کیا کائنات کا پہلا سیکولر ابلیس تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانوں کے مختلف گروہوں کے ہاں مختلف مقدسات رائج ہیں۔

ہم سیکولرز، لوگوں کے ہرگروہ کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ کسی مرئی یا غیرمرئی وجود کو، کسی وجہ سے یا بغیر وجہ سے مقدس جانتا اور مانتا ہو۔ (تقدیس کا مطلب یہ کہ کسی عیب یا غلطی سے پاک ہونا) ۔ تاہم یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ہم عمومی طور پر، سب مقدسات کے احترام کے قائل ہیں اور کسی شخص کے عقیدہ، نسل، رنگ اور زبان سمیت اس کے کسی ہیروکی تحقیرکرنا غلط سمجھتے ہیں مگریہ کہ حیات اجتماعی میں کسی چیزکی تقدیس کے پابند بھی نہیں ہیں۔

نہ کسی کی تحقیر، نہ کسی کی تقدیس۔

سماجی زندگی کے قوانین، صرف اس منطقی دلیل کی بنیاد پربنائے جائیں جوسماج کے ہرطبقے کی عقل کواپیل کرسکتے ہوں۔ اگر ایک ہمہ رنگ سوسائٹی میں، کوئی اقلیت یا اکثریت محض اس بنیاد پر ملکی قانون سازی کرے کہ ان کا عقیدہ فلاں کام کو جائز یا ناجائز سمجھتا ہے تو ہمیں قبول نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ بطور مسلم سیکولر، ہم اسلام کودلیل ومنطق سے تہی دامن اور معذور دین نہیں سمجھتے کہ اس کو سیکولرمکالمہ کے کسی پلیٹ فارم پہ پیش کرتے ہوئے ہمیں شرم آئے یا شکست خوردگی کا احساس ہو۔ ہمارا دعوی ہے کہ پرامن بقائے باہمی کا مدلل چارٹر۔ صرف دین اسلام میں ہے۔ (مگروہ دینِ اسلام جو قرآن میں مذکور ہے ) ۔

اس ابتدائی گزارش کے بعد عرض ہے کہ سیکولرزم سے اگر کسی طبقے کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ کٹھ ملائیت ہے۔ ہر وہ تحریک جس کی وجہ سے کسی مذہب وعصبیت کے کٹھ ملاؤں کے بزنس پہ اثر پڑتا ہو، وہ ان کے لئے موت وحیات کا معرکہ بن جایا کرتی ہے۔ سیکولرز تو رہے ایک طرف، کٹھ ملا کو تبلیغی جماعت سے بھی اس لئے چڑ محسوس ہوا کرتی تھی کہ وہ بندے اور خدا کے درمیان، کسی دلال اورایجنٹ کی نفی کیا کرتے تھے۔ (چنانچہ، پہلے تبلیغی جماعت کی مخالفت کرکے اور بعد میں اس کو ”ہائی جیک“ کرکے اب اس طرف سے وہ مطمئن ہوچکے ہیں) ۔

پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں، میں اپنے سیکولر احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ جس محفل میں کٹھ ملا تشریف فرما ہو، وہاں کوئی علمی گفتگو نہ کیا کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دلیل سے مکالمہ کرنے کی بجائے، عوام کے سامنے آپ کو ان کی مقدس شخصیات کا دشمن بنا کرمیدان جیت لے گا۔ یہ اس کا پرانا طریقہ واردات ہے۔

مجھے اس کا بارہا تجربہ ہوا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔

ایک بار محفل میں سیکولرزم پہ گفتگو کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ ایک سیکولر پارلمنٹ، مقدس کتابوں کے حوالوں پہ نہیں بلکہ دلیل اور زمینی حقائق کی بنیاد پہ فیصلے کیا کرے گی۔ ایک مولانا صاحب نے فوراً فرمایا کہ کائینات کا پہلا سیکولر ابلیس تھا کیونکہ اس نے خدا کی مقدس ہدایت کو بلادلیل ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

عرض کیا حضور، بات کو مقدس حوالہ جات کی طرف نہ لے جایئے کیونکہ ایسے ریفرنسز پر جو مزید سوال اٹھیں گے، وہ آپ سے برداشت نہیں ہوں گے۔

مولانا کا وار بہرحال کام کرگیا تھا اورحاضرین نے ان پر واہ واہ کے ڈونگرے برسا دیے تھے۔ ہر چہ باداباد، میں نے بات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عرض کیا ”مولانا، مرتد کی سزا اسلام میں کیا ہے؟“۔

مولانا چوکنے ہو چکے تھے لہذا خوب تول کرجواب دیا ”مرتد کی سزا تو قتل ہے مگرہرکسی کو اس کی اجازت نہیں۔ صرف خلیفہ وقت اس کے قتل کا حکم دے گا“۔

عرض کیا کہ اگرکبھی مجھے حکومت مل گئی اور میرے سامنے کوئی اسلام سے مرتد شخص لایا گیا تو میں اس کو قتل نہیں کروں گا بلکہ اس کو رائے کی آزادی دوں گا۔

کہنے لگے ”اس لئے کہ آپ سیکولر ہیں۔ مسلمان حکمران ایسا نہیں کریں گے“۔

عرض کیا ”تو پھر سوچ لیجیے کہ کائینات کا پہلا سیکولر ابدی حکمران کون تھا جس کے سامنے کائینات کا پہلا مرتد آیا تو اس نے اس کو قتل نہیں کیا تھا؟ “۔

مولانا تو خیرآئیں بائیں شائیں بھی نہ کر سکے لیکن یہی بات ایک اور دوست کے سامنے دہرائی تو اس نے کہا کہ خدا نے ابلیس کی آزادی رائے کا احترام تھوڑی کیا تھا؟ خدا نے اس کو سزا کے طور پر راندہ درگاہ بھی تو کیا تھا نا؟

عرض کیا۔ ”ہم لوگ مذہبی حوالوں سے پرہیز کیا کرتے ہیں اس لئے کہ اس سے ہر بات الجھ کر رہ جاتی ہے۔ البتہ میں اس کی توجیہہ یوں کرتا ہوں کہ اپنے باس سے رائے کے اختلاف کے بعد (بلکہ نافرمانی کے بعد) ، اس ملازم کواپنی کمپنی میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا تو باس نے اس کواپنی کمپنی سے فائر کر دیا (جو کہ منطقی فیصلہ تھا) ۔ تاہم، اس ملازم نے چونکہ کافی عرصہ سروس کی تھی (ابلیس نے ہزاروں سال عبادت کی تھی) تو“ اینڈ آف سروس ”ایوارڈ کے تحت اس کا منہ مانگا مطالبہ ( یعی دائمی عمر کا تقاضا) پورا کردیا گیا تھا۔ باقی وہ اپنی دلیل میں آج بھی آزاد گھومتا پھرتا ہے۔

عرض یہ ہے کہ میں اسلام کو سیکولر نظام حیات کا اولیں موسس مانتا ہوں۔ میرا دین ”لا اکراہ فی الدین“ کا ماٹو دیتا ہے۔ اور جو آدمی یہ بھی نہ مانے تو ہماری طرف سے ”لکم دینکم ولی دین“ کی آفر ہے۔

بات یہ ہے کہ میرا دین، دلیل کامقابلہ دلیل سے کیا کرتا ہے۔ (البتہ تلوار کا مقابلہ تلوار سے بھی کیا کرتا ہے اگر پہل دوسری طرف سے ہوئی ہو۔ پس یہ بھی مبنی بردلیل عمل ہوا) ۔ اور اسی کو سیکولرزم کہتے ہیں ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •