انہونی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علیم ایک متوسط درجے کے خاندان کا انسان تھا۔ اپنی گریجویشن کے بعد وہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ 26 سال کی عمر میں اُس نے اپنی خود کی کمائی سے اپنا ماسٹرز مکمل کیا لیکن دو سال بعد اُس کے والدین ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ وہ اکیلا رہتا تھا اور کوئی زیادہ قریبی رشتہ دار نہ تھا اور آمدنی کا ذریعہ بھی بہتر تھا۔ اُس میں کچھ اضافی فن موجود تھا جیسا کہ کہانیاں لکھنا اور مصوری کرنا۔

یہ سب تو اُس کی شخصیت کا تعارف تھا اب آتے ہیں اصل کہانی کی جانب۔ علیم اکثر انٹرنیٹ پر چیٹ کیا کرتا تھا اور نیٹ پر اُس کے کافی دوست موجود تھے اور زیادہ دوستی ہالینڈ میں رہنے والی پاکستانی لڑکی زارا سے تھی جو کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہالینڈ میں رہائش پذیر تھی۔ وہ جانتی تھی کہ علیم کہانیاں وغیرہ لکھتا ہے اور کچھ ڈرامے بھی لکھ چُکا ہے اور آج کل علیم ایک فلم کی کہانی لکھ رہا تھا۔

کہانی کچھ یوں تھی ایک انسان جس کا نام جمیل تھا اُسکے دو بچے اور بیوی ہیں۔ وہ ایک نارمل زندگی گُزار رہا ہے لیکن ایک پُراسرار عادت موجود تھی جیسا کہ نیند میں چلتے ہوے گھر سے باہر بیٹھ جاتا یا کچن میں جا کر اپنے اوپر کچھ گِرا دینا اور ایک دن علیم کے ساتھ وہی پُراسرار مسئلہ ہوا اور اُسی رات اُس نے اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دیا اور اُس کے بعد خود کو بھی مار دیا۔ علیم یہاں تک کہانی لکھنے کے بعد تھک گیا اور سو گیا رات کو کہیں آنکھ کُھلی تو زارا کی کال آ رہی تھی۔

علیم نے کال اُٹھائی اور بات شروع کی تو زارا نے بتایا کہ ہماری گلی میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ایک شخص نے کچھ دیر پہلے اپنے دو بچوں کو اور بیوی کو مار دیا اور اُس کے بعد خود کو بھی گولی مار دی۔ علیم یہ سُن کر تجسس میں پڑ گیا اور زارا کو کہا ابھی مجھے مزید سونا ہے کل مجھے اس معاملے میں مزید بتانا۔ علیم کو کچھ حیرت تو تھی لیکن اگلے سب دن علیم زارا کی کال کا انتظار کرتا رہا کہ وہ مزید جان سکے۔ جوں توں زارا کی کال رات کو آئی اور اُس نے بتایا کہ اُس آدمی کا نام جان تھا اور اُسے نیند میں چلنے کی عادت تھی یہ سُن کر علیم گھبرا گیا کیونکہ اُسکی لکھی کہانی اور وہ واقعہ ہوبہو ایک جیسا تھا۔ علیم نے فلم کے پروڈیوسر سے بھی معذرت کر لی اور گھر پہ اکیلا رہنے لگا لیکن چند ہفتوں میں علیم بھول گیا اور اپنی روٹین کی زندگی میں واپس آ گیا۔

علیم کے پاس اب کوئی فلم کی کہانی تو نہ تھی لیکن وہ کچھ الگ لکھنا چاہتا تھا اُس نے ایک کہانی لکھنا شروع کی جس کا مرکزی کردار شانزہ تھا جو کہ ایک محنتی اور ذہین تھی آٹھویں جماعت سے ہی شانزہ نے ڈاکٹر بننے کا سوچ لیا تھا اور اس کے لیے محنت کرنے لگ گئی۔ شانزہ نے میٹرک میں امتیازی نمبر لیے اور انٹر میں بھی امتیازی نمبر حاصل کر کے میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا اور ایک سال بعد شانزہ کو اپنے والد کے معاشی حالات کی وجہ سے کالج چھوڑنا پڑا کیونکہ ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا اس لیے وہ گھر میں بیٹھ کر دعائیں کرتی رہتی کہ کہیں سے اُس کا کالج میں دوبارہ داخلہ ہو جائے ایک دن اُس نے اخبار میں عامل کا اشتہار دیکھا اور وہ اُس کے پاس گھر سے چُھپ کر چلی گئی لیکن وہ عامل کالا جادو اور ایسی چیزیں کرتا تھا جس کا علم شانزہ کو نہ تھا خیر عامل نے اُسے کچھ سامان دیا اور کہا کہ یہ سب چاند کی رات میں کسی بچے کی قبر کے قریب دبا دینا تمھارا کام ہو جاے گا اور شانزہ نے ڈرے سہمے ایسا کر دیا۔ کچھ دن بعد شانزہ کے ابو کا 15 لاکھ کا انعام نکل آیا اور اُنہوں نے شانزہ سے دوبارا داخلہ لینے کا کہہ دیا

پھر دو سال MBBS کے کیسے گُزر گئے اُسے پتہ بھی نہ چلا لیکن اب پڑھائی مشکل تھی اور شانزہ کے اچھے گریڈز بھی نہ آ رہے تھے اور باقی لڑکیوں کے طنز پہ شانزہ کا دِل دُکھتا تھا اور اگلے سیمسٹر میں شانزہ کے گریڈ مزید گر گئے اب شانزہ کو کچھ سمجھ نہ آرہی تھی آخر کار اُس نے اُسی عامل کے پاس جانے کا سوچا اور ایک دن اُسی کا پاس جا کر اپنا مسئلہ بتایا۔ عامل نے دوبارہ کچھ سامان دیا اور کہا کہ اسے کسی بچے کی قبر کے پاس کھود کر ڈال دینا۔ شانزہ نے یہ کام پہلے بھی بہت مشکل سے کیا اور اس بار بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی خیر ہمت کر کے چلی گئی اور گھبراہٹ میں کسی بوڑھے کی قبر کے پاس دفنا گئی اور اگلے دن شانزہ اپنا ذہنی توازن کھو چُکی تھی اُس کے پاس جو بھی جملہ بار بار دھراتی ’مجھے ڈاکٹر بننا ہے‘ ۔

علیم یہاں تک کہانی لکھنے کے بعد ضروری کام سے شہر سے باہر چلا گیا اور ایک ہفتے بعد واپس آیا اور آکر ٹی وی آن کیا اور نیوز پہ چل رہا تھا کہ ایک استاد نے بچے کو مار مار کر بے ہوش کر دیا۔ بنیادی طور پہ علیم ایک حساس انسان تھا اور وہ یہ چیزیں نہیں دیکھ سکتا تھا اگلی خبر میں ایک لڑکی کے بارے میں بتا رہے تھے جس کا نام شازیہ تھا جو کہ میڈیکل کی طالبہ رہ چُکی تھی اور اب اچانک پاگل ہو گئی اور کیونکہ ماں باپ کی اکلوتی تھی اس لیے گھر والوں نے پاگل خانے کے بجاے گھر میں ہی رکھا لیکن زنجیروں سے باندھ کر۔ علیم کو یہ سب مزید عجیب لگا اور اگلے دن علیم چینل سے معلوم کر کہ شازیہ کے پتے پر گیا اور جیسے ہی شازیہ کے سامنے گیا اُس کے الفاظ تھے :

”تم نے میرے ساتھ یہ سب کیا تم ہو میرے قاتل تم شبیر عامل بابا ہو ’

یہ سن کر علیم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ اب یہ محض اتفاقات سے حقیقت بن رہا تھا جیسا کہ ج سے جمیل اور جان اور ش سے شانزہ اور شازیہ، اب علیم نے عمل کو ڈھونڈنا شروع کیا اور آخر کار ملنے پر علیم نے پوچھ گچھ کی جس کا پہلے عامل نے انکار کیا پھر علیم نے کچھ پیسے دیے تو عامل رضامند ہوا تو علیم نے شازیہ کی تصویر دکھائی جس پر عامل نے جھٹ سے بولا کہ ہاں یہ میرے پاس آئی تھی اور سب بتا دیا اور یہ جان کر علیم پاگل سا ہو گیا کیونکہ اُسکی لکھی یہ کہانی بھی ہوبہو ایک جیسی تھی۔ وہ گھر آیا اور غصے میں چیزیں توڑنے لگا اور کچھ راتیں سو بھی نہ سکا۔

اب علیم اس سب کا ذمہ دار خود کا ٹھہرانے لگا اکیلے کمرے میں رہتا اور کہانیاں لکھنا بند کر دیں۔ اُس نے ایک دوست سے بھی ذِکر کیا لیکن اُس نے مذاق اُڑا دیا اور آخر علیم نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کہانی لکھے گا اور کہانی کے آخر میں خود کو مار دے گا اس طرح علیم نے جمعرات کی رات کو کہانی لکھی اور اُس میں خود کو مار دیا اور علیم اُس رات سو نہ سکا لیکن کہیں رات میں آنکھ لگ گئی اور صبح وہ ٹھیک ٹھاک اُٹھا اور وہ خوش ہو گیا کہ یہ سب اُس کا وہم تھا اور اُس کے ذہن میں جتنے خیالات تھے سب صفحوں پر لکھ ڈالا۔ اگلی جمعرات کو علیم رات کو نیند میں فوت ہو گیا اور اُس کی میز پر 11 کہانیاں لکھی ہوئی موجود تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احسن کیانی کی دیگر تحریریں
احسن کیانی کی دیگر تحریریں