تاریخ: حقیقت یا افسانہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکول کے زمانے میں نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم پڑھا۔ اسی زمانے میں مولانا غلام رسول مہر کی کتاب تاریخ اسلام ہاتھ لگی تو اسے بھی پڑھنا شروع کیا۔ محمد بن قاسم کے حالات پڑھتے ہوئے اس بات کا افسوس ہوا کہ مولانا مہر نے محمد بن قاسم کے اس دوست کا کوئی ذکر نہیں کیا جس نے نسیم حجازی کے بیان کے مطابق اس کی جان بچانے کی خاطر بڑی تگ و دو کی تھی۔ میں نے اپنے بھائی جان سے اس بات کا ذکر کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ نسیم حجازی نے ناول لکھا ہے، تاریخ نہیں۔ ناول کے بہت سے کردار ناول نگار کے خود تراشیدہ ہوتے ہیں۔ خیر بات سمجھ میں آ گئی اور اس کے بعد ناول اور تاریخ کے باب میں کبھی کنفیوژن نہیں ہوا۔

یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے۔ لیکن کچھ دہائیوں بعد مجھے یہ جان کر  تعجب ہوا کہ جس وقت مجھے ناول اور تاریخ میں فرق بتایا اور سمجھایا جا رہا تھا اسی زمانے میں فرانس کے کچھ دانش ور یہ نظریہ بیان کر رہے تھے کہ تاریخ اور فکشن میں کوئی فرق نہیں ہے۔

تاریخ نگاری کا باوا آدم ہیروڈوٹس کو قرار دیا گیا ہے۔ اسے جھوٹوں کا بادشاہ بھی کہا گیا اور یہ لقب اس کے نام کے ساتھ چپک کر رہ گیا تھا۔ لیکن زمانہ حال میں آرکیالوجی میں ہونے والی تحقیقات سے ثابت ہوا  ہے کہ ہیروڈوٹس کا جنگوں اور مخلتف علاقوں کے احوال کا بیان بہت حد تک درست ہے۔

ہیروڈوٹس کے نزدیک تاریخ کا انحصار دو باتوں پر ہے۔ یا تو یہ عینی شاہدین کا بیان ہے یا پھر روایت پر مبنی ہے۔ اس بات کے ذریعے وہ ہومر جیسے شاعروں کو تاریخ نگاروں کے زمرے سے خارج کرنا چاہتا تھا کیونکہ ان کا انحصار تخیل کی بے لگام پرواز پر ہوتا ہے۔ جب کہ تاریخ نگار کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ حقائق سے کھونٹے سے بندھا رہے۔

لیکن کیا کیا جائے تاریخ کو جھوٹ یا افسانہ قرار دینے والوں کو ایک فرانسیسی کا یہ قول بہت پسند آیا ہے کہ تاریخ ایسا جھوٹ ہے جس کو بالعموم تسلیم کر لیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا تاریخ میں سچ کا کوئی شائبہ ہوتا ہے؟ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پیرس کے دانش وروں نے ان خیالات کا پرچار شروع کیا کہ  تاریخ میں حقیقت یا امر واقعہ کوئی چیز نہیں، بس جس بات کو کسی معاشرے اور زمانے کے لوگ تسلیم کر لیں ان کے لیے وہی سچ ہے۔ یہ مفکرین صداقت کے دائمی اور آفاقی ہونے کا انکار کرتے ہیں، اس لیے ان کے نزدیک ہر دور کا اپنا اپنا  سچ ہوتا ہے۔ تاریخ میں بھی فیکٹ اور فکشن میں فرق کرنا ممکن نہیں، اس لیے حقائق کی تلاش کرنا سعی لاحاصل ہے۔

مابعد جدیدیت کے فلسفے کی رو سے مورخ کا کام تاریخی حوادث کی توجیہ بیان کرنا نہیں بلکہ اصول تعلیل کو ہی رد کرنا ہے۔ اسی طرح صداقت کے معروضی تصور کو بھی رد کرنا، کیونکہ یہ سب ازکار رفتہ ہو چکے ہیں۔ تاریخ دیگر فنون لطیفہ کے مانند جمالیات کا جزو ہے۔ چنانچہ تاریخی حقائق کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر نہیں ہو گا بلکہ اخلاقی اور جمالیاتی اقدار فیصلہ کن ہوں گی۔ تاریخ اور فکشن میں فرق کرنا ممکن نہیں اس لیے تاریخ کے بیان کو حقائق اور شواہد کی بنیاد پر پرکھنا ممکن نہیں۔ تاریخ بھی تخیل کا کرشمہ ہے۔ اس تصور کی انتہا یہ ہے کہ کسی خارجی حقیقت کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔

جس طرح روایتی عینیت پسندی کا دعویٰ تھا کہ حقیقت کا انحصار ذہن پر ہے، ذہن سے خارج کسی حقیقت کا وجود نہیں، اس لسانی عینیت پسندی کا دعویٰ ہے کہ زبان سے باہر کسی حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔ حقیقت جو کچھ بھی ہے وہ بس لسانی تشکیلات کا نام ہے۔ زبان اور متن خارجی دنیا کا آئینہ نہیں ہیں بلکہ خارجی دنیا کو وضع کرتے ہیں۔

اس بات سے یہ نتیجہ نکالنا شاید غلط نہ ہو کہ اگر کسی نے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور حکومت کا احوال جاننا ہو تو چاہے وہ تاریخ طبری کا مطالعہ کر لے اور خواہ الف لیلہ کی ورق گردانی کر لے، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ واقعات کے بیان میں تاریخ ابن خلدون اور داستان امیر حمزہ ایک ہی سطح پر ہیں۔ یہاں برٹرینڈ رسل کی بات یاد آتی ہے کہ بعض خیالات اتنے احمقانہ ہوتے ہیں کہ کوئی انتہائی پڑھا لکھا شخص ہی ان پر یقین کر سکتا ہے۔

تاریخ کا بنیادی فریضہ یہ جاننے کی سعی کرنا ہے کہ کوئی واقعہ حقیقت میں کس طرح رونما ہوا تھا۔ مورخ کبھی قانون تعلیل سے صرف نظر نہیں کر سکتا کیونکہ واقعات کی توجیہ بیان کرنا اس کے  فرائض میں شامل ہے۔ ناول افسانہ اور شاعری کی طرح تاریخ محض تخیل کی آماج گاہ نہیں بلکہ یہ حقیقی دنیا میں ہونے والے حقائق کو بیان کرنے کی سعی کرتی ہے۔ اس لیے اس پر بہت سی قدغنیں عاید ہوتی ہیں۔ اسے دستیاب شواہد کی بنا پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

تاریخ کے جتنے بھی مصادر ہیں ان کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ٹھہرتا ہے۔ ہم کسی بھی مورخ کے بیانات کواس کی شہرت یا مقبولیت کی بنا پر تسلیم نہیں کر سکتے۔ البتہ بیان کردہ واقعات کا جائزہ ہمیں بھی واقعہ بہ واقعہ لینا پڑے گا۔ اگر ایک مورخ نے چند واقعات درست بیان کیے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کے بیان کردہ دیگر واقعات بھی درست ہوں گے یا اگر اس نے چند مقامات پر ٹھوکر کھائی ہے تو اس کا باقی کام بھی ناقابل اعتبار نہیں ٹھہرے گا۔

تاریخ پر تحقیق کرنے والوں کو اکثر اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ان کا سامنا ایسے شواہد سے ہوتا ہے جن کی بنا پر انھیں اپنی پہلی آرا کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ہر تاریخی بیان تاریخ نگار کے اپنی اقدار اور تعصبات کے تابع ہوتا ہے۔

یہاں میں حالیہ تاریخ کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے تھے کہ پاکستان بننے پر کراچی میں پرچم لہرانے کی کی رسم مولانا شبیر احمد عثمانی کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب ہمارے ملک کے بہت نامور مورخ اور محقق ہیں۔ ان کا دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ بلاتحقیق کبھی کوئی بات نہیں کرتے۔ لیکن چند ماہ پیشتر انھوں نے اپنے کالم میں اس بات پر معذرت کی تھی کہ وہ کچھ لوگوں کی بات پر اعتبار کرتے ہوئے یہ بات لکھتے رہے ہیں۔ کسی کے توجہ دلانے پر جب انھوں نے سرکاری ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے۔ پرچم قائد اعظم نے خود لہرایا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کا کالم یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اگر تاریخ نگار کا مقصود حقائق کو جاننا ہو تو فیکٹ اور فکشن میں فرق کیا جا سکتا ہے۔

ماضی کا ہمارا جو بھی علم ہے اس کو بہتر بنانے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ نئے شواہد کی دریافت جو ہماری پرانی تصویر کو یکسر بدل کر رکھ دیں، یا مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے امتزاج سے ہم ان واقعات کو نئے تناظر میں سمجھ سکتے ہیں۔

اس بات میں شبہ نہیں کہ تاریخ میں سچ کی تلاش کرنا بھوسے میں سوئی دھونڈنے کے مترادف ہے۔ لیکن تاریخ میں تحقیق کرنے والے اس یقین کے ساتھ اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں کہ سوئی بھوسے میں موجود ہے۔ جس دن لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ سوئی کا کوئی وجود نہیں، اسی دن تاریخ کی تحقیق و تفتیش کا باب بند ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •