یہ لڑکی خودکشی نہیں کر سکتی!

وہ قمبر کی نائلہ تھی، جس کی موت بھی اس ہی طریقے سے ہوئی تھی، یہ ایک ہائی پرفائل اشو بن گیا تھا، سندھ یونیوسٹی کے گرلز ہاسٹل سے ایک طالبہ کی لاش نے جو سوالات اٹھائے ان میں سے ایک جواب بھی ابھی تک نہیں آیا، سندھ یونیورسٹی کی سول سائٹی نے ایک ایک ایسی بات کر دی تھی جو ابھی تک لوگ پوچھ رہے ہیں کہ موت سے بچنے کے لیے بھی کوئی خودکشی کرتا ہے کیا؟ کہا گیا تھا کہ نائلہ کو ان کے بھائیوں سے سیاہ کاری کے الزام میں قتل کرنے کا خدشہ تھا اور اس قتل سے بچنے کے لیے اس نے خودکشی کے راستے کو چن لیا تھا، خیر اس وقت اس خون کو دبانے کے لئے بہت سے الٹے سیدھے بیانات آتے رہے۔

Read more

چانڈکا میڈیکل کالج کی نمرتا: یہ لڑکی خودکشی نہیں کر سکتی!

قنبر کی رہنے والی طالبہ نائلہ کی موت بھی اسی طریقے سے ہوئی تھی۔ یہ ایک ہائی پروفائل ایشو بن گیا تھا۔ سندھ یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل سے ایک طالبہ کی لاش نے جو سوالات اٹھائے ان میں سے ایک جواب بھی ابھی تک نہیں آیا۔ سندھ یونیورسٹی کی سول سوسائٹی نے ایک ایسی بات…

Read more

کیا ڈی ایس پی کے خون کا سودا کرکے جگر جلال بازیاب ہوا؟

سنہ 80 اور 90 کی دہائی کا دور سندھ میں ڈاکؤں کے عروج کا زمانا تھا، اس دور میں پرو چانڈیو ایک بڑا نام تھا ڈکیتیوں کی دنیا کا، اغوا برائے تاوان، گھروں میں گھس کر ڈاکا ڈالنا، روڈ بلاک کرکے گاڑیوں کو لوٹنا یہ سب اس زمانے میں عام تھا۔

کہتے ہیں ڈاکو پرو چانڈیو کے مقابلے میں ہلاک ہونے کے بعد ان کے میت پر 11 ہزار اجرکیں پڑی تھیں۔ اس کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کے پرو چانڈیو ایک اصول پرست ڈاکو تھا، کیسی غریب کے لئے عذاب نھیں بنتا تھا۔

Read more