جنسی ہوس کا شکار ہونے والے معصوم بچوں کے لئے انصاف
اسکے ساتھ ہی بچوں کے قہقہے اٹھے۔ ایک شور بلند ہوا۔ لیکن جنت کے باغ سے مختلف۔ جیسے بہت سے سور، بھیڑیے، گیدڑ سخت تکلیف میں جان کنی کے عالم میں دھونکنی میں جھونکے جاریے ہوں وہ بھیانک انداز سے چلا رہے تھے۔ خیں۔ خیں۔ اووو۔ اوو۔ غف۔
یہ شور بچوں کے باغ سے اٹھ رہا تھا دل ہلا دینے والی آوازوں کے ساتھ۔ بچوں کے گونجتے قہقہوں کے ساتھ۔ عورتوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ وقفے وقفے سے یہ آوازیں ترتیب کے ساتھ ابھرتیں اور تالیوں کی گونج پر ختم ہو جاتی۔ اس نے اپنے پیچھے باغ کے منظر پر نظر ڈالی۔ اس کے قدم پھر اسی سمت اٹھ گئے۔ وہ لڑکھڑا تی ٹوٹی پنسلوں کو ہاتھ میں دبوچے باغ کے اندر جا پہنچی تاکہ قریب سے یہ منظر دیکھ سکے۔
گزررر۔
گزرر کی ہولناک آواز کے ساتھ ہوا میں آگ کے کوڑے لہرا رہے تھے۔ وہ بچے جو باغ میں کھیل رہے تھے سارے یہیں موجود تھے۔ ان ننھے منے بچوں کے سامنے مسخ شکلوں والے لحیم شحیم انسان آگ کا کوڑا لگنے سے ڈھیر ہو کر زمین بوس ہو رہے تھے۔ بچے چابک دستی سے کوڑا لہرا لہرا کر ان سور کے منہ اور پھولے ہوئے جسموں والے بھیانک آدمیوں کو مار رہے تھے اور وہ عفریت پرست سور نما انسان چیختے چلاتے، روتے گڑگڑاتے گھٹنوں کے بل چلتے بچوں کے آگے رحم کی بھیک مانگ رہے تھے معافی مانگ رہے تھے۔
فریاد کر رہے تھے۔ کچھ بچے اپنے سے کئی گنا بڑی جسامت والے پر کئی میل لمبا آگ اور لوہے سے بنا گزر کسی رسی کی طرح ہوا میں لہرا کر، اس سور کے منہ اور پھولی ہوئی جسامت والے کے گرد لپیٹ کر دہکتے لوہے سے باندھ رہے تھے۔ تالیاں گونج رہی تھیں۔ پھر بچے ان پر آگ کے گزر چلاتے۔ کوڑے برساتے تھے۔ ان کی مائیں ایک طرف بیٹھی اس تماشے سے محظوظ ہو رہی تھیں۔ تالیاں بجا رہی تھیں وہ بھی بچوں کے قہقہوں سے محظوظ ہو نے لگی۔ مائیں شدت جذبات سے چلاتی تھیں۔ بھیانک انسان! ہوس کے ناسور یہ لے۔ یہ سنبھال میرے بچے کا وار۔
عفریت پسند لے اور لے۔ ان کی نفرت دیدنی تھی۔
یہ وہی تھے جنھوں نے جنت کا باغ اجاڑا تھا۔ بچوں سے ان کا بچپن چھینا تھا۔ ان کے معصوم جسموں سے اپنے بدبودار جسم کی ہوس مٹائی تھی ان کی جان لی تھی۔ پھول سے جسم بھنبھوڑے تھے۔ ان پر جسمانی تشدد کیے تھے۔
ہاں تمھارے بچے پھول ہیں یہ معصوم فرشتے ہیں۔ وہ بھی چلائی۔ دیکھو وہ اب بھی کھیل رہے ہیں اپنے جنت کے باغ میں۔
اس باغ میں جہاں ان انسان نما عفریتوں نے اپنے لئے مستقل جہنم تعمیر کر لی تھی۔ اس کی وحشت بھی کچھ کم ہوئی تھی۔
عفریت زدہ انسان گڑگڑانے لگے مائیں اور ان کے بچے قہقہے لگانے لگے۔۔۔ ہاتھی کی جسامت والے کیسے ننھے ننھے بچوں کے قدموں کو پکڑ کر معافی مانگ رہے تھے۔ کہاں گئی ان کی طاقت۔ ظلم کی طاقت۔ کس قدر لاچار ہو کر بچوں کے سامنے بے بس پڑے گڑ گڑا رہے تھے۔ چچ چچ اتنی بے بسی۔ اسکی ہنسی چھوٹ گئی۔
مائیں خوشی سے سرشار اپنے بچوں کی ہمت بندھارہی تھیں۔ اپنی ماؤں کی آوازیں سن کر بچے کا جوش و خروش اور بڑھا یہ کتنا قابل دید تھا۔ ان کے گرز آگ سے اور کڑکڑانے لگے۔ اژدھے کی مانند منہ کھولے ظالم انسان کو نگلتے اگلتے ان پر تیزی سے برسنے لگے انسان نما عفریتوں کے جسم ریزہ ریزہ چنگاریوں کی مانند ہوا میں بکھرنے لگے۔
آج اس منظر کو چھیننے والا کوئی نہیں تھا۔ آج بچوں سے جنت کے باغبان کا انصاف تھا۔
اس نے بھی ٹوٹی ہوئی نوکیں کاغذ پہ گاڑھی اور اطمینان سے عفریتوں کے چنگاری جیسے اڑتے بھیانک وجود کاغذ پر اتارنے لگی۔
نوٹ: یہ افسانہ بچوں پر بڑھتے جرائم، جنسی ہوس بہیمانہ سلوک و مظالم کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔

