صحافت پر پابندیاں کون لگا رہا ہے؟

عابد حسین - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجم سیٹھی
‘آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر جو کہا وہ بدمزہ تھا‘

پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ سال جب حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو اس کے رہنماؤں کی جانب سے متعدد بار اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر آزادی اظہار رائے کا بھرپور تحفظ کریں گے اور آزادی صحافت ان کے منشور کے اہم ترین جزو میں سے ایک ہے۔

لیکن اگلے 12 ماہ کے دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ ٹی وی چینلز پر حزب اختلاف کے موقف کو جگہ نہ ملی۔ چاہے پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما ہوں یا پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین، ان کے انٹرویوز اور عوامی جلسوں کو نشر ہونے سے روک دیا گیا۔

پرنٹ میڈیا پر بھی ایسے واقعات پیش آئے جس میں لکھاریوں کے کالم کو چھپنے کی جگہ نہ ملی جس کا ذکر انھوں نے سوشل میڈیا پر کیا۔ بالخصوص پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں خبر دینا تقریباً ناممکنات میں شامل ہو گیا۔

حکومتی موقف بار بار یہی رہا کہ وہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں لیکن ان تمام قدغنوں کے باوجود ذمہ داران کی جانب سے کوئی بھی خاطر خواہ وضاحت دیکھنے میں نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ان کے عوامل کیا ہیں۔

ایسا ہی ایک تازہ ترین واقعہ معروف صحافی نجم سیٹھی کے ساتھ پیش آیا جب چینل 24 پر چلنے والا ان کا شو چھ اگست کے بعد سے ‘آف ایئر’ ہو گیا اور چینل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تاحال ان کے پاس ایسی کوئی معلومات یا صورتحال نہیں ہے کہ وہ شو کو دوبارہ لا سکیں۔

اگست کے پہلے ہفتے میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد حکومت پاکستان اور فوجی حکام کی جانب سے رد عمل سامنے آیا جس پر معروف صحافی نجم سیٹھی نے منگل چھ اگست کی شب چینل 24 پر اپنا پروگرام کیا۔

لیکن شاید انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ پروگرام میں اُن کی جانب سے کیے گئے تبصرے کے باعث انھیں اگلے ہی روز ‘آف ائیر’ ہونا پڑ جائے گا۔

سات اگست کی شب نجم سیٹھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘چینل 24 ایچ ڈی پر میرا شو نشر ہونے سے روک دیا گیا ہے۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے بتایا کہ ‘پروگرام نشر ہونے کے اگلے روز چینل کی انتظامیہ کو چند ‘نامعلوم’ ذرائع سے پیغام دیا گیا کہ میں نے کشمیر کے معاملے پر کور کمانڈر میٹنگ اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے بارے میں جو کہا وہ ‘بدمزہ’ تھا۔’

https://twitter.com/najamsethi/status/1159117413264371713

نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ کوئی باضابطہ نوٹس نہیں تھا اور پیغام دینے والوں نے چینل کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نجم سیٹھی کا شو ختم کیا جائے اور انھیں چینل سے فوراً فارغ کیا جائے۔

‘اس کے علاوہ مجھے چینل 24 کی انتظامیہ نے بتایا کہ اُن پر وزیر اعظم کے قریبی حلقوں کی طرف سے بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔’

نجم سیٹھی نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ جب چینل کی انتظامیہ کو اندازہ ہوا کہ معاملہ نہایت سنگین ہے تو اس پر انھوں نے اپنے استعفے کی پیشکش کی۔

‘میں نے انھیں کہا کہ میں بخوشی اپنا استعفی دینے کو تیار ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے چینل کے باقی عملے پر منفی اثر ہو اور ان کی تنخواہیں رک جائیں۔ تو اس وقت صورتحال یہ ہے کہ میں اور میرا شو آف ائیر ہیں اور اس بارے میں کوئی بھی باضابطہ نوٹس بھی نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔’

دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نعیم الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ اس طرح کی کوئی بات (احکامات) وزیرِ اعظم آفس سے کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اس قسم کی حرکت نہ کرتے ہیں نہ کبھی کریں گے اور میں چینل انتظامیہ سے یہ بھی جاننا چاہوں گا کہ ان کو کس نے فون کیا۔‘

نعیم الحق کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف مختلف لوگ سازش کرتے رہتے ہیں اور غلط قسم کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ ’کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ میں وزیر اعظم آفس سے بات کر رہا ہوں۔ کیا گارنٹی ہے کہ وہ وزیر اعظم آفس سے ہی بول رہا ہو۔ آج کل جعلی کالز بھی ہوتی ہیں۔ جب تک مزید حقائق سامنے نہیں آئیں گے تو اس پر ردِعمل دینا بے کار ہے۔‘

‘تبصرے میں کیئر فل رہنے کی بات کی تھی’

اسی حوالے سے چینل 24 کی انتظامیہ سے جب سوال کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منگل چھ اگست کی شب ہونے والے شو کے مواد پر ایک رد عمل آیا اور کہا گیا کہ شو کو بند کیا جائے۔

چینل 24 کی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ رائے میں پروگرام میں ایسی کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی۔

‘کسی کو کوئی بھی چیز یا لفظ کبھی بھی ناگوار گزر سکتا ہے۔ اس شو میں نجم سیٹھی نے کشمیر کے حوالے سے سکیورٹی حکام کی میٹنگ اور حکومتی رد عمل، دونوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں کیئر فل یعنی احتیاط سے کام لینے کے الفاظ استعمال کیے، اور کہا کہ اس ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ جذبات میں کوئی ایسی کارروائی ہو جس سے پاکستان کو کوئی نقصان پہنچے۔’

چینل 24 کے سینیئر اہلکار نے تصدیق کی کہ ‘نامعلوم’ ذرائع نے مطالبہ کیا تھا کہ ‘نجم سیٹھی کا شو بند کیا جائے اور انھیں چینل سے فارغ کیا جائے لیکن چینل نے ایسا کرنا سے انکار کر دیا۔’

اس حوالے سے موقف جاننے کی غرض سے بی بی سی نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن ان سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

میڈیا
چینل 24 ماضی قریب میں مریم نواز کے جلسوں کی کوریج کرنے پر آف ائیر کر دیا گیا تھا

‘چینل 24 مسلسل دباؤ کا شکار’

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چینل 24 پر اس طرح کا دباؤ آیا ہے اور گذشتہ چند ماہ میں اس سے قبل بھی دو بار ان کے چینل کو بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں سے ایک معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔

چینل 24 کے اہلکار نے بتایا کہ مارچ کے آخر میں نجم سیٹھی نے ایک پروگرام کیا جس کے مواد پر نہ صرف میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کی طرف سے انھیں فوری نوٹس آیا بلکہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ذاتی حیثیت میں نجم سیٹھی کو ہتک عزت کا نوٹس بھی بھیجا گیا۔

اب یہ معاملہ عدالت میں زیر بحث ہے جہاں نو اگست کو اسلام آباد میں سیشن کورٹ میں پہلی سماعت بھی ہوئی۔

واضح رہے کہ اس سال مارچ میں نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں اشارہ کیا تھا کہ بنی گالہ میں ایک اہم ترین شخصیت کے ازدواجی معاملات میں رخنہ پڑ گیا ہے لیکن بعد میں وہاں موجود لوگوں نے معاملہ رفع دفع کرایا تھا۔

چینل 24 کی انتظامیہ کے مطابق پیمرا کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ شکایت کی صورت میں پہلے معاملہ ‘کونسل آف کمپلینٹ’ جاتا ہے جہاں بحث ہوتی ہے اور چینل بند کرنے کے کا یا جرمانہ لگانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

‘ہمارے معاملے میں پہلے چینل کو بند کیا گیا، پھر کونسل آف کمپلینٹ گئے اور اس کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے بابر اعوان نے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دباؤ ایک جگہ سے نہیں آ رہا بلکہ ہر جانب سے آ رہا ہے اور اس کا مقصد چینل کو بند کرنا ہے اور یہ ایک مشترکہ کوشش ہے۔’

پیمرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چینل 24 کے سینیئر اہلکار نے کہا کہ ان کی رائے میں یہ صرف موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ جو بھی اقتدار میں آیا ہے اس نے پیمرا کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے۔

‘پیمرا ایک غیر موثر، غیر فعال ادارہ ہے جسے ٹی وی چینلز پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نگرانی کا کام اُن کا ہے لیکن حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ذمہ داری کوئی اور نبھا رہا ہے اور پیمرا کو صرف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔’

بی بی سی نے پیمرا کے ترجمان سے موقف جاننے کے لیے سوالات بھیجے البتہ متعدد بار یاد کرانے کے باوجود جوابات نہیں دیے گئے۔

’کسی کا نام تو نہیں لیا تھا‘

نجم سیٹھی کی ملک سے غیر حاضری کی وجہ سے سماعت میں شرکت ان کی اہلیہ اور پنجاب اسمبلی کی رکن اسمبلی جگنو محسن نے کی۔

سماعت کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جگنو محسن نے بتایا کہ عدالت میں جج نے کہا کہ یہ کیس فوری نوعیت کا نہیں ہے اور کیونکہ نجم سیٹھی ملک میں موجود نہیں ہیں تو اگلی سماعت ستمبر میں ہو گی۔

ہتک عزت کے نوٹس پر بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے پروگرام میں کسی کا نام نہیں لیا تھا اور اشارتاً بات کی تھی۔

‘ہم نے نوٹس کے جواب میں کہا کہ کسی بھی فرد کا نام نہیں لیا گیا اور دوسری بات یہ کہ اگر کوئی فرد عوامی نمائندہ ہو، بالخصوص وزیر اعظم، تو ان کی ذاتی زندگی پر بات کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم کی تو ایک سابق اہلیہ نے ایک کتاب بھی لکھی لیکن ان پر تو کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔’

دوسری جانب جب اس کیس کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان سے بات کی گئی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نجم سیٹھی نے عمران خان کی شادی کے بارے میں بغیر ثبوت بات کی جس پر انھیں نوٹس بھیجا گیا لیکن انھوں نے اس کا کوئی قانونی نکتہ نہیں اٹھایا بلکہ آزادی اظہار رائے کا سہارا لیا۔

‘نوٹس کا وقت پورا ہونے کے بعد ہم نے ان پر دس ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا لیکن وہ نو اگست کی پیشی میں نہیں آئے اور کہا کہ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں۔’

بابر اعوان کا کہنا تھا نجم سیٹھی کو چاہیے کہ اپنے دفاع کے لیے وہ وطن واپس آئیں اور اپنا موقف عدالت میں پیش کریں اور بتائیں کہ انھوں نے نام نہیں لیے اور ان کے پاس تین ماہ ہیں تو وہ آئیں جواب دیں۔’

چینل 24 کے اہلکار سے جب ماضی میں کی جانے والی بندش اور اس کے طریقہ کار پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کوئی باقاعدہ نوٹس نہیں آتا اور نہ ہی کوئی کال یا ای میل آتی ہے بلکہ اب صرف واٹس ایپ پر پیغام بھیجے جاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کرنے کو کہا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مارچ میں بنی گالا والے پروگرام کے بعد چینل کو تین سے چار روز تک بند کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد پیمرا نے تو ایک ماہ بند رکھنے کا کہا تھا مگر چینل نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔

‘حال ہی میں مریم نواز کے لاہور اور منڈی بہاؤالدین کے جلسے کی کوریج کرنے کی وجہ سے تین چینلز کو 18-19 گھنٹے تک بند کر دیا گیا تھا جس میں ہمارا چینل بھی شامل تھا اور اُس بار بھی واٹس ایپ پر ہی احکامات دیے گئے تھے۔’

نجم سیٹھی کے شو کو دوبارہ نشر کرنے کے سوال پر اہلکار نے کہا کہ حالات دیکھتے ہوئے ‘بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11059 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp