سعودی ماہی لبرل ہو گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی تو ایران کی تنہائی پر بات ہو رہی تھی اور خود کو دیکھا تو ہم بھی تنہا تنہا سے لگے۔

کشمیر کا مسئلہ جب بالکل ہی سر پر آن پڑا تو چمچماتی آنکھوں سے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو کوئی نہ تھا۔ ہم تو بڑے پاپولر تھے۔ ہمارے تو ڈھیر سارے دوست تھا۔ سب کہاں گئے؟ جن جن پتوں پر ہم تکیہ کیے بیٹھے تھے سب نے ہوا دے دی۔ جو ساتھ تھے وہ کہاں گئے؟ ایسا کیوں ہوا؟ کب ہوا؟ اور کس کس نے کیا؟ آئیے کچھ کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔

برادر عزیز سعودی عرب کوکیا ہوا؟

پاک سعودی تعلقات کی بنیاد تو 1940 میں پڑ گئی تھی جب آل انڈیا مسلم لیگ نے سعودی وفد کا استقبال کیا۔ 1943 میں شاہ عبدالعزیز نے 10 ہزار پونڈ کا عطیہ بھی دیا جو بنگال کے قحط زدہ لوگوں کے لئے تھا۔ اس بعد سے ہی ہماری امیدیں بندھ گیں کہ سعودی بھائی ہر برے وقت میں کام آیں گے۔ وہ کام آئے بھی۔ تعلقات نہایت خوشگوار اور دوستانہ ہوتے گئے۔ کراچی کے ایک محلے کا نام بھی سعودآباد رکھ دیا گیا۔ اور سب سے بڑی سڑک کا نام شاہراہ فیصل۔ فیصل ٹاون، ایک ایربیس اور پھر ایک پورے شہر کا نام فیصل آباد۔ شاید عزیزآباد نامی محلہ بھی شاہ عبدالعزیز سے منسوب ہے۔

بھٹو وزیراعظم بنے تو یہ دوستی اگلے دور میں پہنچی۔ اسلامی بم بنانے کا پلان اور پاکستان کو نیوکلیئر ملک کا اعزاز دینے کے فیصلے ہونے لگے۔ شاہ فیصل نے بھٹو کی درخواست پر مالی مدد فراہم کی۔ اسی زمانے میں پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور محنت کش افراد سعودی عرب میں کمائی کی غرض سے گئے۔ اسلام آباد میں مسجد تعمیر کی گئی اسے بھی شاہ فیصل کے نام کیا گیا۔ آخر کو رقم تو انہوں نے ہی فراہم کی تھی۔ اسی زمانے میں سعودی عرب سے طالب علم پاکستان کے میڈیکل کالجز میں علم حاصل کرنے آنے لگے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔

بھٹو نے دوسری اسلامی کانفرنس منعقد کی تو لگتا تھا کہ دنیا اب پاکستان کو احترام کی نظروں سے دیکھنے لگی۔ اس کانفرنس کے قائد تو بھٹو تھے لیکن خرچہ سعودی عرب نے اپنے ذمہ لیا۔ تیل بھی کبھی مفت کبھی ادھار اور کبھی آسان قرضے کی صورت میں ملتا رہا۔

پھر شاہ فیصل قتل ہوئے اور بھٹو پھانسی چڑھ گئے۔ ضیا الحق آئے اور ان کی خوش نصیبی کہ روس انغانستان میں گھس آیا۔ بس پھر کیا تھا سعودی عرب سے ریال اور امریکہ سے ڈالر کی بارش برسنے لگی۔ سعودی ریال کے ساتھ مذہبی انتہا پسندی بھی آئی اور ڈالر بھیجنے والوں کی بھی کچھ ایسی ہی خواہش تھی کہ روس سے جنگ عین مذہبی فریضہ سمجھ کر کی جائے۔

شاہ سعود کے جانے کتنے بھائی تھے کہ ایک کے بعد ایک بادشاہ بنتے چلے گئے۔ اور ان کے ولیعہد بھی ان کے بھائی ہی بنتے رہے۔ یہ عمر رسیدہ بادشاہ اپنی اسی دقیانوسی سوچ کو لے کر چلتے رہے۔ پاکستانیوں کے دلوں میں کچھ ایسا ڈالا کہ اب تک نہ نکل سکا۔ بے نظیر آیں، نواز شریف آئے، پرویز مشرف آئے، پھر بے نظیر اور پھر نواز شریف لیکن کوئی بھی اس ملک کو اس سوچ سے نہ نکال سکے۔ اور پاکستان الباکستان بنتا چلا گیا۔ ہمارا لباس، زبان اور سوچ پر بھی عربوں متاثر ہونے لگی۔ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس پر ”کراتشی“ لکھا دکھائی دینا لگا۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ شاہ سلیمان کی باری آگئی اور انہوں نے ملک کو نئے راستے پر ڈالنے کی ٹھان لی۔ اور پہلی بار ہوا کہ بجائے بھائی کے بیٹے محمد بن سلیمان کو ولی عہد بنا دیا۔ تبدیلی کی بات تو ہمارے ہاں ہو رہی تھی لیکن بدل وہ گئے حقیقت میں یہ ولیعہد محمد ہی، جو ایم۔ بی۔ ایس کہلاتے ہیں، ملک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے انقلابی اقدامات کیے۔ عورتوں کو قدرے آزادی دی۔ گھٹن میں کمی کے لیے سخت گیر پولیس کے اختیارات کم کیے جس نے سالوں سے ملک میں شخصی آزادی کا گلا گھونٹ رکھا تھا۔

اسی طرح تعلیم یافتہ سعودی خواتین کو اقتصادی دھارے میں لانے کی کوشیشیں کیں۔ اس انتہائی قدامت پسند ملک میں سیاسی اور ثقافتی تبدیلیاں بھی آ رہی ہیں۔ سینما گھر دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔ موسیقی کے کنسرٹس اور تھیٹر پرفارمنس کی بھی اب اجازت دی۔ لیکن وہ اپنے اندر کے آمر کو وہ نہیں مار سکے۔ سیاسی انتقام اور اظہار رائے پر سزایں اسی طرح برقرار ہیں۔ صحافی جمال خشوگی کا پراسرار قتل اس کا ثبوت ہے۔

اب ہوا یہ کہ ہم جب ان کے رنگ میں رنگے گئے تو انہوں نے رنگ بدل لیا۔ سعودی عرب رستہ بدل کرماڈرن ہونے لگا۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا۔

سانوں شریعت والے پل تے بلا کے

سعودی ماہی لبرل ہو گیا

ان برادرانہ تعلقات میں پہلی دراڑ پڑی جب سعودی عرب نے یمن پر چڑھائی کی اور پاکستان نے اس کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔ پھر جب سعودیوں کا ایران سے جھگڑا چلا اس وقت بھی پاکستان نے غیر جانبداررہنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ سعودی کچھ ناخوش ہوئے کہ اتنے ریال اور اتنا تیل ضائع کیا۔ پاکستان نے بدلے میں اپنا سپہ سالار پیش کردیا لیکن سعودی دلوں میں گرہ پڑ چکی تھی۔

اب اگر سعودیوں نے کشمیر کے مسلئہ پر ہمارا ساتھ نہیں دیا تو گلہ نہیں بنتا۔ سعودیوں کے لئے انڈیا ہر لحاظ سے بہتر چوائس ہے۔ وہاں تجارت کے بدلے تجارت ہے امداد نہیں۔ وہ تیل بھی مفت یا ادھار نہیں مانگتے۔ بھارتی مزدور بھی مکہ مدینہ میں بھکاری بن کر نہیں پھرتے۔ اب اگر انہوں نے مودی کو اعلی ترین اعزاز سے نوازا ہے تو ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سب سے بڑا روپیا ہوتا ہے۔

سعودی تو فلسطین پر بات نہیں کرتے، کشمیر ان کے لئے کیوں اہم ہو؟

آپ بے شک اپنے نایاب تلور انہیں پیش کرتے رہیں۔ وہ بے دردی سے انہیں شکار کرتے رہیں گے۔ لیکن کشمیر کے لئے وہ اپنے مالی فوائد ہرگز ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔

آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •