زندگی بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن زندگی کے اس حصے کا نام ہے جس میں موج مستی، لاڈ پیار، کھیل کود ہی زندگی کا مرکز و محور ہوتا ہے اور اس دور میں کسی چیز کی کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔ کبھی اپنی شرارتوں سے تو کبھی ضد کر کے اپنی بات منوا لینا عام سی بات ہے۔ ہر انسان کا بچپن کچھ حسین اور کچھ تلخ یادوں پر مبنی ہوتا ہے لیکن انسان چاہ کر بھی اپنا گزرا ہوا بچپن واپس نہیں لا سکتا۔ لیکن وہ اپنا بچپن آنے والی دو نسلوں کے ساتھ دوبارہ انجوائے ضرور کر سکتا ہے۔ ماں بن کر اپنی اولاد کے ساتھ اور پھر اگر عمر وفا کرے تو دادای اور نانی بن کر اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ۔یہ حقیقت ہے جب ہم خود کسی مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اس سے اتنا لطف اندوز نہیں ہو رہے ہوتے اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہوتے۔ جب وہ دور گزر جاتا ہے تو اس کی اہمیت ہمارے دلوں میں بڑھ جاتی ہے اور جب ہم کسی اور کو اس مرحلے سے گزرتا دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنا زمانہ ’اپنا گزرا ہوا وقت یاد آتا ہے۔ اس مرحلے میں کی گئی غلطیاں کوتاہیاں یاد آتی ہیں اور ہمیں اپنے وہ حسین پل یاد آتے ہیں جو گزر چکے ہوتے ہیں۔ لیکن کسی اور کو اس سے گزرتے دیکھ کر ہم اپنے آپ کو اسی دور میں اور انہی لمحوں میں محسوس کر کے دوبارہ لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔
Read more