اوریا مقبول جان اور ایک پریشان کافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مندرجہ بلاگ لکھنے کا خیال اوریا مقبول جان 19۔ 08۔ 2018 کا پروگرام حرف راز دیکھنے کے بعد آیا جس میں اوریا صاحب بدترین کافروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہیں اپنی مذہبی شناخت نہیں چھپانی چاہیے اور کھل کر اپنا مذہب ظاہر کرنا چاہیے۔ یہ انٹرویو دیکھنے کے بعد ایک پکے کافر کی سچی کہانی لکھنے کا دل چاہا۔ وہ بدترین کافر اپنی منافقت کی وجہ سے خدا تعالی اور اس کے نیک بندے اوریا مقبول جان کے سامنے نہایت ہی شرمندہ ہے۔

خدا کی مرضی سے اس پریشان کافر کی آنکھ ایک ایسے گھرانے میں کھلی جو آئنی و قانونی طور پر تصدیق یافتہ کافر تھے۔ شعور حاصل کرنے کے بعد پریشان کافر کا اس بات پر ایمان تھا کہ وہ اپنی مرضی سے ہر گز اس دنیا میں نہیں آیا، نا ہی اپنی مرضی سے اس کافر گھرانے میں پیدا ہوا، یہ سب خدا، خدا کے پیدا کردا کافر والدین اور ہسپتال کے اس ڈپارٹمنٹ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا جہاں بچوں کو ماں کے پیٹ سے نکال کر دنیا میں لایا جاتا ہے۔

پریشان کافر کو اپنے مذہب کی وجہ سے بچپن ہی سے ہر قدم پر ذلالت اور رسوائی کا سامنا تھا، مگر پھر بھی وہ اوریا مقبول کی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنا مذہب ظاہر رکھتا تھا، جب کبھی کسی نیک مسلمان کو اس کافر کی شناخت کے بارے میں معلوم ہوتا تو وہ اس کو ذلیل کرنا اپنا اسلامی فریضہ سمجھتا تھا۔ ذلیل ہونے کے سفر کا آغاز اسکول کے دور سے ہی شروع ہوچکا تھا جب ساتھی طلبہ اور اساتزہ کو معلوم ہوا کہ یہ بچہ تو بدترین کافر کی اولاد ہے مگر ڈرپوک کافر نے پریشانی کے عالم میں اس ہی اسکول میں دس سال تک تعلیم حاصل کی۔

بدترین کافر پریشان انسان کے علاوہ ایک ڈرا ہوا انسان بھی تھا۔ اس کافر نے کم سے کم ذلالت برداشت کرنے کے لیے اوریا مقبول کی نافرمانی کرتے ہوئے منافقت کا سہارا لیا اور اپنی شناخت کو چھپانا شروع کردیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک مسلمان شخص کی حیثیت سے اپنی زندگی گزارنے کی ناکام کوشش شروع کردی۔ بدترین کافر کا نام بھی مسلمانوں جیسا ہی تھا، بول چال بھی مسلمانوں جیسی تھی اور عبادت کا طور طریقہ بھی مسلمانوں جیسا ہی تھا، جو کہ یقینا آئین کی روح سے ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل تھا۔

اس منافقت کے عمل کی وجہ سے تمام نیک مسلمان اس بدترین کافر سے دوستی رکھنا پسند کیا کرتے تھے، مگر پریشان کافر اندر ہی اندر سے بہت ڈرا ہوا رہتا تھا کہ اگر اس کے چاہنے والوں کو ایک دن معلوم ہوجائے کہ وہ تو ایک بدترین کافر ہے تو ایک بار پھر ذلالت کا سفر شروع ہوجائے گا۔

مگر ایک سچ یہ بھی تھا کہ اس پریشان کافر کی زندگی میں چند ایسے مسلمان دوست بھی موجود تھے جو اس کی شناخت کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کو اپنا ہر دل عزیز دوست سمجھتے تھے۔ مگر ایک اور سچ یہ بھی تھا اس پریشان کافر کی زندگی میں نفرت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

ایک دن اس پریشان کافر کو ایک بزرگ بابا ٹکرائے اور بولے کہ بیٹا تم شکل سے بہت پریشان لگتے ہو، مجھے اپنی پریشانی بتاو، شاید میں کوئی حل نکال لوں۔ پریشان کافر نے اس بابا پر اعتماد کرتے ہوئے چند گھنٹے لگا کر اپنی تمام پریشانیاں سنا دی۔ جس کے بعد بابا نے اس کی شکل دیکھ کر فرمایا کہ بیٹا تم تو ایک پکے جہنمی ہو، تمہاری زندگی دنیا میں بھی جہنم جیسی رہے گی اور تم کافر نے آخرت میں تو ویسے ہی جہنم میں جانا ہے، لہذا تمہارے پاس آخری راستہ یہی ہے کہ تم اپنی بقیہ زندگی سوئٹزرلینڈ میں جاکر گزار لو، کیونکہ وہ ملک کافروں کے نزدیک دنیا کی جنت مانی جاتی ہے۔

بدترین کافر نے بابا کے حکم کو مانتے ہوئے ارادہ کرلیا کہ مجھے اب سوئٹزرلینڈ جانا چاہیے، کم از کم دنیا کی جنت ہی نصیب ہوجائے۔ اس پریشان، منافق اور ڈرے ہوئے کافر نے اپنی مدد آپ کے تحت ویزا کے حصول کے لیے تمام ضروری کاغذات بنوانا شروع کردیے اور تمام کاغذات جمع کر کے سوئٹزرلینڈ ایمبیسی پہنچ گیا، جہاں اس کافر سے سوال پوچھا گیا کہ تم سوئٹزرلینڈ کیوں جانا چاہتے ہو؟ جس کے جواب میں کافر نے معصومیت سے بابا والی بات دہراتے ہوئے کہا کہ سر، میری دنیا بھی جہنم ہے، اور آخرت میں تو ویسے ہی جہنم جانا ہے، میرے پاس آخری راستہ یہی ہے کہ میں اپنی بقیہ زندگی سوئٹزرلینڈ والی جنت میں گزار لوں۔ اور یوں سوئٹزرلینڈ کی مہربانی سے چند دنوں بعد پریشان کافر نے جنت کا ویزا حاصل کرلیا۔

بدترین کافر اپنی زندگی میں کبھی کسی بیرون ملک نہیں گیا تھا۔ اس لیے سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے چار گھنٹے پہلے ہی ائیرپورٹ پہنچ گیا تھا اور امیگریشن کی قطار میں لگ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد بدترین کافر کا نمبر آیا اور ایف آئی اے اہلکار کی جانب سے پاسپورٹ مانگا گیا، اہلکار نے پاسپورٹ کا دوسرا صفحہ دیکھنے کے بعد کافر کی شکل دیکھی اور اس کو ایک تفتیشی کمرے میں لے گیا، وہ کافر واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ ایف آئی اے کا اہلکار اپنے ساتھی اہلکاروں کو پاسپورٹ کا دوسرا صفحہ دکھا رہا ہے، جہاں واضح طور پر بدترین کافر کی شناخت لکھی ہوئی تھی۔

ایف آئی اے کے اہلکاروں نے اس پریشان کافر کو چار گھنٹے تک مختلف سوالات پوچھ کر مزید پریشان کیا، جہاز اڑنے میں چند منٹ باقی رہ گئے تھے اور تمام مسافر اندر جاچکے تھے۔ کافر بہت معصومیت سے درخواست کرتا رہا کہ میری زندگی دنیا میں بھی جہنم جیسی ہے اور آخرت میں بھی جہنم ہی جانا ہے، مجھے کافروں کی جنت دیکھنے دو۔ مگر ایف آئی اے کا اہلکار ساتھی اہلکاروں کو پاسپورٹ کا دوسرا صفحہ دکھانے میں مصروف تھا۔ اور پھر جہاز اڑنے سے دس منٹ پہلے بدترین کافر کو جانے کی اجازت دے دی۔

بدترین کافر اپنے ملک میں ساری عمر ذلیل ہونے کے بعد جہاز پر بیٹھ گیا اور پھر سوئٹزرلینڈ پر جہاز اترنے کے بعد خوبصورت ائیر ہوسٹس نے بدترین کافر کو نہایت ہی خوشی سے مسکراتے ہوئے کہا کہ ویلکم ٹو سوئٹزرلینڈ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •