مصطفی کمال بدتمیز ہیں، ملاقات کے قابل نہیں: میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کو 24 گھنٹے بعد معطل کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میئر کراچی وسیم اختر نے شہر میں مسائل کو حل کرنے کے لیے سابق ناظم کراچی اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال کو دیے گئے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج کے خصوصی اختیارات 24 گھنٹے کے اندر ہی واپس لے لیے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال نے جب کراچی کو 3 ماہ میں صاف کرنے کی پیشکش کی تو میں تیار ہوگیا اور لبیک کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے میئر کے دستخط کے ساتھ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کو خصوصی اختیارات دیے، تاہم میری نیک نیتی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ریلیاں نکلوائیں، میڈیا اور اپنے حامیوں کو جمع کر کے خرافات اگلنا شروع کردیں۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ جب انہیں اختیارات دینے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیے تو انہیں دفتر پہنچ کر اپنی منصوبہ بندی سے متعلق بتانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کے پاس خصوصی اختیارات تھے لیکن وہ خود کو قومی احتساب بیورو (نیب) سمجھ بیٹھے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی پر کرپشن اور چائینا کٹنگ کا الزام عائد کر دیا۔ وسیم اختر نے کہا کہ انہوں نے پاک سرزمین کے سربراہ کے رویے کی وجہ سے اختیارات واپس لیتے ہوئے انہیں معطل کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال نے شہر کی صفائی 3 ماہ کے اندر کرنے کی پیشکش کی تھی جس کے لیے میئر کراچی سے خصوصی اختیارات مانگے تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کراچی کی صفائی کے لیے 3 نکاتی حل بھی پیش کیا تھا۔ اس کے بعد میئر کراچی وسیم اختر نے مذکورہ پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کو خصوصی اختیارات دے دیئے تھے اور انہیں پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کردیا تھا جبکہ اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا۔

نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد مصطفیٰ کمال نے میئر کراچی کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب میں کراچی صاف کرکے دکھاؤں گا’۔ مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ضلع شرقی، غربی، کورنگی اور وسطی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین اور یوسی چیئرمین عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ اب میں چارج لینے آ رہا ہوں۔

وسیم اختر نے کہا کہ نیک نیتی سے کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتا ہوں،کراچی کے مسائل پر وفاقی وزیرعلی زیدی سے بات کی،ہمیں سندھ حکومت وسائل نہیں دے رہی، ہمیں خود کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال کی پیشکش پراختلافات بھلا کر لبیک کہا، مصطفی کمال مجھ پرذاتی تنقید بھی کرچکے ہیں، افسوس ہوا کہ میری دیانتداری سے غلط فائدہ اٹھایا گیا، میئر کراچی نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے آپ کراچی کےلئے سنجیدہ نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال بدتمیز ہیں اور اس قابل نہیں کہ ان کے ساتھ ملا جائے۔

واضح رہے کہ کراچی اس وقت ناقص انتظامات کی وجہ سے مسائل کا گڑھ بن چکا ہے جس کی ذمہ داری بلدیاتی حکومت اور صوبائی حکومت ایک دوسرے پر عائد کرتی ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں حالیہ بارش کے باعث شہر کی سڑکوں پر پانی کئی روز گزر جانے کے باوجود موجود ہے جبکہ نالوں کی بندش کی وجہ سے بھی کئی مقامات پر گٹر کا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ جگہ جگہ گندگی اور کچرے کے ڈھیر بھی لگے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •