یوم آزادی کے موقع پر ڈسٹرکٹ جیل قصور میں منعقد ایک ”پر مسرت تقریب“ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ روز یو م آزادی کے موقع پر قصور ڈسٹرکٹ جیل کی انتظامیہ نے جذبہء حب الوطنی سے سر شار ہو کر جیل میں رقص و سرور کی ایک محفل کا انعقاد کیا۔ اس محفل میں پیشہ وارانہ رقصاؤں نے اعضا کی شاعری پیش کر کے مقامی پولیس انتظامیہ کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے لہو کو بھی گرمایا۔ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو کلپ جاری ہوا ہے اس میں ایک رقاصہ نے سبز ہلالی پرچم زیب تن کیا ہوا ہے اور وہ مو سیقی کی ہیجان انگیز دھن پر محو رقص ہے۔ جبکہ جیلر اور قیدی ”ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز“ کی عملی شکل بنے رقاصہ کے فن سے محظوظ ہوکر یوم آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کررہے ہیں۔

خبر ہے کہ آئی جی پنجاب نے اس خبر کا نوٹس لے لیا ہے اور قصور ڈسٹرکٹ جیل کی انتظامیہ سے اس واقع کی وضا حت طلب کر لی ہے۔ حالاں کہ جیل انتظا میہ کے خیال میں طلب تو دعوتی کارڈ کرنا چاہیے تھا۔ جیل انتظامیہ نے تقریب کے انعقاد سے قبل سو چا ہو گا کہ قیدلوں کو ذ ہنی دباؤ سے نکالنے کے لیے ماہر نفسیا ت کی خدمات لینا زما نہ جاہلیت کی روش ہے، عہد ِ جدید میں نفسیاتی امراض کا علاج مو سیقی سے کیا جاتا ہے چنا چہ جیل کی حدود میں رقص و سرور کی یہ تقریب قیدیوں کو ذہنی و نفسیاتی دباؤ سے نکلانے کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوگی۔

جیل انتظامیہ نے سوچا ہوگا کہ ہیجان انگیز موسیقی پر تھرکتے جسم، زندگی کی رعنا ئیوں اور رنگینوں سے کو سوں دور جا چکے قیدیوں کو زندگی کے دھارے میں لانے کے لیے بھی کارگر ثابت ہوں گے۔ جیل انتظامیہ نے سو چا ہو گا کہ جب تقریبَ پر مسرت کی وہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوں گی، جن میں جیلر اور قیدی ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر رقص ومو سیقی سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیں گے تو عوامی حلقے جیل انتظامیہ کی انسان دوستی اور جذبہء مساوات کو سراہے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ قیدیوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی جیل انتظامیہ پر تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسائیں گی۔

جیل انتظامیہ نے تقریب کے انعقاد سے قبل سو چا ہو گا کہ یہ تقریب سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی دلوں میں یوم آزادی کی اہمیت و افادیت کا احساس پید ا کرے گی۔ یہ تقریب نہ صرف رقصاؤں اور، سازندوں، کو اپنے فن کے اظہار کا موقع مہیا کرے گی بلکہ دم توڑتی ثقافت کو بھی فروغ دے گی۔ یہ تقریب فنکاروں کو معاشی دباؤسے نکالنے کے ساتھ ساتھ فن کے اظہار کے لیے فنکاربرادری کو نئے مواقعے بھی فراہم کرے گی۔ یہ تقریب رقص و سرور کی محافلوں کو نئی جہت عطا کرے گی، محافل بند کمروں تک ہی محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان کا دائر ہ جیل خانوں تک پھیل جائے گا۔ یہ تقریب رقص و موسیقی جیسے قدیم فنون کی آب یاری کا بھی اہم فریضہ ادا کرے گی

۔ جیل انتظامیہ نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ مغربی ممالک کی جیلوں میں قید یوں کے لیے کھیل کے میدانوں اور جم خانوں کی سہولت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے اور ہنر سیکھنے کے مو اقع دستیاب ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری جیلیں ابھی ان سہولتوں سے عاری ہیں۔ اگر ہم اپنے قیدیوں کو ہیجان انگیز مو سیقی پر تھرکتے جسموں کا رقص دیکھنے کی سہولت مہیا کردیں تو ہماری جیلیں ایک لحاظ سے مغرب کی جدید جیلوں پر برتری حاصل کر لیں گی، کیوں کہ مغرب کی جیلوں میں رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہونے کی سہولت دستیا ب نہیں ہے۔ جیل انتظامیہ میں پایا جانے والا مقابلے کا یہ ”مثبت رجحان“ یقیناً خود ان کی نظر میں قابل ستائش، قابل تقلید اور قابل تحسین ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •