سپریم کورٹ کا فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن اور لڑکپن میں پڑھی ہوئی کچھ کہانیاں، دیکھی ہوئی فلمیں اور ان کے کیریکٹرکچھ اس طرح سے دماغ میں نقش ہیں کہ آج سب حقائق کاپتا ہونے کے باوجود ایسالگتا ہے کہ وہ سب بالکل سچ ہیں اور ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک شرلاک ہومز کا کردارہے۔ ایک لمبے عرصہ تک تو ہم اسے حاتم طائی، امیر حمزہ، سندباد، الہ دین، سکندر و خضراور جیمز بانڈکے ساتھ ساتھ اصلی ہیرو ہی سمجھتے رہے۔ یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہماری طرح کے اوربھی بہت سے افراد کا یہی خیال ہے۔

شرلاک ہومز کا لندن میں 221 b بیکرز سٹریٹ میں موجود سجا ہوا گھر دیکھا تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم اپنے بچپن میں لوٹ گئے ہیں اور وہ ابھی کسی کمرے سے نکل کر اپنے ساتھی کو مخاطب ہو کر کہے گا۔ ”Elementary، my dear Watson“۔ ان تمام کرداروں اور کہانیوں کا ہماری زندگی پربہت گہرا اثر ہے۔ شرلاک ہومزکے خالق برطانوی مصنف سرآرتھر کونان ڈوئل کے مکالموں کاہومز کے ساتھ ہمارے کردار کی تشکیل میں بھی اہم ہاتھ ہے۔

”The Problem of Thor Bridge“

میں گولڈ کنگ، نیل گبسن کی بیوی قتل ہوجاتی ہے، جس کا الزام اس کے بچوں کی گورنس پر آتا ہے۔ گولڈ کنگ کے اپنی بیوی سے تعلقات اس جوان سالہ خوبرو ملازمہ کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔ تحقیق کے لئے شرلاک ہومز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ جب ہومز کو اصل بات کا پتا چلتا ہے تو گولڈ کنگ کہتا ہے، ”میں اقرار کرنا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسی خاتون کے ساتھ ہر وقت، ہردن، ایک ہی چھت کے نیچے اس طرح نہیں رہ سکتا کہ اس کے لئے میرے دل میں عشقیہ جذبات نہ امڈیں۔ مسٹر ہومز، کیا آپ (پھر بھی) مجھے مورد الزام ٹھہرائیں گے؟“

ہومز جواب دیتا ہے، ”میں تمہیں یہ محسوس کرنے پر الزام نہیں دیتا۔ لیکن اگر تم ان کا اظہار کرو گے تو میں الزام ضرور دوں گا، کیونکہ وہ جوان عورت تمہاری پناہ میں تھی۔“ پھر آگے وہ کہتا ہے، ”اس نوجوان عورت کی خاطر ہی تو میں نے اس کیس کو پکڑا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ جس کیس (قتل) میں وہ پھنسی ہوئی ہے، وہ اس سے زیادہ برا ہے جس کا تم خود اقرار کر رہے ہو۔ تم نے اس بے سہارا لڑکی کی زندگی تباہ کر دی ہے جو کہ تمہارے زیر سایہ کام کر رہی تھیَ۔“

اخلاقیات کا یہ بہترین سبق مصنف، ہومز کی زبانی اپنے قارئین کو دیتا ہے کہ جب کوئی کمزور انسان تمہاری پناہ میں آجائے اس کے ساتھ اس طرح کے جذبات کا اظہار انتہائی برا کام ہے۔

قدیم یونان میں طبیبوں سے جو حلف hippocratic oath لیا جاتا تھا اس کے الفاظ ہیں۔

”میں جس گھر میں بھی داخل ہونگا، صرف بیمار کی مدد کے لئے داخل ہونگا۔ اور میں جان بوجھ کر کوئی غلط یا نقصان دہ کام نہیں کرونگا۔ خصوصی طور پر مردوں اور عورتوں، آزاد اور غلام، کسی کے جسم سے کوئی زیادتی نہیں کرونگا۔ “

امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن دونوں مریض اور ڈاکٹر کے درمیان جذباتی لگاؤ، معاشی مفادات اور جنسی تعلقات بنانے سے سختی سے منع کرتے ہیں۔

معاشی، ذ ہنی یا عقلی طور پرزیادہ مضبوط اوربا اختیار طاقتور شخص کا اپنے کسی ملازم، مریض یا کسی مجبور ضرورت مند کے ساتھ ناجائز تعلقات کو برا سمجھا جاتا ہے اور اکثران تعلقات کو غیر قانونی بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اتنے فرق کی وجہ سے کمتر درجہ کا شخص یا عورت مکمل طور پر آزادانہ رائے کا اظہار نہیں کرسکتی اور اس کی اجازت قانونی درجہ پر پوری نہیں اترتی۔

عدالت، وکیل، پولیس اور جج کے ساتھ ملازم، ملزم اورسائل کے تعلقات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کسی جج پرایسے تعلقات کا الزام آیا تو اس کو اپنی کرسی چھوڑنی پڑ گئی۔

انڈین سپریم کورٹ کے سابق جج اے کے گنگولی پر زیر تربیت خاتون وکیل نے جنسی ہراسمنٹ کا الزام لگایا۔ اگر چہ واقعہ اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا تھا لیکن سپریم کورٹ نے تحقیقات کے لئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے اس پر فرد جرم بھی عائد کردی۔ جنوری 2014 میں گنگولی کو مغربی بنگال کے انسانی حقوق کے کمیشن سے مستعفی ہونا پڑا۔ بعد میں اس عورت نے پولیس کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا، اور گنگولی کو ان الزامات سے بری کردیا گیا۔

اخلاقیات کسی بھی معاشرہ کی عزت و عزمت کا نشان ہوتی ہیں۔ اخلاق کی مضبوطی ہی انسان کو اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز کرتی ہے۔ اخلاقی اقدار، اچھی صحت، تعلیم، سکیورٹی اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کے ساتھ مل کر اعلیٰ معاشرہ کو بنیاد مہیا کرتی ہیں۔ **دنیا میں تمام قوانین اخلاقیات پر انحصار کرتے ہیں اور حدود کے قوانین میں تو صرف اخلاقیات کو ہی مد نظر رکھا جاتا ہے۔ اخلاقیات ہی ہمارے قوانین اور ان کی تشریح کو روشنی مہیا کرتی ہیں۔

مذہب کو قانون سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے لیکن اخلاقیات کے بغیر کوئی عدالت قائم رہ سکتی ہے، کوئی قانون بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی جج کام کرسکتاہے۔ گارڈین میں لکھنے والے مذہبی کالم نگار انڈریو براؤن کے مطابق ”جج مذہب کو چاہے چھوڑ دیں لیکن اخلاقیات کے بغیر کوئی جج نہیں ہو سکتا۔“ انگریز سیاست دان، مورخ اور منصنف جان ایکٹن، جن کا مشہور قول ہےِ ”طاقت بدعنوانی کو جنم دیتی ہے اور مکمل اختیارحکمران کو مکمل طور پر بدعنوان بنا دیتا ہے۔“ کہتے ہیں، ”آراء بد ل جاتی ہیں، طریقہ کاروآداب تبدیل ہو جاتے ہیں، مذاہب ترقی و تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اخلاقی قوانین لوح محفوظ پر لکھے ہوے ہیں۔“ وہ کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔

اخلاقیات کی مثالیں ہمارے ملک میں تو کم ہی ملتی ہیں۔ ہماری موجودہ حکمران پارٹی کے سربراہ پر ان کی پارٹی کی خاتوں ممبر قومی اسمبلی نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ وہ میڈیا پر آکر چلاتی رہی۔ اس نے کہا کہ میرے پاس خان صاحب کے پیغامات موجود ہیں۔ ان کا بلیک بیری بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ملک کی کسی عدالت نے اس کی کسی بات کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ا س خاتون کے واویلا کرنے  پر اعلیٰ ایوانوں کے ضمیر نے ”زمیں جنبش نہ جنبش گل محمد“ کا مظاہرہ کیا۔

اعلیٰ آئینی ادارے کے سربراہ کے دفتر کے اندر ملزم خاتون کے ساتھ جنسی مکالموں کی ویڈیو منظر عام پر آئی تو اس خاتون کی آواز کو اسی جج کی حوالات میں مقید کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ میں بہت بڑے بڑے نعرے لکھے گئے ہیں۔ ”اس ایک جج کی حرکتوں کی وجہ سے تمام عدلیہ کا سرشرم سے جھک گیا ہے۔“ لیکن یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا اس کایہ فیصلہ ایک نشان عبرت بھی ہے؟ کیا روایتی طور پر اس کو بھی فائلوں کی نذر کرنے کی راہ ہموار تو نہیں کی گئی؟

آئیے معروف شاعر مشتاق عاجزکا ایک شعر پڑھیں۔

گنگا جل سے میل بدن کا پاپی مل مل دھوئے
اس کو اجلا کون کہے، جو من کا میلا ہوئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •