جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اور سازشی نظریات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اصل چیز تو خبر ہی ہوتی ہے، تجزیے، تبصرے تو غلط بھی ہو سکتے ہیں کہ تعصب اور خواہش سے متاثر ہونے کا امکان رہتا ہے۔ اس امکان کے باوجود کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

جتنی اہم خبر اور اس کی صداقت ہوتی ہے اتنی ہی اہم خبر کی ٹائمنگ ہوتی ہے۔ کسی خاص موقعے پر کوئی خبر جاری کرنے کا فیصلہ بعض اوقات مستقبل قریب میں کسی متوقع خبر کے لیے زمین ہموار کرنے کی خواہش کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

دو خبریں دو دنوں میں سامنے آئی ہیں۔ فیس بک پر یار لوگوں کی سرگرمی سے اندازہ ہوتا ہے کہ توسیع والا معاملہ ان خبروں کو کھا گیا اور روز کے روز فیس بکی مارکیٹ میں بکتے سودے کو دیکھ کر دکان لگانے والوں نے ان خبروں کو زیادہ لفٹ نہیں کرائی۔ لیکن جو سازشی نظریہ میں بیچنا چاہ رہا ہوں اس کی رو سے یہ دونوں خبریں کچھ عرصے کے بعد دوبارہ ضروری ڈسٹنگ کے بعد سوشل میڈیائی مارکیٹ میں ہر سٹال پر ٹنگی نظر آئیں گی۔

پہلی خبر یہ ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس خارج کر دیا گیا جس میں الزام تھا کہ انہوں نے صدر علوی کو لکھا خط میڈیا کو ریلیز کر دیا تھا۔ منصفوں کے مطابق الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

دوسری خبر ایک میجر کی عمر قید کی آرمی چیف سے توثیق ہے جو بلوچستان میں ایک بچے کے اغوا اور تاوان میں مجرم ثابت ہوا۔ اسے فوج کے اپنے داخلی عدالتی نظام میں سزا سنائی گئی تھی، چیف نے معافی کی اپیل مسترد کر کے سزا برقرار رکھی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بیرون ملک پراپرٹی ڈیکلیئر نہ کرنے والے ریفرنس پر فیصلہ آنا باقی ہے۔ گمان ہے، تبصرہ ہے، تجزیہ ہے، سازشی نظریہ ہے کہ یہ فیصلہ اب زیادہ وقت نہیں لے گا۔ اس فیصلے کے بعد درج بالا دونوں خبروں کا حوالہ انہی فیس بکی دیواروں، آزاد میڈیا کے ٹاک شوز اور حق سچ کا بول بالا کرتے مضامین میں دیا جائے گا۔

کس حوالے سے دیا جائے گا؟ اگر ابھی یہ بتانے کی ضرورت باقی ہے تو کیا لازمی ہے کہ اس بیکار سے معاملے پر مغز کھپائی کی جائے؟ البتہ خاکسار کی خواہش ہے کہ ایسے حوالوں کی نوبت نہ آئے اور سازشی نظریے پر مبنی یہ تحریر بالکل بے بنیاد ثابت ہو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •