اللہ تعالیٰ کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا کوئی عزیز ’ہمارا کوئی بہت اپنا‘ ہمارا کوئی بہت خیال رکھنے والا اگر کسی ایسی زبان میں ہمیں خط لکھے جس زبان کا صحیح فہم ہمیں حاصل نہ ہوں تو کیا ہم اس خط کو صرف محبت سے چومتے رہیں گے ’سنبھال سنبھال کر رکھیں گے یا ہمارا رویہ یہ ہوگا کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کے کہ اس نے اس خط میں کیا لکھ کر بھیجا ہے اور کس مقصد کے لئے بھیجا ہے!

ایسا ہی ایک خط ہمیں ہمارے خالق حقیقی اللہ عزوجل نے بڑی محبت سے لکھا ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے۔ اس میں کہیں ہمارے لئے نصحتیں ہیں، کہیں زندگی گزارنے کا طریقہ، کہیں خوشخبری ہے تو کہیں ہمیں ڈرایا گیا ہے۔ اس میں کہیں اللہ نے اپنے غفور ہونے کو بیان کیا ہے اور کہیں اپنے عذاب سے ڈراتے ہوئے جبار کی صفت بتلائی ہے۔ الغرض اس خوبصورت خط میں زندگی کے ہر ہر پہلو کو بیان کیا گیا ہے ’لیکن افسوس کہ ہم نے اس خط کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے اسں کو معتبر سمجھ کر اس کے اوپر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھانے، عدالتوں میں فیصلے کروانے، خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر اس کے سائے تلے اپنی بہن بیٹیوں کو رخصت کرنے اور گھروں کی الماریوں میں سجا کر رکھ لیا ہے۔

جس خط سے ہمیں زندگی کے ہر پہلو اور ہر لمحے کے لیے رہنمائی حاصل کرنی تھی ’اسے ہم نے سال کے ایک مہینے یعنی رمضان المبارک کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔ اس مہینے تین یا چار مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت تو کر لیتے ہیں۔ لیکن ایک دفعہ بھی اس کا ترجمہ پڑھ کر اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک اپنا کیا پیغام پہنچایا ہے۔

قرآن پاک عربی زبان میں نازل ہوا۔ عربی زبان کیونکہ ہماری مادری زبان نہیں ہے تو اسے سمجھنا تھوڑا مشکل کام تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ عام مسلمان قرآن سے بالکل بے نیاز ہوا کرتے تھے۔ گھروں میں قرآن بس تبرک کے طور پر رکھا جاتا تھا۔ اس کے ترجمے کا رواج نہ تھا۔ چنانچہ عربی زبان سے ناواقف لوگوں کے لیے اسے سمجھنے کا کوئی سوال نہ تھا۔ عوام الناس میں سے زیادہ نیک لوگ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے بلا سمجھے اسے پڑھا کرتے تھے، جبکہ دیگر لوگ بالعموم مردوں کو بخشوانے اور دلہنوں کو قرآن کے سائے میں رخصت کرنے کے لیے اسے استعمال کیا کرتے تھے۔

لیکن اللہ عزوجل کا پیغام ہر زبان اور ہر انسان تک پہنچانے کے لئے کچھ زبان فہم لوگوں نے اس کا اردو ، پنجابی، انگلش بلکہ دنیا کی تمام زبانوں میں اس کا ترجمہ کر کے اسے سمجھنے میں آسان بنا دیا ہے۔ مگر افسوس! پھر بھی ہماری اکثریت قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے سے غافل ہے۔ دنیا کے کاموں میں اپنا وقت بے دریغ لگاتے ہیں اور قرآن پاک کو سمجھنے کے لئے وقت نہ ملنے کا بہانہ بناتے ہیں۔

بے شک قرآن مجید کی تلاوت اجر و ثواب کا باعث ہے ’چاہے پڑھنے والا اس کے معنی و مطلب کو سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو۔ بغیر سمجھے پڑھنے سے بھی اس کے ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں تو مل جائیں گی لیکن قرآن کے نزول کا جو اصل مقصد ہے وہ حاصل نہیں ہو گا۔

قارئین! قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ قرآن کو سمجھنے کے لئے اس کا ترجمہ اور تشریح بھی پڑھیں گے تو آپ کو اپنا پورا وجود لرزتا ہوا محسوس ہو گا ’آپ کا ایمان بڑھے گا اور دلوں پر لگا زنگ صاف ہو گا۔ جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: ”جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے اسی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے۔ صحابہؓ نے سوال کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! دل کے زنگ کو اتارنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا:“ موت کو یاد کرنا اور قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنا۔ ”

یہودی جو عربوں پر حاوی ہیں یہ قرآن سے دوری کی ہی وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس دنیا میں دے رہا ہے۔ جب تک قرآن کو سجھ کرنہیں پڑھیں گے ’اس کے احکامات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر لاگو نہیں کریں گئے۔ تب تک مسلمانوں کی مشکلات کم نہیں ہوں گی اور ان کی وہ عظمت بحال نہیں ہو گی جس کے وہ خواہش مند ہیں۔ علامہ اقبال نے سچ کہا تھا

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

قارئین! ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنی مشہور کتاب ”قرآن مجید کے حقوق“ میں بیان کیا کہ قرآن مجید کے یہ پانچ حقوق ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں : ( 1 ) ایمان و تعظیم ’یعنی اسے مانا جائے۔ ( 2 ) تلاوت و ترتیل یعنی اسے پڑھا جائے۔ ( 3 ) تذکر و تدبر یعنی اسے سمجھا جائے۔ ( 4 ) حکم و اقامت یعنی اس پر عمل کیا جائے اور ( 5 ) تبلیغ و تبیین یعنی اسے دوسروں تک پہنچائے۔

آج سے ہی عہد کریں کہ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس میں بیان کردہ احکام کو سمجھنے کے لئے اس کا ترجمہ ضرور پڑھیں گے اور پھر ان احکامات کو اپنی زندگیوں پر لاگو بھی کریں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •