جب پنجاب کی مسیحی برادری پاکستان بنانے کے لئے آگے بڑھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

S P Singha

جب جون 1947 میں لارڈ مائونٹ بیٹن نے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت مقامی حکومتوں کے سپرد اقتدار کر کے رخصت ہو جائے گی تو اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو تقسیم کیا جائے گا۔ جو مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان سے متصل ہوں گے وہ پاکستان میں شامل کئے جائیں گے اور ان باقی علاقے ہندوستان کا حصہ بنیں گے۔ اور یہ تقسیم کرتے ہوئے اکثریت کے علاوہ ‘دیگر عوامل ‘ کو بھی مد ِ نظر رکھا جائے گا۔

پنجاب کی تقسیم کے لئے بننے والے کمیشن کے سربراہ ریڈ کلف تھے۔ یہ فراموش کر دیا جاتا ہے کہ اُس وقت کیا کچھ دائو پر لگا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت صرف گورداسپور یا کسی ایک ضلع کا سوال نہیں تھا بلکہ پاکستان کا مستقبل دائو پر لگا ہوا تھا۔ اس کا اندازہ اُن دعووں سے کیا جا سکتا ہے جو اس وقت کانگرس کے نمائندوں نے کمیشن کے روبرو پیش کئے تھے۔

کانگرس کا مقدمہ جس ٹیم نے پیش کیا اس کی قیادت سیتلواڈ صاحب کر رہے تھے۔ مسٹر سیتلوالڈ بھارت کے پہلے اٹارنی جنرل بنے۔ اور مسلم لیگ کے دلائل چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پیش کئے تھے اور ان کی اعانت فیروز خان نون صاحب کر رہے تھے۔ جب سیتلواڈ صاحب نے کانگرس کے مطالبات پیش کئے تھے۔ تو واضح کر دیا کہ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کس ضلع میں کس کی آبادی زیادہ ہے۔ نہ یہ دیکھنا کافی ہے کہ ان اضلاع کے منتخب نمائندوں نے ابھی کس ملک میں شامل ہونے کے حق میں رائے دی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف کرنے کے بعد کہ آخری مردم شماری میں ان اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، کانگرس کا یہ مطالبہ پیش کیا کہ گورداسپور، لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، لائلپور [موجودہ فیصل آباد]، منٹگمری [موجودہ ساہیوال]، اور سیالکوٹ کے اضلاع بھی بھارت میں شامل کئے جائیں۔ اور نہلے پر دہلا یہ مارا کہ دریائے چناب کو پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد بنانا مناسب ہو گا ور نہ بھارت کو بہت سی دفاعی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اگر نقشہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان اضلاع کو نکالنے کے بعد پاکستان کے حصہ میں پنجاب کا بہت کم حصہ آسکتا تھا۔ کشمیر کو علیحدہ کرنے کامنصوبہ اُس وقت تک تو بہر حال بن ہی چکا تھا۔ اسکے نتیجہ میں پاکستان کا قائم رہنا بھی مشکل ہو جانا تھا کیونکہ اُس وقت کسی ایک ریاست نے بھی پاکستان سے الحاق کاا علان نہیں کیا تھا۔

البتہ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کانگرس نے کیا دلائل پیش کئے تھے کہ کیوں یہ مسلمان اکثریت والے اضلاع بھارت کا حصہ بنا دیئے جائیں اور کیوں یہ نہ دیکھا جائے کہ ان کی اکثریت کس ملک میں شامل ہونا چاہتی ہے؟ کانگرس کے میمورنڈم میں یہ دلائل بلکہ تفصیلی ضلع وار اعداد و شمار پیش کئے گئے تھے کہ اگرچہ ان اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن ان اضلاع میں زیادہ ٹیکس تو ہندو دیتے ہیں، سیلز ٹیکس بھی ہندو زیادہ دے رہے ہیں اور زیادہ جائیدادوں کے مالک تو ہندو ہیں۔ ان کی نسبت مسلمانوں کا ٹیکس بھی کم ہے اور جائیدادیں بھی کم ہیں۔ اس لئے ان اضلاع کو بھارت کا حصہ بنانا چاہیے۔

پنجاب 1909 – مکمل سائز میں دیکھنے کے لئے نقشے کو کلک کیجئے

جب لاہور کے متعلق بات ہوئی کہ اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہیے یا بھارت میں تو کانگرس کی طرف سے ان دلائل کے علاوہ یہ دلائل پیش کئے گئے کہ لاہور میں زیادہ تر بنک آفیسر تو مسلمان نہیں ہیں اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسے پاکستان میں نہیں بلکہ ہندوستان میں شامل ہونا چاہیے۔ اور تعلیمی ادارے زیادہ غیر مسلموں کے ہیں۔ اور لاہور میں ریلوے کی ورکشاپ بھی ہے۔ اگر یہ ورکشاپ پاکستان میں چلی گئی تو بھارت کے پاس پنجاب میں کوئی ریلوے ورکشاپ نہیں ہو گی۔ اس لئے بھی لاہور کو بھارت میں شامل ہونا چاہیے، باوجود اس کے کہ لاہورکی اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہتی ہے۔

ضلع گورداسپور میں بھی مسلمانوں کی چند فیصد کی اکثریت تھی۔ اس کے بارے میں کانگرس نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ کانگڑہ اور امرتسر کے درمیان ریلوے لائن کٹ جائے گی، اس لئے اس ضلع کو بھی بھارت کے حوالہ کر دو۔ کانگرس کے بعد سکھوں کا میمورنڈم اس سے بھی خوب بلکہ توہین آمیز تھا۔ اس میں ایک یہ دلیل بھی پیش کی گئی تھی کہ پنجاب میں مسلمانوں کی زیادہ تر تعداد فقیروں، جولاہوں، موچیوں، کمہاروں، چوہڑو ں چماروں، ترکھانوں، تیلیوں، نائیوں، لوہاروں، دھوبیوں، قصائیوں اور میراثیوں پر مشتمل ہے اور ان کی زمین میں جڑیں نہیں ہیں۔ اور ان کے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے۔ جبکہ ہندو اور سکھ آبادی میں اس قسم کے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قطع نظر اس بات کہ یہ لایعنی دعویٰ محض ایک بھڑک سے زیادہ کوئی حیثیث نہیں رکھتا تھا۔ یہ پڑھ کر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ایک آدمی اور ایک ووٹ کا اصول اور مساوات کے سبق سب کیا ہوئے؟

اس کے برعکس مسلم لیگ کے میمورنڈم میں یہ اصول بیان کیا گیا تھا کہ پنجاب کی تقسیم کا فیصلہ یہ دیکھ کر ہونا چاہیے کہ کس تحصیل کی اکثر آبادی کس ملک کے ساتھ شامل ہونی چاہیے۔ اور ‘دیگر عوامل’ کو محض سرحد میں معمولی ردو بدل کے لئے زیر غور لایا جائے، ا س سے زیادہ اسے وقعت دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔

یہ تو ظاہر ہے کہ اُس وقت ہر تائید پاکستان کے وجود کے لئے اہم تھی۔ اور اس موقع پر پنجاب کی مسیحی برادری نے پاکستان میں شامل ہونے کی حمایت کی تھی۔ اور مسلم لیگ نے اپنے میمورنڈم میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ آپ صرف ان اضلاع میں مسلمانوں کی تعداد کیوں پاکستان کے حق میں سمجھ رہے ہیں۔ پنجاب کے عیسائی بھی تو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی زیادہ سے زیادہ برادری پاکستان میں شامل ہو۔ ان کی تعداد بھی مسلمانوں کے ساتھ شامل کر کے دیکھی جائے تو ان اضلاع میں پاکستان کے حامیوں کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اور اس ضمن میں اعداد و شمار پیش کئے گئے۔

جیسا کہ امید تھی یہ چیلنج کیا گیا کہ مسیحی برادری کے جن قائدین نے پاکستان میں شامل ہونے کی حمایت کی ہے، وہ مسیحی برادری کے نمائندے نہیں ہیں۔ چنانچہ 25 جولائی 1947کو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عدالت سے کہا کہ اب جائنٹ کرسچن بورڈ کے نمائندے پیش ہوں گے۔ چنانچہ پنجاب کی مسیحی برادری کے نمائندے وہاں پیش ہوئے اور ان کی طرف سے دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے نمائندوں اور ممبران ِ اسمبلی کا تعارف کرایا اور یہ موقف پیش کیا کہ ہم اپنے مستقبل کو پاکستان میں زیادہ روشن دیکھتے ہیں۔ اس لئے فیصلہ کرتے ہوئے ہماری تعداد کو پاکستان کے حامیوں میں شامل کیا جائے۔ اور عدالت نے اس بارے میں تحریری حوالہ بھی طلب کیا۔

صرف یہی ہی نہیں بلکہ پنجاب کے اچھوتوں  (Scheduled Cast) کی تنظیم کے صدر سکھ لال صاحب اور سیکریٹری پی ایس رام داسیا صاحب نے یہ تحریری میمورنڈم پیش کیا کہ اسلام تو برابری کا سبق دیتا ہے، اس لئے ہمارے ووٹوں کو بھی پاکستان کے حامیوں میں شامل کیا جائے اور بے شک اس غرض کے لئے ہماری قوم میں ریفرنڈم کرا لیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ پنجاب کی مسیحی برادری نے تو پاکستان کا حق ادا کر دیا۔ کیا ہم نے ان کی توقعات اور اپنے فرائض کو پورا کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •