”لفظ“ کے بلیک ہولز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کا اس دنیا میں لائے جانے کا یا ادھر آنے کا مقصد خود انسان کے لئے بے شمار صورتوں میں ایک معمہ بن جاتا ہے۔ سوال اٹھتے ہیں اور ذہن اپنی اپنی بساط کے مطابق جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر وہ عمل ہمارے لئے قابل تحسین ہے جس کو ہم کر رہے ہیں یا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ باقی ماندہ کا درجہ مستعار ہے۔ یعنی ہم ”وہ ہیں“ جو ”ہیں“ اور جو نہیں وہ ہم نہیں۔ بس اپنے اپنے mass یعنی کیمیائی وزن کو سمیٹ کر بیٹھے ہیں۔

بظاہر سب انسان ہیں، تمام اعضا مشترک بھی ہیں مگر ”بندے“ الگ الگ ہیں، یعنی سفر اپنا اپنا ہے، شناخت اپنی اپنی ہے۔ جیسے ہر لفظ اپنے الگ الگ معنی رکھتا ہے اور وہ معنی اس کے عمل سے ظاہر بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے خیال کے دائرے میں رہتے ہوئے سفر کرتے چلے جاتے ہیں۔ حتی کہ ایک چھوٹے سے ذرے ”ایٹم“ کو لیجیے جو اپنے اندر تمام ساختی حوالوں کے ساتھ ساتھ توانائی بھی رکھتا ہے۔ مختلف ایٹم مل کر مادے کو تشکیل دیتے ہیں جو اس کے حجم یعنی mass کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حجم مسلسل حرکت میں ہے اور ان دونوں کے حاصل جمع سے توانائی کا اخراج ہے

E= mc 2

رفتار مادہ روشنی کی رفتار ہے جو ”C“ میں بیان کی جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر طاقت حجم (mass ) کے مطابق ہوتی ہے۔ یعنی مادے کے ساتھ ساتھ روشنی کا وزن بھی ہوتا ہے۔ اندھیرے کمرے اور روشن کمرے کے وزن میں فرق ہے۔ یعنی اگر مادے کو توڑیں تو اس سے روشنی، آواز اور طاقت خارج ہو گی۔ جو ہمیں نیوکلیائی پاور کی شکل میں ملتی ہے۔ سائنس کا علم سائنسدانوں کا نہیں خدا کا علم ہے، سائنسدان اپنے شعور سے اس کو دریافت کرتے ہیں اور یہ شعور بھی اسی کا عطا کردہ ہے۔

اگر ایک درخت سے نکلنے والی طاقت کو neuclear power میں تبدیل کر لیں تو یہ طاقت ہمارے ملک کو ایک سال تک روشنی مہیا کر سکتی ہے، یعنی یوں سمجھ لیں کہ ہر ذرے، خلیے اور ہر ایٹم کو طاقت نے چاروں جانب سے گھیرا ہوتا ہے۔ بس شعور کی سطح اور افزائش اس کی نشان دہی کرتی ہے۔ اسی طرح موجودات کے تمام عناصر میں چاہے وہ ظاہرا مادی ہوں یا اخفائی مادی ہوں ان کی اپنی اپنی طاقت capacity ہوتی ہے اور یہ ہی اس کی شناخت بنتی ہے۔

اسی طرح الفاظ حرفوں سے مل کر بنتے ہیں، ان کے معنی کی اپنی اپنی طاقت ہوتی ہے، جس کو وہ ہی سمجھتا ہے جو اس کا شعور رکھتا ہے۔ بصورت دیگر وہ بھی ہمارے گرد موجود درختوں کی نیوکلیر پاور کی مانند غیر مستعمل پڑے رہیں گے۔ خدا نے لفظ کو انسان کو بندہ خدا بنانے کے لئے آسمانی کتابوں کی شکل میں نازل کیا۔ حدیث کے مطابق ایک لاکھ اور چوبیس ہزار پیغمبروں دنیا میں بھیجے گئے، جن میں سے 315 صاحب کتاب تھے۔ اگر بندہ خدا مستفید نا ہو سکے تو یہ اس کا مقدر ہے۔

خدا کا حکم ہے کہ!

”تمام ستارے بے نور کردیے جائیں گے“

مادہ اپنی طاقت اور الفاظ اپنے معنی کی وجہ تعظیم، وجہ تفسیر، وجہ تکریم اور شناخت کی وجہ بنتا ہے۔ تخلیق کار اپنا اپنا لفظ لکھ رہا ہے، قاری اس کو اپنی اپنی طاقت کی مطابق سمجھے گا اور عمل کرے گا ؛ اب لفظ کی حرمت خالق اور قاری دونوں پر آتی ہے کہ وہ اس کو سمجھیں اور پڑھیں کہ سب کے سب الفاظ اس ہی کے عطا کردہ ہیں ؛ بس ہمیں فری ول (Fred will ) کی سہولت عطا کی گئی ہے سو ہم اس سہولت کواستعمال کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور اگرلکھاری یا قاری اس سے انصاف نہیں کرتا تو وہ سب الفاظ وقت کے بلیک ہولز میں گر جاتے ہیں جس کی نا طاقت ہے اور نا چمک، س وہ دیو نما مادوں کا ڈھیر نظر کرم خالق کے در پر مراد کی آس میں بیٹھا رہتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •