میں نے اپنی روح نکلتی دیکھی!

صبح نماز کا الارم بجا تو حسب معمول اٹھ کر الارم بند کرنے اور وضو کر کے نماز پڑھنے کہ لئے اپنی آنکھیں کھولنے اور ساتھ لیٹے اپنے شوہر کو ہلانے کے لئے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ یوں لگا جیسے نیند میں ہوں۔ پھر سے اپنی پوری طاقت لگا کر اٹھنے…

Read more

بچوں کی بچپن سے تربیت کریں!

زندگی بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن زندگی کے اس حصے کا نام ہے جس میں موج مستی، لاڈ پیار، کھیل کود ہی زندگی کا مرکز و محور ہوتا ہے اور اس دور میں کسی چیز کی کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔ کبھی اپنی شرارتوں سے تو کبھی ضد کر کے اپنی بات منوا لینا عام سی بات ہے۔ ہر انسان کا بچپن کچھ حسین اور کچھ تلخ یادوں پر مبنی ہوتا ہے لیکن انسان چاہ کر بھی اپنا گزرا ہوا بچپن واپس نہیں لا سکتا۔ لیکن وہ اپنا بچپن آنے والی دو نسلوں کے ساتھ دوبارہ انجوائے ضرور کر سکتا ہے۔ ماں بن کر اپنی اولاد کے ساتھ اور پھر اگر عمر وفا کرے تو دادای اور نانی بن کر اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ۔یہ حقیقت ہے جب ہم خود کسی مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اس سے اتنا لطف اندوز نہیں ہو رہے ہوتے اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہوتے۔ جب وہ دور گزر جاتا ہے تو اس کی اہمیت ہمارے دلوں میں بڑھ جاتی ہے اور جب ہم کسی اور کو اس مرحلے سے گزرتا دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنا زمانہ ’اپنا گزرا ہوا وقت یاد آتا ہے۔ اس مرحلے میں کی گئی غلطیاں کوتاہیاں یاد آتی ہیں اور ہمیں اپنے وہ حسین پل یاد آتے ہیں جو گزر چکے ہوتے ہیں۔ لیکن کسی اور کو اس سے گزرتے دیکھ کر ہم اپنے آپ کو اسی دور میں اور انہی لمحوں میں محسوس کر کے دوبارہ لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔

Read more

دوستی انمول رشتہ ہے!

زندگی میں رشتوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ہر رشتہ اپنی جگہ انمول ہوتا ہے اور اپنی اہمت رکھتا ہے۔ زندگی میں رشتے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ خون کے رشتے اور منہ بولے رشتے مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں ”زندگی“ ملا کرتی ہے اور وہ ”رشتہ“ ہے ”دوستی کا رشتہ“۔ دوست ہمیں قدرت کی طرف سے تحفے میں ملتے ہیں جو بغیر کسی غرض اور فائدے کے ساری زندگی ہماری خوشی اور دکھ میں ہمارے ساتھ چلتے ہیں۔زندگی میں ہر چیز کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہوتی ہے جس طرح ایک پیاسے کے لئے پانی بہت ضروری ہوتا ہے ایسے ہی زندگی میں رشتوں کے ان جھرمٹ میں دوست بہت ضروری ہوتے ہیں۔ اچھے اور مخلص دوست کسی خزانے سے کم نہیں ہوتے جنہیں کھونے سے ہم ہر وقت ڈرتے ہیں۔

Read more

آزادی سے مادر پدر آزادی تک!

ہم لے کے رہیں گے آزادی، ہم چھین کے رہیں گے آزادی، ان نعروں سے یوں لگا جیسے یہ کشمیری خواتین ہیں جو بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آئی ہوئی ہیں اور یہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے لئے یوں باہر روڈ پر بیٹھ کر احتجاج کر رہی ہیں۔ لیکن ان کے کپڑے، ہنستے مسکراتے لڑکوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے، تصویریں بناتیں اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پلے کارڈ اور ان پر لکھے جملے پڑھ کر پتہ لگا کہ یہ کوئی کشمیر کی مظلوم عورتیں نہیں ہیں بلکہ یہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے حقوق مانگتی خواتین ہیں۔اپنے حقوق مانگنا ہر ایک کا حق ہے اورانسانیت کے دائرے میں رہ کر یہ خواتین اپنے جائز حقوق مانگتیں تو ان کو بہت سراہا جاتا۔ ہر پلیٹ فارم پر ان کی واہ واہ ہوتی اور ان خواتین کو جائز حقوق دلانے میں کئی مرد حضرات بھی ان کے حق میں لڑتے۔ ان کی زندگیوں کے مسائل حل کر کے بہتری کی طرف لانے کی کوششیں کی جاتیں۔ لیکن ان کے پلے کارڈ پر لکھے نعرے کچھ اس طرح سے تھے : میرا جسم میری مرضی، میں کھانا گرم کر دوں گی بستر خود گرم کر لو، میری شادی کی نہیں آزادی کی فکر کرو

Read more

وجودِ زن اور کائنات کے رنگ

پوری دنیا کی طرح ہر سال پاکستان میں بھی 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ اس دن مختلف پلیٹ فارم پر خواتین کے لئے تقریبات اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم خواتین شخصیات کو بلایا جاتا ہے اوروہ…

Read more

کتب بینی کی اہمیت اور صدائے حق

عربی زبان کے نامور شاعر متنبی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”زمانہ میں بہترین ہم نشین اور دوست کتاب ہے“۔ اور یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ اچھی کتاب اپنے قاری کے لیے ایسے دوست کی حیثیت رکھتی ہے جو اْس کو کبھی تنہائی کا احساس ہونے دیتی ہے اور نہ اکتاہٹ کو اْس…

Read more

پاکستانی کلچر کو بچاؤ، مغربی تہواروں کو آگ لگاؤ

میں دوست کی عیادت کے لئے اس کے گھر گئی۔ حال احوال کے بعد اچانک سے اس کے چہرے پر ایک خوشی کی لہر دوڑی اور وہ پرجوش انداز میں اٹھی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کچھ چاہیے تو مجھے بتائیں۔ اس نے کہا: نہیں ’مجھے تو کچھ نہیں چاہیے۔ میں آپ کے لئے…

Read more