نئے دور کا نیا خاندان


اس امید کے ساتھ کہ ایک دفعہ نفیس اچھا ہوجائے گا تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ مارکیٹ سے تو ادھار مل جاتا ہے۔ پھر بینکاک کے بازاروں سے کھیپیں اٹھیں گی اور نہ صرف یہ کہ پچھلا قرض بھی اتر جائے گا بلکہ حالات بھی اچھے ہوجائیں گے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ وہ آہستہ آہستہ گھل گیا۔ دھیرے دھیرے پگھلتا گیا۔ اس کی ہڈیاں باہر نکلتی گئیں۔ کھال نے جیسے چاروں طرف سے جکڑ لیا ہو۔ چہرہ ایسا ویران جیسے کوئی ایسا صحرا جس میں نخلستان بنے ہی نہیں ہوں۔

چہرے پہ دو آنکھیں دھنسی ہوئی۔ اس کا جسم جیسے دیمک نے کھالیا تھا۔ پھر ایک دن وہ مرگیا۔ اس وقت شائستہ کا چھٹا مہینہ تھا۔ گھر میں نفیس کی ماں اور تین بچے تھے ڈاکٹر صاحب۔ نہ گھر میں پیسے بچے تھے اور نہ ہی گھر بچا تھا۔ سب کچھ اٹھ گیا نفیس کی بیماری پہ۔ اتنی مہنگی دوائیں کہ قرض دینے والوں نے بھی قرض دینا چھوڑدیا تھا۔ بڑی مشکل سے گھر چلایا ہے دوستوں نے مل جل کر۔ مچھر کالونی کی کچی آبادی میں ایک جھگی ڈال لی تھی اب وہیں پر رہ رہے ہیں۔ نفیس کی ماں بھی کام کرتی ہے، شائستہ بھی کام کرتی ہے۔ بس کسی نہ کسی طرح سے کام چل رہا ہے۔ ”

مچھر کالونی میری دیکھی ہوئی جگہ تھی۔ ایک دفعہ ایک میڈیکل کیمپ لگایا تھا ہم لوگوں نے وہاں۔ کھارادر سے ہوتے ہوئے کراچی سرکلر ریلوے کے اسٹیشن وزیر مینشن کے پاس پٹڑی کے ساتھ ساتھ کوڑے کے ڈھیر پر یہ آبادی بس گئی تھی۔ کچے مکان، کچا راستہ، کچی گلیاں، کچے نالوں پہ لاکھوں کی آبادی۔ نہ پینے کو صاف پانی اور نہ ہی سانس لینے کے لیے صاف ہوا۔ نالوں سے اُمڈتی ہوئی بدبو اور فضا میں کروڑوں کی تعداد میں ہر وقت مچھر ہوتے ہیں۔

ان مچھروں کی ہی وجہ سے اس علاقے کا نام مچھر کالونی پڑگیا تھا۔ مچھر کالونی میں مچھروں کی طرح کے ہی لوگ رہتے تھے۔ مچھر عورتیں، مچھر مرد، مچھر بچے بھن بھن کرتے ہوے کوڑے کے ڈھیر پہ گندی نالیوں کے اوپر۔ غریب لوگ بھی مچھروں کی طرح ہوتے ہیں نہ پیدا ہونے کی پلاننگ، نہ زندہ رہنے میں نخرے، نہ مرنے میں کوئی مسئلہ۔

مجھے یاد تھا کہ کیمپ کے ختم ہونے کے بعد میں کچھ گلیوں میں گھوما تھا۔ کچرے کے ڈھیر سے سڑانڈ اُٹھ رہی تھی۔ ننگے بچے، ننگے پیر گلیوں میں رُل رہے تھے۔ ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں انسانوں کو ٹھونس دیا گیا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ اسلام آباد سے ان لوگوں کو بلا کر یہ جگہ دکھاؤں جنہوں نے ایٹم بم بنایا ہے۔ جو میزائل داغ رہے ہیں، جن کی آنکھوں میں آبدوز کی چمک ہے، جن کی رات کی نیندیں ایف 16 لڑاکا جہازوں کے آواز کے بغیر بےکل ہوچکی ہیں، جو جہازوں میں بھر بھر کر سرکاری خرچے پہ عمرہ کرتے ہیں، شاپنگ کے لیے پیرس جاتے ہیں، اپنے بچوں کو بھیج کر سرکاری خرچ پر امریکا او یورپ میں پڑھاتے ہیں۔

جو قوم کی بقا کی بات کررہے ہیں، انہیں کیا پتا کہ قوم کس طرح سے رہ رہی ہے؟ مہذب ملکوں میں جانوروں کو بھی ایسے نہیں رکھا جاتا ہے۔ کاش میں انہیں دکھا سکتا کہ جن کے ووٹوں کی گنتی سے وہ اسلام آباد پہنچتے ہیں اور جن کے محنت کی کمائی سے ٹیکس کاٹ کاٹ کر انہوں نے اسمبلی کی عمارت بنائی ہے، وزیراعظم کا گھر بنایا ہے، صدر صاحب کا محل بنایا ہے، ان کی زندگی میں محرومی، بیماری، دکھ، غم پریشانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مگر یہ صرف خواہش تھی۔ نہ میں انہیں یہ سب کچھ دکھا سکتا تھا اوراگر وہ دیکھ بھی لیتے تو کیا کر لیتے ان کے مسائل کچھ اور تھے، ان کی دنیا کہیں اوراس دنیا کو چلانے کے لیے وہ سب کچھ کرنا پڑا ہے، ایٹم بم، ایف 16، آبدوز، جہاز، ایوان صدر، قومی اسمبلی کی عمارت، موٹروے اور نجانے کیا کیا۔ اگر عوام جاہل رہ جاتے ہیں اور قوم بیمار رہتی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر ایسے بزدل عوام سے خطرہ بھی تو نہیں ہے۔ مگر وہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ مچھروں کے ڈنک سے شاید نامردمی بھی ہوجاتی ہے۔ پورے ملک میں سارے عوام کو جیسے مچھروں نے ڈس لیا تھا۔ مچھروں سے ڈسے ہوئے نامرد عوام!

شائستہ جب بھی اسپتال آتی تو میں اسے ضرور دیکھتا اور اس کے آنے کے ساتھ ہی مچھر کالونی بھی اپنی بھیانک شکل صورت لے کر میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتی تھی۔

ہوا یہ کہ شائستہ کی بکنگ کے ساتھ ہی جو خون کے ٹیسٹ ہم نے کرائے اس کے مطابق وہ بھی ایچ آئی وی پازیٹونکل آئی تھی۔ شوہر نے بنکاک کا تحفہ پوری محبت کے ساتھ بیوی کومنتقل کردیا تھا۔ ہم مشرقی لوگ کتنے با انصاف ہیں، کچھ بھی تو نہیں رکھتے اپنے پاس، یہاں تک کہ بیماریاں بازار سے خریدتے ہیں اوربیویوں کوخلوص ومحبت کے ساتھ دے بھی دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہوا تھا شائستہ کے ساتھ۔

وہ پابندی سے ہسپتال آرہی تھی۔ اسے آئرن کے کئی انجکشن لگائے گئے۔ ہسپتال میں موجود جو بھی وٹامن کی گولیاں میسر تھیں اسے دی گئیں۔ دوستوں کے گھروں کے پرانے صاف ستھرے کپڑے جمع کرکے اسے اور اس کے بچوں کے لیے دیے گئے۔ کچھ دوستوں سے میں نے خاص طور پر اس کے لیے زکوٰۃ اور خیرات لے کر بھی جمع کیا کہ نجانے کب کتنے رقم کی ضرورت پڑجائے۔ حمل خود ایک ایسا عمل تھا جس میں کبھی بھی کسی وقت بھی کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہوسکتی تھی۔

میں نے کہا ہوا تھا کہ جب بھی شائستہ آئے اسے میں نے اورڈاکٹر عذرا نے ضروردیکھنا ہے اور اگر وقت پورا ہونے پر رات اوردن کے کسی بھی وقت آئے مجھے بلایا جائے تاکہ میں خود ہی اس کی ڈلیوری کراؤں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ جونیئر ڈاکٹر سب کچھ کریں۔ مجھے پتا تھا کہ ایچ آئی وی پوزیٹو مریضہ کے ساتھ کیا کرنا ہے اور کس طرح سے اس کا علاج کرنا ہے ناکہ اس کے ذریعے سے مزید بیماری پھیل نہ سکے۔

شائستہ بھولی بھالی ہونے کے ساتھ سمجھ دار لڑکی بھی تھی۔ اسے پتا لگ گیا کہ وہ ایچ آئی وی پوزیٹو ہے اور کبھی بھی کسی بھی وقت وہ خود اس مرض کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے۔ ہم سب کی دل جوئی کے باوجود بار بار تسلی دینے کے باوجود اس کی آنکھوں میں خوف کا سایہ لہراتا رہتا تھا۔ ایک تشویش ہوتی تھی اس کے چہرے پر، ایک کھنچاؤ تھا اس کے ماتھے کی شکنوں میں۔ اس کے گورے چہرے پر تاریکی تھی گہری جو صاف نظر آتی تھی۔ وہ جب بھی آتی نہ چاہنے کے باوجود ہم لوگ اداس ہوجاتے تھے۔

عام طور پر اس کے تینوں بچے اور ساس ساتھ ہی آتے تھے۔ یہی سب کچھ گھرانا تھا اس کا۔ نو سال کی بڑی بچی، چھ سال کا بڑا بیٹا اور پانچ سال کی ایک اور لڑکی۔ ایک بوڑھی ساس جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ بیٹے کے مرنے کے بعد ماں نے ساری محبت بیٹے کے بچوں پر نچھاور کردی ہے۔ مائیں اور کیا کرسکتی ہیں، کچھ بھی نہیں۔ ان کے پاس دینے کے لیے ہوتا ہی کیا ہے، پیار۔ پیار کا ایک ایسا ذخیرہ جو مرمر کر بھی بانٹتی ہی رہتی ہیں، اپنے بچوں کوبچوں کے بچوں کو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔

”ڈاکٹر صاحب بچہ پیدا ہونے کے کتنے دنوں کے بعد میں مروں گی؟ “ ایک دن اس نے پوچھا تھا، ٹھہر ٹھہر کر مگر کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3