بلوچستان میں جبری گمشدگیاں: ’ابھی تک کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے 2018 میں حقوق انسانی کے حوالے سے متعلق اپنی رپورٹ میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تدارک ضروری ہے۔

اس رپورٹ کو کوئٹہ میں بھی جاری کیا گیا جس میں بلوچستان کے حوالے سے جن دو دیگر ایشوز کو اجاگر کیا گیا ہے ان میں بچوں کی غذائی قلت اور کان کنوں کی ہلاکت شامل ہیں۔

کوئٹہ میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کمیشن کے جن عہدیداروں نے یہ رپورٹ پیش کی ان میں آئی اے رحمٰن، حسین نقی،حارث خلیق، حبیب طاہر ایڈووکیٹ اورظہور شاہوانی ایڈووکیٹ شامل تھے۔

جبری گمشدگیوں کا مسئلہ

کمیشن کے رپورٹ میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگیوں کا دردناک سلسلہ 2018 میں بھی بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہا۔ رپورٹ میں بلوچ ہیومن رائٹس کمیشن اور بلوچستان انسانی حقوق کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2018 میں جبری گمشدگیوں کی کم از کم 541 جزوی اطلاعات سامنے آئیں۔

سیاسی کارکن ،طالبعلم،انسانی حقوق کے دفاع کار،وکیل، صحافی، مذہبی تنظیموں کے لوگ اور کئی لسانی اقلیتیں حالیہ برسوں میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک کسی کو بھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ پولیس لاپتہ افراد کے ایسے واقعات کی تحقیقات کرنے کی اہل نہیں ہے جن میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنیسیوں کے اہلکار ملوث ہوں۔ چاہے اس کی وجہ تربیت کا فقدان ہو یا اختیارات کی کمی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین جب بازیاب ہوجاتے ہیں تو ان کے بیانات نہیں لیے جاتے۔ جب معلوم ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد جیلوں اورحراستی مراکز میں ہیں تو ان کی حراست کی وجوہات معلوم کرنے کوشش نہیں کی جاتی تاہم عدالت عظمیٰ نے کئی مواقع پر ایسا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں میڈیا کے پاس ان واقعات کی رپورٹنگ کا بظاہر اختیار نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اس سنگین مسئلے کے حل کا سیاسی عزم نہیں رکھتی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے عہدیداروں نے کہا کہ کچھ لوگ بازیاب ہوتے ہیں تو ان سے زیادہ لاپتہ ہوتے ہیں جس کی فوری طور پر تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ بعض لوگ جرائم میں ملوث ہیں تو ان کو عدالتوں میں پیش کرکے ان کو فیئر ٹرائیل کا موقع فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا ان کے خاندانوں اورسماج کے لیے ایک غیر انسانی عمل ہے جس سے متشدد، منقسم ،غیر صحت مند اورعدم رواداری پر مبنی سماج تشکیل پارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد میں غیر متناسب طور پر شیعہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ ہزارہ علاقوں تک محدود ہیں۔ ان کی بازاروں اور تعلیمی اداروں تک رسائی محدود ہے۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکلتے ہیں تو ریاست نے انہیں سیکورٹی قافلوں میں لے جانے کا انتظام کیا ہے جو کہ ان کی سیکورٹی کی ضمانت نہیں دیتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ہزارہ برادری کے لوگ چونکہ اپنی سلامتی کے لیے باقی معاشرے سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے اور ان کے پھلتے پھولتے کاروبار تباہ ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کے باعث گزشتہ برسوں کے دوران قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے پاکستان میں لاچار زندگی بسر کرنے سے آسٹریلیا میں غیر قانونی نقل مکانی کے خطرات مول لینا بہتر سمجھا۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق(این سی ایچ آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران، دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 509 ہزارہ قبیلے کے افراد مارے گئے۔

غذائی قلت کے شکار بچے

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غذائیت کی کمی صوبے کے بچوں کی صحت کے لیے اب بھی ایک سنگین خطرہ ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ نومبر2018 میں صوبائی وزیر صحت نے بلوچستان میں غذائی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ دیرینہ غذائیت کی کمی پر قابو پانے کے لیے ایک نیوٹریشن سیل قائم کیا گیا تھا لیکن ریاست کو بلوچستان کے غیر محفوظ ترین گروہوں میں سے ایک کے تحفظ کے حوالے سے اپنے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی اور ان میں استحکام لانا ہوگا۔

کوئلہ کانوں میں کان کنوں کی ہلاکت کامسئلہ

بلوچستان میں کانوں کے حادثات میں خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں تین بڑے واقعات کو ریکارڈ کیا گیا ہے جن میں کم ازکم 57 کان کن ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ستمبر میں سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کو ایک پٹیشن کا جواب جمع کرانے کا کہا تھا جس میں 2010 سے اب تک 300 سے زائد کان کنوں کی اموات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود بلوچستان کی کانوں میں پیشہ ورانہ صحت اور تحفظ کی نگرانی کے لیے کسی قسم کے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ پر بلوچستان حکومت کا موقف جاننے کے لیے متعلقہ حکام سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے موقف نہیں دیا گیا۔

تاہم اس سے قبل سرکاری حکام جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سکیورٹی فورسز پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہزارہ قبیلے کے افراد کی سکیورٹی کے لیے خاطرخواہ اقدامات کیے گئے ہیں جس کے باعث ماضی کے مقابلے میں ان کی ہلاکتوں میں بڑی تعداد میں کمی آئی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق کوئلہ کانوں میں کان کنوں کے تحفظ کے لیے خاطرخواہ انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ بچوں میں غذائی قلت کے معاملے سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی اس سلسلے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9872 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp