ملائشیا میں ایک دن ماہی کے ساتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملائشیا میں اپنا آخری دن میں نے کوالالمپور کی خاک چھانتے گزارا۔ ماہیما بختانی (عرف ماہی) شام ڈھلے تک میرے ساتھ رہی۔ اس دن جب بھی ہم ٹیکسی، میٹرو یا ٹرین میں سفر کرتے۔ یا کسی ریسٹورنٹ میں کچھ کھاتے، ماہی ادائیگی پر اصرار کرتی۔ اس کی ضد سے تنگ آکر میں نے اس کا والٹ (پرس) اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ اس کے ساتھ گھومتے پھرتے شعوری لاشعوری طور پر میں ملائشیا کی تیز رفتار ترقی کے متعلق سوچتی رہی۔ مجھے خیال آیا کہ کس طرح ٹھوس منصوبہ بندی اور حکومتی تسلسل کے ساتھ اس ملک نے اپنی معیشت کو مضبوط بنالیا ہے۔

ہم سب واقف ہیں کہ شعبہ سیاحت کو ملائشیا کی معیشت میں خاص مقام حاصل ہے۔ ملائشیاہر سال لاکھوں سیاحوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور اس کے بدلے کثیر زرمبادلہ کماتا ہے۔ کم لوگ آگاہ ہیں کہ ملائشیا نے شعبہ طب اور شعبہ تعلیم کو بھی اپنی معیشت کے ساتھ نتھی کر رکھا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں طبی سیاحت (medical tourism) کی اصطلاح عام ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ کم ترقی یافتہ ممالک سے لوگ اچھی طبی سہولیات کے لئے کسی دوسرے ملک کی جانب سفر کریں۔ یا ترقی یافتہ ممالک کے لوگ سستے (مگر معیاری) علاج کی غرض سے کسی دوسرے ملک کا رخ کریں۔

دس سال پہلے ملائشیا نے طبی سیاحت (medical tourism) کے فروغ کے لئے ہیلتھ کئیر ٹریول کونسل (healthcare travel council) نامی ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ آج ملائشیا میں طبی سیاحت کا شعبہ اس قدر کامیاب ہے کہ اس کا مقابلہ (اور موازنہ) اس کے ہمسایہ ملک سنگاپور سے کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں لوگ طبی سہولیات سے مستفید ہونے کے لئے ملائشیا کا رخ کرتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائشیا میں علاج کی غرض سے آنے والے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی شرح سے زرمبادلہ اور محصولات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شعبہ تعلیم میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ایک جانب تو ملائشین حکومت تعلیم کے لئے بھاری بھرکم سالانہ بجٹ مختص کرتی ہے۔ دوسری جانب سرکاری پالیسی کے طور پر غیر ملکی طالبعلموں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ غیر ملکیوں کے لئے ملایشین تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنا نسبتا آسان ہے۔ غیر ملکی طالبعلموں کی کثیر تعداد ملائشین جامعات کی عالمی درجہ بندی پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ باتیں سوچتے ہوئے میرا ذہن پاکستان کی معیشت، شعبہ تعلیم اور سیاحت کی طرف چلا گیا۔ میرے دل سے بے اختیار دعا نکلی کہ اللہ میرے ملک پر رحم فرمائے۔

واپسی پر ماہی نے اصرار کیا کہ میں کچھ دیر کے لئے اس کے گھر چلوں۔ وہ مجھے اپنی ماں سے ملوانا چاہتی تھی۔ اس کی ماں نے پی۔ ایچ۔ ڈی کر رکھی تھی اور ایک معروف ملٹی نیشنل کمپنی میں شعبہ افرادی قوت (human resource) کی سربراہ تھی۔ اس کی ماں سے مل کر یقینا مجھے خوشی ہوتی، لیکن شام ڈھل چکی تھی اور مجھے ہوٹل پہنچنے کی جلدی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ اپنی ماں کو میرا آداب عرض کرنا۔ اگلی بار ضرور ان کی خدمت میں حاضر ہو جاوں گی۔

ماہی نے مجھے میرے ہوٹل کے قریب پہنچایا۔ اب اسے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے اپنے گھر واپس جانا تھا۔ میرے دل میں اس کے لئے تشکر کے ڈھیروں جذبات تھے۔ بعض اوقات مختصر سفر میں بھی ہمیں کیسے اچھے اور مہربان لوگ مل جاتے ہیں۔ جو ہمیشہ ہمیں یاد رہتے ہیں۔ اس لمحے مجھے ترکی میں رہائش پذیر پاکستانی لڑکی شبانہ یاد آئی۔ حیدر آباد سندھ سے تعلق رکھنے والی، دھیمے لہجے میں بات کرنے والی شبانہ۔ اس کا ترکی نژاد شوہر استنبول میں ایک مشہور سیاحتی کمپنی کا مالک ہے۔

ایک مرتبہ استنبول میں وہ میرے لئے ہوٹل کی تلاش میں گھنٹوں خوار ہوتی رہی۔ میں لاعلمی میں ایک غیر معروف علاقے میں ہوٹل کا کمرہ بک کروا بیٹھی تھی۔ سیاحتی رت (tourist season) اپنے عروج پر تھی۔ اس شام شبانہ نے بلامبالغہ درجنوں ہوٹل چھان مارے۔ مگر کوئی کمرہ دستیاب نہ تھا۔ رات دس گیارہ بجے کے قریب شبانہ کی کوششیں رنگ لائیں اور مجھے استنبول کے بہترین سیاحتی علاقے سرکیجی (sirkeci) میں ایک کمرہ مل گیا۔ اس مہربانی اور خلوص کے لئے میں آج بھی شبانہ کی شکرگزار ہوں۔

مجھے ترکی کی ڈاکٹر ڈینس یاد آئی۔ وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور اپنے شعبے کی سربراہ۔ اس مرتبہ میں ترکی گئی تو میری خواہش پر وہ اپنی مصروفیات بالائے طاق رکھ کر اتوار کے روز میرے ہوٹل چلی آئی۔ سارا دن مجھے استنبول گھماتی اور طرح طرح کے ترکش کھانے کھلاتی رہی۔ پھر مجھے فلپائن کی عمر رسیدہ پروفیسر آسٹریلا کا خیال آیا۔ اس نے برسوں پہلے فلپائن کے نظام عدل سے متعلق مجھے انتہائی معلوماتی اور حیران کن باتیں بتائی تھیں۔

اس وقت اس کی باتیں سن کر مجھے پاکستان کی عدالتی تاریخ یاد آگئی تھی۔ جب بھی میرا کوئی تحقیقی مضمون (research article) ا سکی نگاہ سے گزرتا ہے، وہ ضرور اس پر اپنی رائے دیتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مشترکہ مضمون لکھنے کی تجویز بھی۔ میں ہر بار اس سے وعدہ کر لیتی ہوں۔ مگر بقول شاعر۔ وہ وعدہ ہی کیا، جو وفا ہو گیا۔

اگلے دن علی الصبح مجھے پاکستان روانہ ہو نا تھا۔ ہوٹل واپس آکر میں نے سامان باندھا اور فراغت کے بعد ٹیلی ویژن دیکھنے لگی۔ ان دنوں دنیا میں دو اہم سرگرمیاں جاری تھیں۔ ایک طرف جاپان کے شہر اوساکا میں G۔ 20 (group of twenty) سمٹ کا ہنگامہ تھا۔ دوسری طرف بحرین کے دارالحکومت مانامہ میں فلسطین کی معاشی ترقی کے حوالے سے ایک کانفرنس (peace to prosperity workshop) برپا تھی۔ جاپان کے سمٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو سعودی عرب میں ”آزادی نسواں۔ ” کے ضمن میں خصوصی اقدامات کرنے پر پر جوش تھپکی دی تھی۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اہم کردار ادا کرنے پر بھی ٹرمپ نے شہزادے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالے۔ لیکن جب صحافیوں نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے دہشت ناک قتل اور آزادی صحافت سے متعلق سوالات کیے تو شہزادہ سلمان اور صدر ٹرمپ کو یہ پوچھ گچھ انتہائی ناگوار گزری۔ ان سے کوئی جواب نہ بن پایا۔ الجزیرہ ٹی۔ وی ہر روز درجنوں بار یہ سوال اور دونوں شخصیات کے تاثرات کے مناظر دکھایا کرتا۔

یہ مناظر دیکھ کر میں سوچا کرتی کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، جو انسانی حقوق کا واویلا کرتے نہیں تھکتا۔ اپنے مفاد کی خاطر اس کے سربراہ نے خشوگی کے قتل پر کیسی بے نیازی (بلکہ ڈھٹائی) اپنا رکھی ہے۔ بالکل ویسی ہی ڈھٹائی جو اس عالمی طاقت نے کشمیری، فلسطینی، روہنگیا اور دیگر مسلمانوں کے قتل عام پر اختیار کر رکھی ہے۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ سعودی شہزادہ سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران ہمارے ہاں اس امر کو یقینی بنایا گیا تھا کہ کوئی پاکستانی صحافی سعودی شہزادے سے جمال خشوگی کے قتل سے متعلق سوال پوچھنے کی جسارت نہ کر سکے۔

دوسرا معاملہ جو الجزیرہ ٹی۔ وی پر دن رات زیر بحث رہتا، وہ بحرین کانفرنس تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے داماد کوشنر کی قیادت میں ہونے والی کانفرنس میں امریکہ نے فلسطین اور ملحقہ خطے کے لئے پچاس ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا تھا۔ اس رقم میں سے اٹھائیس ارب ڈالر براہ راست فلسطین پر خرچ ہونا تھے۔ لیکن فلسطینی قیادت اور عوام نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور یہ بھاری بھرکم معاشی پیکج بھی مسترد کر دیا تھا۔

جس وقت یہ کانفرنس ہو رہی تھی۔ فلسطینی سراپا احتجاج تھے۔ انہیں اربوں ڈالر کا پیکج نہیں صرف آزادی درکار تھی۔ یہ خبریں دیکھ کر میں سوچا کرتی کہ آزادی اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ اور پاکستان میرے رب کا کتنا حسین عطیہ ہے۔ کاش ہم اس ملک کی حفاظت کر سکتے۔ قائد اعظم نے کسقدر محنت اور جدوجہد کے بعد ہمیں یہ ملک دلایا تھا۔ مگرہم نے فقط چوبیس سال بعد ) 1971 میں ) اس کا ایک حصہ گنوا ڈالا۔ میں سوچتی رہی کہ یہ نہتے، مجبور اور مقہور فلسطینی پچاس ارب ڈالر ٹھکرا کر محض آزادی کے طلبگار ہیں۔

جبکہ پاکستان نے چند دن پہلے اپنی معاشی خود مختاری فقط چھ ارب ڈالر کے عوض آئی۔ ایم۔ ایف کے پاس گروی رکھوا دی ہے۔ یہ چھ ارب ڈالر، کوئی سرمایہ کاری نہیں، سود پر لیا جانے والا قرض ہے۔ عالمی ساہوکار عرصہ تین برس میں یہ رقم ہمیں قسطوں میں ادا (بلکہ عطا ) کرے گا۔ اگر حکومت پاکستان نے آئی۔ ایم۔ ایف کے احکامات کی حکم عدولی کی، تو وہ ہماری جھولی میں مونگ پھلی کے یہ دانے ڈالنا بھی بند کر دے گا۔

۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •