“جنرل ایوب خان کمانڈر انچیف کیسے بنے؟”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مداخلت کی داغ بیل جنرل ایوب خان نے ڈالی۔ اپنی آپ بیتی ”فرینڈز، ناٹ ماسٹرز“ جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ ہے، میں وہ اپنے کمانڈر انچیف بننے کے واقعات کچھ یوں تحریر کرتے ہیں ”اس بات پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ جب جنرل گریسی کی ملازمت کی میعاد ختم ہوگی تو ان کی جگہ کسی پاکستانی کے کمانڈر انچیف بنائے جانے کا کس حد تک امکان ہے۔

”گریسی شاید اپنے عہدے پر قائم رہنا پسند کرتے لیکن عام خیال یہی تھا کہ پاکستانی فوج کی کمان کسی پاکستانی ہی کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہوکہ جب اکتوبر 1947ء میں قائداعظم نے پاکستانی فوجوں کو کشمیر بھیجنا چاہا تھا تو گریسی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی منظوری کے بغیر، جو سپریم کمانڈر تھے، ایسا حکم جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آکن لیک بیچ میں پڑ گئے اور ان کے کہنے سننے سے قائداعظم اپنے فیصلے میں تبدیلی کرنے پر راضی ہوگئے مگر اس کارروائی سے گریسی لوگوں کی نظروں سے گر گئے تھے۔“

جنرل ایوب خان کے مندرجہ بالا واقعے کو ذرا روک کر معلوماتی حوالے کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ فیلڈ مارشل آکن لیک دوسری جنگ عظیم میں ایک نامور برطانوی فوجی کمانڈر تھے۔ انہوں نے اپنی فوجی زندگی کا بیشتر حصہ ہندوستان میں گزارا۔ وہ پہلی مرتبہ 1941ء کے آغاز میں انڈین آرمی کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔ بعد ازاں فوجی ذمہ داریوں کے تحت کچھ عرصے کے لیے ان کا تقرر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں کردیا گیا۔ انہیں 1943ء میں دوبارہ انڈین آرمی کا کمانڈر انچیف بنایا گیا۔

اس عہدے پر وہ اگست 1947ء میں ہونے والی ہندوستان کی تقسیم تک کام کرتے رہے۔ تاہم ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد وہ دونوں ملکوں میں موجود برطانوی افواج کے سپریم کمانڈر کی ذمہ داریاں 1948 ء کے آخر تک نبھاتے رہے۔ فیلڈ مارشل آکن لیک کے مختصر تعارف کے بعد دوبارہ جنرل ایوب خان کے کمانڈر انچیف بننے کی آپ بیتی پر نظر ڈالتے ہیں۔

جنرل ایوب خان نے بتایا ”مجھے یاد ہے کہ نئے کمانڈر انچیف کے تقرر سے بہت دن پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان راولپنڈی آئے تھے اور ڈویژنل کمانڈروں کی کانفرنس ہوئی تھی جس میں شرکت کے لیے میں مشرقی پاکستان سے آیا تھا۔ وزیراعظم نے تمام اونچے درجے کے پاکستانی افسروں کو بلوایا تھا اور سرکٹ ہاؤس میں ان سے خطاب کیا تھا۔ اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ اب کے پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف کسی پاکستانی کو بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے لیکن ابھی کسی شخص کو منتخب نہیں کیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ عہدہ سب سے سینئر افسر کو نہ دیا جائے۔ وہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ اگر یہ عہدہ اس سے کمتر درجے کے افسر کو دیا جائے تو سینئر افسروں پر اس کا اثر کیا ہوگا۔

”انہوں نے کئی افسروں سے یہ بات پوچھی اور آخر میں مجھ سے مخاطب ہوئے۔ میں سرے پر بیٹھا تھا۔ انہوں نے کہا ’جنرل ایوب! آپ اس بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں؟‘ میں نے کہا ’جناب نہایت ادب سے مجھے یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ یہ سوال اٹھایا ہی نہیں جانا چاہیے تھا۔ ہماری فوجی تعلیم بڑی سادہ اور صاف ہے۔ فوجی افسروں کی حیثیت سے ہم اپنی انتہائی قابلیت کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اس کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ اپنے سے اونچے افسروں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ جو فیصلہ بھی کریں خواہ ہمیں پسند ہویا ناپسند، اسے ماننا ہمارا فرض ہے اور اگر کوئی اسے ماننے کو تیار نہ ہوتو اسے فوج سے تشریف لے جانا چاہیے۔‘ میرا خیال ہے کہ جنرل رضا اور بعض دوسرے لوگ چوٹی کے افسر گنے جاتے تھے اور وہ اس سلسلے میں دوڑ دھوپ بھی کررہے تھے۔ علاوہ ازیں جنرل افتخار کا بھی بڑا چرچا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ انگریز ان کی پشت پناہی پر ہیں۔ وہ بہت اچھے افسر تھے لیکن بدقسمتی سے وہ اور جنرل شیر خان جنگ شاہی میں ہوائی جہاز کے ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

”جنرل افتخار کے ساتھ لوگوں کی کم بنتی تھی اور پھر انہیں غصہ بھی جلد آجایا کرتا تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں کمانڈر انچیف کی حیثیت سے کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی لیکن اس میں شبہ نہیں کہ انہیں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا۔ جس وقت میں ایڈجوٹنٹ جنرل کی حیثیت سے راولپنڈی پہنچا تو اس زمانے میں نئے کمانڈر انچیف کے بارے میں بڑی افواہیں گرم تھیں۔ ایک دو مرتبہ میری بیوی نے بھی مجھ سے پوچھا کہ ’کس شخص کے کمانڈرانچیف بننے کا امکان ہے؟‘

”میں نے جواب دیا ’سچ پوچھو تو مجھے کچھ علم نہیں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ جو شخص بھی مقرر ہو میرے کام کا بوجھ جوں کا توں رہے گا۔‘ اس کے بعد لوگوں نے براہ راست مجھ سے پوچھنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ اس قسم کی گپ شپ سے جان چھڑانے کا عمدہ طریقہ یہ ہے کہ چھٹی لے لی جائے۔ چنانچہ میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر دو مہینے کے لیے چھانگلا گلی کی سرد پہاڑیوں پر چلاگیا۔ ستمبر 1950 ء کی ایک رات کو وزارت دفاع کے ایک افسر نے ٹیلی فون پر مجھے بتایا کہ آپ نئے کمانڈر انچیف چن لیے گئے ہیں۔

”مجھے ان عظیم ذمہ داریوں کا گہرا احساس تھا جو مجھ پر عائد ہونے والی تھیں۔ میں نے خدا سے دعا کی کہ وہ مجھے ہمت اور قابلیت عطا فرمائے تاکہ میں خود کو اس کام کا اہل ثابت کرسکوں۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو ملک کے لیے خاصی اہمیت رکھتا تھا۔ تقریباً دوسو سال کے بعد اس برصغیر میں ایک مسلم فوج کا کماندارِ اعلیٰ ایک مسلمان مقرر ہوا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اس ملک میں جس قسم کی بھی روایت اور جس قسم کے بھی معیار قائم ہوچکے ہیں، ابھی مدتوں فوج ان کے زیراثر رہے گی۔

”میں نے دل میں ٹھان لی کہ میں فوجی کام اور لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات میں اعلیٰ ترین مثال قائم کردوں گا۔ مجھے ایک نوخیز فوج کی تنظیم کا کام سپرد ہونے والا تھا۔ میرے لیے یہ آزمائش اور خدمت گزاری کا ایک عظیم موقع تھا۔ میری کوشش سب سے پہلے یہ ہوگی کہ مسلح افواج کے اراکین میں خودداری کا احساس پیدا ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور ذاتی قابلیت کی بناء پر پرکھے جانے کا سبق سیکھیں۔ مجھے جلد ہی معلوم ہوگیا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا میں نے سمجھ رکھا تھا۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •