یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک معراج خالد کا نام یقیناً اس سوشل میڈیا سے بصیرت حاصل کرنے والی نسل کے لیے اجنبی ہو گا۔ ملک معراج خالد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ ستر کی دھائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ملک صاحب مختلف وزارتوں پہ فائز رہے۔ دو بار سپیکر قومی اسمبلی بنے۔ اور پھر جب سابق صدر فارق لغاری نے کرپشن کے الزامات پر بے نظیر کی دوسری حکومت کو گھر بھیجا تو ملک صاحب اگلے انتخابات تک کے لیے نگران وزیراعظم بنے۔ جس بندے کا یہ سیاسی سفر رہا ہو۔ جس نے اقتدار کے ایوانوں میں اس قدر وقت گزارا ہو اس کے باوجود وہ وزیر اعظم بن کر بھی کے۔ٹو کے سگریٹ پیا کرتے تھے۔ رکشہ میں اسمبلی پہنچ جاتے تھے۔

نگران وزیراعظم تھے تو ان کی گاڑی گورنر کے پروٹوکول کی وجہ سے ٹریفک میں پھنس گئی۔ عاجزی اور انکساری کا ایسا مظہر کہ سبزی لینے تک خود چلے جاتے۔ ہٹو بچو کی صداؤں، پروٹوکول، تصنع اور بناوٹ سے کوسوں دور سادگی کا بے مثال نمونہ ایک ایسا شخص جس کو پاکستان کی ماضی قریب کی سیاسی تاریخ کے سر کا تاج ہونا چاہیے تھا جس کی زندگی کو درسی کتب میں شام کیا جانا چائیے تھا۔ اور جس کے سیاسی سفر کا تعارف نئی نسل سے ہونا چائیے وہ آج لاہور کے مضافاتی علاقے میں اپنے گاؤں میں ابدی نیند سو رہا ہے۔ وہ کیسے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے سے لے کر ملک کی وزرات تک پہنچا۔ اور کس طرح اپنے دامن کو کرپشن کے الزامات سے بچا کر کامیاب سیاسی سفر کیا۔ اس پہ تحقیق موجودہ نسل کو بہت کچھ سکھا سکتی ہے۔ لیکن شاید سیاستدانوں کے اجلے کردار کو سامنے لانے کے لیے یہاں کوئی تیار نہیں۔

جاوید ہاشمی کا نام یقیناً کسی کے لیے اجنبی نہیں ہوگا۔ ستر کی دھائی سے طلبا سیاست سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے جاوید ہاشمی ضیا کے مارشل لا کے دور میں نوجوان ترین وزیر بنے لیکن اس وزرات پہ عمر بھر ندامت کا اظہار کرتے رہے۔ نواز شریف کی نوے کی دھائی میں بننے ہونے والی دونوں حکومتوں میں وزیر رہے۔ ضیا کے مارشل لا کا ساتھ دینے کے گناہ کا کفارہ مشرف کو للکار کر ادا کیا۔ ن لیگ کی قیادت کو جب قید و بند کی صعوبتوں کے بعد مشرف نے جلا وطن کیا تو جاوید ہاشمی نے نا صرف پارٹی کی صدرات کا بوجھ اٹھائے رکھا بلکہ مارشل لا کے خلاف اس طرح میدان عمل میں رہے کہ بالآخر ان کی آواز کو دبانے کے لیے ان کو پس زنداں بھیجنا پڑا ۔ وہاں سن سے کئے گئے “حسن سلوک”: کی ایک الگ کہانی ہے۔  

مشرف کا مخصوص احتساب جب جاوید ہاشمی کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہ لا سکا تو “غداری” کا کیس بنا دیا۔ جاوید ہاشمی نے دو ہزار دو کا الیکشن جیل سے جیتا۔ پھر دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں بیک وقت تین حلقوں سے کامیابی سمیٹی۔ زمانہ طالب علمی سے لے کر اب تک دو درجن بار جیل گئے۔ لیکن کرپشن کا کوئی کیس نہیں۔ جاوید ہاشمی فطرتاً باغی تھے۔ ن لیگ اور نواز شریف سے بتیس سالہ رفاقت دو ہزار گیارہ میں ختم ہوئی۔ تحریک انصاف کے ساتھ بھی سیاسی رومانس زیادہ نہ چل سکا۔ اگست 2014 کے آخری ہفتے میں قومی اسمبلی کے فلور پر دھرنے کا بھانڈا پھوڑا، استعفیٰ دیا اور گھر چلے گئے۔

چونکہ موجودہ رجحان کے مطابق کسی مخالف کی اچھائی اور بڑائی بیان کرنا ایک عیب سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا تحریک انصاف چھوڑنے اور دوبارہ ن لیگ میں شامل ہونے کے بعد جاوید ہاشمی کی ذات تبدیلی کے خواہاں گروہ کے لیے ملعون قرار پائی۔ ایک ایسا شخص جس کا سیاسی کیرئیر طلبا سیاست سے شروع ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا۔ اور جس کا جمہوریت سے عزم ایک مثال ہونا چاہیے تھا۔ کہ جس پہ کرپشن کا کوئی داغ نہیں، وہ آج سیاسی مخالفت کی وجہ سے تقریباً گوشہ نشیں ہو چکا ہے۔ لوگ اب اس کی آواز پہ کان نہیں دھرتے۔

پروفیسر غفور احمد کا سیاسی سفر انیس سو پچاس میں جماعت اسلامی یوتھ ونگ سے شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ کراچی میٹرو پولٹین کے مممبر بنے۔ دو بار رکن قومی اسمبلی رہے، پھر سینیٹر منتخب ہوئے اور وزیر بنے۔ پروفیسر غفور احمد تہتر کے متفقہ آئین کا مسودہ بنانے والے کمیٹی کے رکن تھے۔ کراچی کا ایک عام سیاسی کارکن مسند اقتدار کی سیڑھیاں چڑھا۔ اور پھر دو ہزار بارہ میں زمین کی آغوش میں چلا گیا۔ لیکن اب شاید کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اس بے داغ سیاستدان کو پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر یاد رکھے ہوئے ہیں۔

یہ محض تین مثالیں ہیں۔ صرف لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لیے۔ لسٹ بہت لمبی ہے۔ اس ملک کو ستر سالوں میں سیاستدان نے نہ صرف بہت کچھ دیا اور بدلے میں بہت کچھ بھگتا بھی۔ ہم نے آج سیاستدانوں کو ایک گالی بنا دیا ہے۔ سیاسی نفرت اور بدگمانی میں ہم اس مقام پہ پہنچ گئے ہیں (پہنچا دیے گئے ہیں) کہ ہمیں بحثیت مجموعی سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھال کر مزا آتا ہے۔ ہم راہ چلتے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں کرپٹ ہے فلاں سمگلر ہے۔ فلاں قاتل ہے۔ وہ لوگ صفائیاں دیتے رہتے ہیں، دہائیاں دیتے رہتے ہیں کہ میں فلاں عزت دار باپ کا بیٹا ہوں۔ میں فلاں خانوادے کا چشم و چراغ ہوں۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ لیکن بدگمانی کی انتہا پر بیٹھے سیاسی مخالف بس یہی کہتے ہیں، جاؤ عدالتوں سے صاف ہو کر آ جاؤ۔

ان نا سمجھوں کو کون سمجھائے کہ جہاں عدالتی بینچ واٹس ایپ کال پہ بنتے ہوں۔ جہاں احتساب ادارے کا چئیرمین احتساب کے بہانے خواتین کو جنسی طور پہ ہراساں کرتا ہو۔ جہاں احتساب عدالت کا جج فیصلہ دینے کے بعد ضمیر کی آواز پہ معافیاں مانگتا ہو۔ جہاں احتساب کا ادارہ ایک سال سے مقید بیوروکریٹس پہ ریفرنس نہ دائر کر سکا ہو۔ وہاں خواجہ محمد رفیق کا بیٹا ہو۔ یا خواجہ صفدر کا۔ خاقان عباسی کا چشم و چراغ ہو یا میاں محمد شریف کا۔ یا کوئی دوسرا ایماندار سرکاری افسر۔ یہ سب کبھی بھی اپنی بیگناہی ثابت نہیں کر سکتے۔

لیکن یہ سب سیاستدان ڈٹے ہوئے ہیں۔ ملک کو بہت کچھ دینے کی سزا پا کر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے جھڑتے ہوئے بال اور نمک مرچ ہوتی داڑھیاں ان کے عزم کو متاثر نہیں کر سکیں۔ عقوبت خانے، جیل کی صعوبتیں اور قید و بند کا تشدد ان کے ارادوں کو اور نظریات کو نہیں توڑ سکا۔ نجانے ایمانداری کے خمیر میں ایک کونسا عنصر ہے جو ان کے عزم کو جوان رکھے ہوئے ہے۔ نجانے یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •