کیا ڈی ایس پی کے خون کا سودا کرکے جگر جلال بازیاب ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 80 اور 90 کی دہائی کا دور سندھ میں ڈاکؤں کے عروج کا زمانا تھا، اس دور میں پرو چانڈیو ایک بڑا نام تھا ڈکیتیوں کی دنیا کا، اغوا برائے تاوان، گھروں میں گھس کر ڈاکا ڈالنا، روڈ بلاک کرکے گاڑیوں کو لوٹنا یہ سب اس زمانے میں عام تھا۔

کہتے ہیں ڈاکو پرو چانڈیو کے مقابلے میں ہلاک ہونے کے بعد ان کے میت پر 11 ہزار اجرکیں پڑی تھیں۔ اس کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کے پرو چانڈیو ایک اصول پرست ڈاکو تھا، کیسی غریب کے لئے عذاب نھیں بنتا تھا۔ کہتے ہیں کہ گھروں میں ڈاکا ڈالنے کے وقت اگر کوئی خاتون پاک کلام ان کے آگے رکھتی تھی تو پرو سب لوٹا ہوا مال واپس کر دیتا تھا اور جب وہ کسی گاڑی سے ڈکیتی کرتے تھے تب کسی خاتون سے کچھ نھیں چھینتے تھے، ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر چلے جاتے تھے، یہ ہی اسباب بتائے جاتے ہیں ان کی میت پر 11 ہزار اجرکیں پڑنے کے۔

اس معاشرے میں جیسے جیسے ہر شعبے میں کرپشن اور بے ایمانی بڑھتی جا رہی ہے اسی طرح ڈاکوؤں کی دنیا بھی بدلتی جا رہی ہے۔ اب اس دنیا میں پرو چانڈیو کے زمانے میں جو اصول تھے اب وہ نہیں رہے ہیں۔ جیسے اس زمانے میں ڈاکو خواتین کا احترام کرتے تھے اب وہ دور نھیں رہا۔ سر پر دوپٹا رکھنے کا زمانہ پھر واپس کبھی نھیں آنے والا۔ اب تو ڈکیتی کے دوران ان متاثرہ خواتین کی عزت بھی محفوظ نھیں رہتی، ڈاکؤں کی دنیا میں وہ غیرت کا ایک دور تھا جو پرو چانڈیو کے نام سے جانا جاتا ہے۔

شکارپور کے کچے میں اب بھی ڈاکوؤں کی بادشاھی قائم ہے، جہاں پولیس کو بھی جانے کی ہمت نھیں ہے۔ جب وہ مقابلہ کرنے جاتے ہیں تو بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس کی ایک مثال گذشتہ دنوں سب نے ایک فنکار جگر جلال کے اغوا کے دوران ڈرامائی انداز میں دیکھی۔

وہ فنکار ہے بھی یا نھیں؟ لیکن اس کو بازیاب کروانے کہ لئے جو افسر شھید ہو گیا وہ ڈی ایس پی تھا۔ وہ ڈی ایس پی کیسے بنا اور یہ فنکار کیسے بنا یہ بھی ایک الگ بحث ہے۔ جگر جلال تو بغیر کسی تربیت، بس سر پر سندھی ٹوپی پہن کر ایک ہاتھ میں چپڑی اٹھا کر دوسرے ہاتھ میں یکتارا پکڑ کر اور (کوکو کورینا) گا کر ایک شارٹ کٹ آرٹسٹ بن گئے مگر وہ شھید افسر اتنا جلدی ڈی ایس پی نہیں بنے تھے جتنا جلدی جگر جلال فنکار بن گئے تھے۔

جگر جلال کے فن کے معیار کا اس بات سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکھتا ہے کہ اس کی بکنگ کہ لئے ایزی پیسا کرکے ایڈوانس 10 ہزار روپے بھیج دیے گئے تھے اور باقی 20 ہزار آنے کے بعد ملنے تھے۔ مطلب ٹوٹل 30 ہزار میں سازندوں سمیت 5 بندے فن کا مظاہرہ کرنے کو گئے تھے، وہ بھی کچے میں، شھر میں تو یہ 5 ہزار پر بھی چلے جاتے۔

کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جگر جلال ان ڈاکوؤں کی محفلوں میں آتے جاتے رہتے تھے۔ اس بار رقاصاؤں کو ساتھ نہ لانے پر ڈاکوؤں نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے؟ اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکوؤں نے آخر تک کسی بھی تاوان کا مطالبہ نھیں رکھا۔

ایک ڈی ایس پی ایک ایسے فنکار پہ قربان ہو گیا۔ اس کے بعد اس فنکار کی بازیابی کے لئے سرداروں کا سہارا لیا گیا اور سندھ سرکار یا پولیس نے سمجھو یہ بھی سرکاری طور پر مان لیا کہ ریاست کے اندر ایک اور بھی ریاست قائم ہے جس کا نام ہے کیٹی کچا۔

جگر جلال پولیس افسر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے۔

اب ہم بات کریں گے جگر جلال کی بازیابی کے ڈراپ سین کا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں سمیت کچے سے بازیاب ہوا ہے تب وہ ایک گھنٹے کے اندر شکارپور شہر تک پہنچتا ہے۔ اس سے پہلے جس فنکار نے یہ کہا تھا کے اس کو ڈاکوؤں نے ایسی جگہ پہ رکھا ہے جھاں پولیس تو کیا پاک فوج تک نہیں پھنچ سکتی، جب کہ اس جگہ پر موبائل نیٹ ورک بھی اچھی طرح کام کر رہا تھا۔

جب جگر جلال بازیاب ہوئے تب اس کا اور اس کے ساتھیوں کا چہرا یہ گواہی دے رہا تھا کہ وہ ڈاکوؤں کے پاس خوش باش تھے۔ شیو بنی ہوئی تھی، چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ جیسے کوئی بڑی جنگ فتح کرکے آیا ہو۔ وہ پولیس افسر بھی ان کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران مسکراتے نظر آرہے تھے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے تین ڈاکو مارے ہیں۔ وہ مسکراہٹ والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جو اب تک تنقید کی زد میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک جگر جلال کی بازیابی کے لئے پولیس نے کچے میں آپریشن کرکے ایک افسر کی قربانی دی پھر بھی، مغوی، سرداروں کی طاقت سے ہی واپس آئے۔ کیا اب ایک ڈی ایس پی کی خاطر کچے میں کوئی بڑا آپریشن ہوگا یا اس کے خون کا سودا کرکے پولیس نے ایک فنکار کو بازیاب کرا کے خود کو بھی آپریشن میں جانے سے بچا لیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •