کیا شادی کے بعد آپ کی بیگم حد سے زیادہ مذہبی ہو گئی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کینیڈا آیا تو جس شخص نے مجھے ایرپورٹ پر خوش آمدید کہا ان کا نام ڈاکٹر میکس ویلر تھا۔ انہوں نے ایر پورٹ پر میرے سوٹ کیس اپنی گاڑی میں رکھے اور وہ مجھے جین وے ہسپتال کے طالب علموں کے ریزیڈنس میں لے آئے جہاں میری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ کہنے لگے ”کل میں پھر آؤں گا اور آپ کو اپنے گھر لے جاؤں گا تا کہ آپ ہمارے ساتھ ڈنر کر سکیں۔“

جب میں میکس ویلر کے گھر ڈنر کھانے گیا تو میری ملاقات ان کی بیگم MELISSAمیلسا سے ہوئی جو نہایت خوش مزاج خاتون تھیں۔ ڈنر کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ لبرل خیالات کی مالک تھیں اور ایک سکول میں کنڈر گارڈن کے بچوں کو پڑھاتی تھیں۔ کھانے کے بعد اپنی رہائش کی طرف جاتے ہوئے میں نے دونوں میاں بیوی کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔

اس واقعہ کے چھ برس بعد کینیڈا کی ایک کانفرنس میں، جس میں میں ایک پیپر پڑھنے گیا تھا، اس جوڑے سے پھر ملاقات ہوئی۔ کانفرنس کے بعد سب مہمانوں کے ڈنر کا انتطام تھا۔ اتفاق سے میں جس میز پر کھانا کھانے بیٹھا ڈاکٹر میکس ویلر اور ان کی بیگم میلسا بھی اسی میز پر آ گئے۔ میلسا میرے دائیں طرف اور میکس میرے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ چند منٹوں کی گفتگو کے بعد میلسا نے مجھے اس وقت حیران کیا جب انہوں نے اپنے پرس سے ایک بائبل نکال کر مجھے عیسائیت کی تبلیغ کرنی شروع کر دی۔

پہلے تو میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا پھر میں نے میکس کی طرف دیکھا تو وہ قدرے شرمندہ دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے بھی میلسا کے احترام کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ جب میلسا واش روم گئیں تو میکس نے مجھے بتایا کہ ان کے ہاں ایک ذہنی طور پر معذور بچہ پیدا ہوا تھا۔ اس بچے نے میلسا کو اتنا پریشان اور دکھی کیا کہ اس نے مذہب میں پناہ ڈھونڈی اور اب وہ جب بھی انہیں موقع ملے وہ عیسائیت کی تبلیغ کرنی شروع کر دیتی ہیں۔ میکس اپنی بیوی کے حد سے زیادہ مذہبی ہونے پر نادم دکھائی دے رہے تھے۔

مجھے میکس ویلر کی طرح کئی اور شوہر بھی ملے ہیں جن کی بیویاں شادی کے بعد حد سے زیادہ مذہبی ہو گئی ہیں اور ان کی ازداجی زندگی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

چند سال پیشتر مجھے جنوبی افریقہ کے ایک ڈاکٹر ملے جن کی بیگم کراچی کی تھیں۔ کہنے لگے ”میری بیوی کی ہر سال مذہب میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب ہمارا بیٹا چودہ سال کا ہو گیا ہے۔ بیگم کہتی ہیں تم اسے جمعے کے دن مسجد لے جایا کرو۔“

میں نے پوچھا ”تو پھر کیوں نہیں لے کر جاتے؟“

کہنے لگے ”میری بیوی نہیں جانتیں کہ میں دہریہ ہوں اور میں کسی بھی خدا اور مذہب کے تصور کو نہیں مانتا۔ میں گھر میں سکون سے رہنے کے لیے مذہب کے موضوع پر خاموش رہتا ہوں اگر میری بیوی کو پتہ چلا کہ میں دہریہ ہوں تو وہ مجھے چھوڑ کر چلی جائین گی اور کہیں گے کوئی اور بیوی تلاش کر لو۔ میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں اور اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔“

مجھے ایک پاکستانی شوہر بھی ملے کہنے لگے ”میری بیگم فرحت ہاشمی کی مرید بن گئی ہیں اب انہوں نے گھر کو مسجد بنا لیا ہے۔ انہوں نے پورے خاندان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔“

میں نے اپنی ایک پاکستانی دانشور خاتون دوست سے پوچھا کہ ان کا اس موضوع کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کہنے لگیں ”میں کئی ایسی بیویوں کو جانتی ہوں جو اپنے شوہروں سے بہت نالاں اور ناخوش ہیں۔ کچھ نے شاپنگ میں پناہ ڈھونڈی ہے اور کچھ نے مذہب میں۔“ ان کا خیال ہے کہ عورتوں نے جمع ہونے کے لیے ایک کلب بنا لیا ہے جہاں مردوں کو آنے کی اجازت نہیں۔ شاپنگ کرنے والی بیویوں کو تو شوہر منع کرتے رہتے ہیں کہ وہ غیر ضروری شاپنگ نہ کریں لیکن مذہبی بیویوں کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ پاتے۔

میری دانشور دوست کا خیال ہے کہ بیویوں کا حد سے زیادہ مذہبی ہونا راہِ فرار ہے۔ طرہ یہ کہ شوہر اعتراض بھی نہیں کر سکتے۔ اگر مقابلہ مجازی خدا اور حقیقی خدا کے درمیان ہو تو مجازی خدا کے جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ میری دانشور دوست کا خیال ہے کہ تبلیغی جماعت میں جانے والے مرد اور فرحت ہاشمی کی پیروکار عورتیں اپنی ازدواجی اور خاندانی زندگی کی ذمہ داریوں سے کتراتی ہیں۔

بعض بیویاں تو شادی سے پہلے بھی مذہبی ہوتی ہیں اور شوہر بہت کچھ سوچ سمجھ کر ان سے شادی کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایک لبرل عورت سے شادی کرتے ہیں اور شادی کے چند سال بعد بیوی بہت نمازی پرہیز گار بن جاتی ہے برقع پہن لیتی ہے اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ لیتی ہے تو بہت سے شوہر گھبرا جاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ان حالات کا مقابلہ کیسا کریں۔

چاہے وہ بیوی ہو یا شوہر اگر وہ شادی کے بعد حد سے زیادہ مذہبی ہو جائے تو اس کا شریکِ حیات ایک بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض دفعہ مذہبی زندگی اور خاندانی زندگی میں توازن قائم کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔

یہ مسئلہ اس مسئلے سے کم نہیں جب دو مذہبی انسانوں کی شادی کے بعد کسی بیوی کا شوہر لامذہب ہو جائے۔ ایک بیوی نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنے لامذہب شوہر کو طلاق دے دی ہے اس کی بہن نے اس سے کہا کہ ”تمہارا شوہر تم سے محبت کرتا ہے وہ خدا کو مانے یا نہ مانے یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے کیونکہ اس نے اپنی قبر میں جانا ہے۔“ لیکن اس عورت نے کہا کہ ”میں ایک دہریہ کے ساتھ نہیں سو سکتی۔“

میں اپنے تیس سالہ پیشہ ورانہ تجربات کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے کلینک میں جو جوڑے مدد کے لیے آتے ہیں، چاہے وہ مذہبی ہوں، نیم مذہبی یا لامذہبی، ہم انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کی خوشحالی کا دارومدار conflict resolution skills پر ہے۔ جو جوڑے اپنے نفسیاتی اور سماجی تضادات کا حل خوش اسلوبی سے تلاش کر لیتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں اور جب تضادات نفرت، غصہ اور تلخی کا روپ دھارتے ہیں تو وہ جوڑے ناکام رہتے ہیں۔

میں کئی ایسے جوڑوں کو جانتا ہوں جن میں سے ایک شخص خدا اور مذہب کو مانتا ہے اور دوسرا نہیں مانتا لیکن وہ پھر بھی خوشحال ازدواجی زندگی گزارتے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں، ایک دوسرے پر اپنی رائے یا عقیدہ نہیں ٹھونستے اور ایک دوسرے کو گنہگار ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ عارف عبدالمتین کا شعر ہے

بس ایک ثبوت اپنی وفا کا ہے مرے پاس
میں اپنی نگاہوں میں گنہگار نہیں ہوں

ہم سب جانتے ہیں کہ ہر شخص کا اپنا ضمیر ہے اور اسے جلد یا بدیر اس ضمیر کی عدالت کے سامنے حاضری دینی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 269 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail