بھی لگواتا ہے۔ راشدہ حال ہی میں اپنی دادی سے ملنے فلسطین جارہی تھی۔ امریکی صدر نے اسرائیل کی حکومت سے ’’درخواست‘‘ کی کہ اس ’’یہودی دشمن‘‘خاتون کو اپنے ملک داخل نہ ہونے دے۔ نیتن یاہو نے حکم کی فوری تعمیل کی۔

امریکی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ جس میں وہاں کے صدر نے اپنے ہی ملک کی منتخب شدہ اراکینِ کانگریس کی کسی دوسرے ملک کے سفر میں اس انداز میں رکاوٹ ڈالی۔صحافیوں کے ساتھ ہوئی گفتگو کی جس کلپ سے ہم بہت شاداں ہیں اس گفتگو کو گوگل پر جاکر تفصیل سے دیکھیں۔ٹرمپ نے اسی گفتگو میں امریکی عوام کو یہ بتانے کی کوشش بھی کی ہے کہ اس کی مخالف ڈیموکریٹ پارٹی کو اب راشدہ اور الحان جیسی ’’یہودی دشمن‘‘ خواتین نے Hijackکرلیا ہے۔لہذا اس جماعت کے نامزد امیدوار کو آئندہ صدارتی انتخاب میں ووٹ نہ دیا جائے۔

تاریخی اعتبار سے ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ ’’اسرائیل نواز‘‘ تصور ہوتی رہی ہے۔اس کا ایک جیدرہ نما Sendersبھی ہے جو یہودی النسل ہے۔ اس نے منگل کی شام ہی ٹرمپ کو اپنا ’’یہودی‘‘ ہونا یاد دلایا ہے۔میں یہ سمجھنے سے ہرگز قاصر ہوں کہ اپنے ہی ملک میں یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف صف آرا کرنے کی کوششوں میں مصروف ڈونلڈٹرمپ کشمیر کے تناظر میں ابھری ہندو-مسلم تفریق میں خود کو ’’مسلمان دوست‘‘ کیوں ثابت کرنا چاہے گا۔

مسلمانوں سے امریکی صدر کی ’’محبت‘‘ کو ’’دریافت‘‘ کرتے ہوئے ہمیں ہرگز فراموش نہیں کر نا چاہیے کہ وائٹ ہائوس پہنچنے کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس عمل کی مخالفت ومذمت کی۔امریکی صدر مگر اسے کسی خاطر میں نہیں لایا۔یہ بات قطعاََ درست کہ ٹرمپ پاک-بھارت کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہوتا ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کی اس ضمن میں ’’ثالثی‘‘ کی کاوشوں کا حقیقی سبب لیکن مسلمانوں سے ’’محبت‘‘ نہیں بلکہ افغانستان سے اپنی افواج کو جلد از جلد ’’باعزت‘‘ اور ’’محفوظ‘‘ انداز میں باہر نکالنے کی خواہش ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •