سوئی بدستور گھبرانا نہیں پر…اور نواں پواڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے اپنے گھر میں آئے بجلی کے بل کو دیکھ کر دل کو جو گھبراہٹ ہوئی اسے بیان کرنے کو ایک کالم لکھ دیا۔میری دیانت دارانہ رائے میں یہ ایک ڈنگ ٹپائو کالم تھا۔ جمعہ کے روز اس کی اشاعت کے بعد مگر سوشل میڈیا اور ذاتی فون کے ذریعے جو تبصرے اور پیغامات ملے انہیں پڑھ کر اندازہ ہوا کہ شاید میں نے ہر گھر کی کہانی بیان کردی۔ ثابت ہوا کہ ہمارے متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کی آمدنی بہت تیزی سے سکڑرہی ہے۔انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ مسلسل کم ہوتی آمدنی کے ہوتے ہوئے وہ اپنا وہ معیارِ زندگی کیسے برقرار رکھ پائیں گے۔

جس کے وہ گزشتہ کئی برسوں سے عادی ہوچکے ہیں۔اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ہمیں اس امر کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ان دنوں اپنے معاشی حالات سے پریشان ہوئے گھرانوں کی بہت بڑی تعداد نے 2018کے انتخابات میں بہت چائو سے ’’تبدیلی‘‘ کی تمنا میں عمران خان صاحب کی تحریک انصاف کی حمایت میں ووٹ ڈالا تھا۔ ایسے افراد کی ایک بہت ہی مختصر تعداد اب ماضی کے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ حالات میں ’’گھبرانا نہیں‘‘ کا پیغام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ ’’اچھے دنوں ‘‘ کی امید دلائی جاتی ہے۔

’’اچھے دنوں‘‘ کا ذکر چلا ہے تو آپ کو یاد دلانا ضروری ہے کہ گزشتہ صدی کے وسط میں ایک ماہر معاشیات کا بہت تذکرہ رہا۔تعلق اس کا برطانیہ سے تھا۔جان مینارڈ کینز(John Maynard Keynes)نامی اس ماہر نے کسادبازاری سے نبردآزما ہونے کے لئے علم معیشت کے روایتی تصورات کے برعکس ایک نئی تھیوری متعارف کروائی تھی۔ چند دنوں سے میں اس تھیوری کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ سمجھ میں آگئی تو آپ کو بھی اس کے اہم نکات بیان کردوں گا۔فی الحال اس کا لکھا ایک فقرہ دو روز سے ذہن میں گونج رہا ہے۔انگریزی میں وہ فقرہ یوں بیان ہوا:”In the Long run we are all Dead”۔

آسان ترین ترجمہ اس فقرے کا یہ ہوسکتا ہے کہ ’’بالآخر ہم سب مرجائیں گے۔‘‘کینز نے یہ فقرہ مگر ایک خاص تناظر میں ادا کیا تھا۔حکومتیں جب قومی خزانے کو ’’خالی‘‘ بتاتے ہوئے خلقِ خدا پر ٹیکسوں میں اضافہ کرنا شروع کردیتی ہیں۔بجلی اور گیس کے نرخ بڑھاتی ہیں۔ لوگ بلبلااٹھتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ ناقابل برداشت دکھائی دینے والے اقدامات معیشت کو ’’صحیح سمت‘‘ پر ڈالنے کے لئے اٹھائے جارہے ہیں۔ان کی وجہ سے دو تین برس تک لوگوں کو یقینا بہت تکلیف محسوس ہوگی۔ اس کے بعد مگر بہتری اور بعدازاں خوش حالی نظر آنا شروع ہوجائے گی۔

اپنے اقدامات سے لوگوں کی روزمرہّ زندگی کو اجیرن بناتے حکمران اور ریاستی کارندے طویل المدتی یعنی Long Runکا ذکر کرتے ہوئے ’’بہتر مستقبل‘‘ کی جو امید دلاتے ہیں کینز نے درحقیقت یہ فقرہ ان کی سوچ کو حقارت سے جھٹلاتے ہوئے استعمال کیا تھا۔ یہ ویسا ہی فقرہ ہے جو ہمارے شاعر ’’تیرے وعدے پر جئے ہم …‘‘ خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک اور ’’ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے‘‘جیسے مصرعوں کی صورت بیان کرتے تھے۔ کینز مختصر ترین الفاظ میں ماہرین معیشت کو یہ کہتا تھا کہ مجھے ’’مستقبل‘‘ کے بارے میں دل کو تسلی دینے والی کہانیاں نہ سنائو۔ ’’موجود‘‘ پر توجہ دو۔

صرف اس سوال کا جواب دو کہ اس وقت ایک عام آدمی یا صارف کی زندگی کیوں اجیرن ہورہی ہے۔ہمارے بلھے شاہ نے تقریباََ ایسی ہی بات ’’آئی صورتوں سچاروہ ‘‘کی صورت بیان کی تھی یعنی کہ موجود پرتوجہ دو اور اس کے بارے میں سچ بولو۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ علم معاشیات میں امریکہ کی مشہور زمانہ یونیورسٹیوں سے PHDکرنے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ اور رضاباقر کینز اور اس کی تھیوری کو مجھ سے کہیں بہتر جانتے ہیں۔

سوال اٹھتا ہے کہ اس مشہور ِزمانہ تھیوری کو بخوبی جانتے ہوئے بھی وہ دونوں مجھے اور آپ کو یہ امید دلانے میں کیوں مصروف ہیں کہ ان کی بھرپور معاونت سے ملکی معیشت کو سنوارنے کے لئے IMFکے تیارکردہ جس نسخے پر کامل عملدرآمد ہورہا ہے، اس کے اختتام پر ’’اچھے دن‘‘ لوٹ آئیں گے۔ مصرمیں یہ دن تو ہرگز نہیں لوٹے۔ رضاباقر صاحب نے IMF کا تیارکردہ نسخہ اس ملک میں اپنی ذاتی نگرانی میں لاگو کیا تھا۔ IMFکی حالیہ تاریخ میں ارجنٹائن کو ہماری طرح فقط 6ارب ڈالر نہیں بلکہ 57ارب ڈالر کی صورت ایک ریکارڈ پیکیج دیا گیا تھا۔اس پیکیج کے اطلاق کے بعد ارجنٹائن کی 30 فی صد آبادی کو سرکاری طور(Officially) غریب یعنی Poor ڈیکلئیرکردیا گیا ہے جنہیں ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ جیسی معاونت کی ضرورت ہے۔

سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان میں IMFکے تیارکردہ نسخے کے اطلاق کے بعد عام آدمی کی حالت کیوں سنور جائے گی۔ یادرہے کہ مذکورہ نسخے کو ہمیں جولائی 2019سے مسلسل 39مہینوں تک استعمال کرنا ہے۔ مختصراََ ’’اچھے دنوں‘‘ کے لئے ہمیں ستمبر 2022 تک انتظار کرنا ہوگا۔ عمران حکومت جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے نمودار ہوئی تھی۔2023میں اسے نئے انتخابات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان کے دورِ اقتدار کے 39مہینوں میں مسلسل کیموتھراپی کرواتی خلقِ خدا آئندہ انتخابات کے دوران ہنستی مسکراتی ایک بار پھر کیوں تحریک انصاف کو مزید پانچ سالوں کے لئے منتخب کرنا چاہیے گی؟

مجھے گماں ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو شاید آئندہ 39 مہینوں کی شدت کا احساس ہونا شرو ع ہوگیا ہے۔میں ٹھوس اطلاعات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کررہا ہوں کہ عمران خان،ڈاکٹر حفیظ شیخ اور رضاباقر اُردو میں لکھے کالم ہرگز نہیں پڑھتے۔ وزیر خزانہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر انگریزی اخبارات میں معاشی موضوعات پر لکھے مضامین پر سرسری نگاہ ضرور ڈالتے ہوں گے۔ وزیر اعظم صاحب مگر ٹی وی ٹاک شوز پر توجہ دیتے ہیں۔ان کے فون پر جو ویڈیوز یا سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی کلپس وصول ہوتی ہیں اپنے ترجمانوں کو دکھاکر اس کا ردعمل دینے کی تلقین کرتے ہیں۔

اس حقیقت کے تناظر میں اہم بات یہ ہوئی کہ گزشتہ جمعہ کے روز کابینہ نے ملکی معیشت پر بھی غور کیا۔ہفتے کے دن وزیر اعظم صاحب نے اپنی معاشی ٹیم سے بھی طویل مشاورت کی۔ دو دِنوں تک جاری رہی صلاح ومشاورت کے بعد نیب کے چند اختیارات پر قدغن لگانے کے ارادے کا اظہار ہوا۔کاروباری افراد اور سرکاری ملازمین کو اب شاید نیب والے اپنے دفاتر میں طلب نہیں کیا کریں گے۔ساری توجہ ’’چور اور لٹیرے‘‘ سیاستدانوں تک مرکوز رہے گی۔’’نوائے وقت‘‘ میں چھپی ایک خبر کے مطابق وزیر خزانہ نے عمرن خان صاحب سے وعدہ کیا ہے کہ ستمبر کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں تھوڑی کمی لائے جائے گی۔

یہ تمام تراقدامات کہ جن کا وعدہ ہوا ہے کہ آئندہ 39 مہینوں میں میری اور آپ کی آمدنی کو بڑھانے نہیں بلکہ موجودہ مقام تک ہی برقرار رکھنے میں کیا مدد فرمادیں گے؟ اس سوال کا جواب فی الوقت میسر نہیں ہے۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ ہونے کی بھی کوئی ٹھوس یقین دہانی سننے کو نہیں ملی۔ محض دکھاوے کی لیپا پوتی ہے۔ سوئی بدستور ’’گھبرانا نہیں دو سے تین کڑے برسوں کے بعد اچھے دن شروع ہوجائیں گے‘‘ والی کہانی دہرائے چلے جانے پر اٹکی ہوئی ہے۔کینز کا بتایا وہی “Long Run”جس کے دوران شاعر نے ہم بدنصیبوں کی بابت ’’خوابِ عدم‘‘ کی بات کی تھی۔ ’’خوابِ عدم‘‘ کی اذیت سے بچانے کیلئے ٹی وی ٹاک شوز البتہ جاری ہیں۔سوشل میڈیا ہے۔ان پر توجہ دیں تو رشتے کروانے والی آنٹی ’’مسز خان‘‘ کا چرچہ ہے۔ پریانکا چوپڑا نامی کسی بھارتی اداکارہ کا ذکر ہے جس کی کوئی فلم میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کو ہماری مہوش حیات میدان میں اُترچکی ہیں۔

مسرت نذیر کے گائے ایک گیت میں بیان ہوا کہ ’’نواں پواڑا‘‘ یہ بھی ہے کہ نریندرمودی کو ہمارے ایک ’’برادرملک‘‘ نے اپنے ہاں کا اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا ہے۔ اس ’’برادرملک‘‘ نے لیکن ہمیں 3بلین ڈالر بھی دئیے تھے۔ ہمارے جنرل مشرف وہاں قیام پذیر ہیں اور اس ملک کی ایک کاروباری شخصیت ناصرلوتھا شہزاد اکبر مرزا صاحب کو تفصیل سے بتارہی ہے کہ شریف خاندان اور آصف علی زرداری نے مبینہ طورپر فیک اکائونٹس کے ذریعے ’’ناجائزذرائع سے کمائی دولت‘‘ سے کیسے کھیلا۔ اس ’’برادر ملک‘ سے ہم گلہ کس منہ سے کریں؟

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •