حقائق سے توجہ ہٹنا خیر کی خبر نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیران کن بات ہے۔ چند روز قبل پاکستان میں مایوس کن حد تک پھیلی کسا دبازاری،مہنگائی اور بے روزگاری کے بارے میں پریشانی سے غور کرتے ہوئے میں نے اس کالم میں برطانیہ کے ایک مشہور ماہر معاشیات کینز کا ذکر کیا۔ منگل کی صبح ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے پاکستان میں دستیاب ایڈیشن کے صفحہ اوّل پر ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا۔ اس کا مصنف مجھ جیسا ڈنگ ٹپائو کالم نگار نہیں بلکہ معیشت کے موضوع پر تحقیقی کتابیں لکھنے کا عادی بھی ہے۔ حوالہ اس نے بھی کینز کا دیا۔ ساتھ مگر یاد دلایا کہ امریکہ کا ایک مشہور صدر اسے ماہر معاشیات نہیں بلکہ ایک ’’غیر عملی حساب دان‘‘ یعنی Mathematician پکارتا تھا۔

میں جس مضمون کا حوالہ دے رہا ہوں اس کے مصنف کا دعویٰ تھا کہ دُنیا میں ان دنوں امیر اور غریب کی جو خوفناک تقسیم نظر آرہی ہے۔ خلقِ خدا اپنی زندگی میں بہتری اور خوش حالی کی اُمید کھوکر مذہبی اور نسلی تعصبات کی وجہ سے جس انتشار کا شکار ہورہی ہے اس کی بنیادی وجہ ’’ماہرین معاشیات‘‘ ہیں۔ان ’’ماہرین‘‘ کو 1950ء کی دہائی تک ریاستی فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا جاتا تھا۔ اس دہائی کے اختتام پر لیکن دُنیا بھر کی ریاستیں ماہرین یا ٹیکنوکریٹس کی ’’دانش‘‘ پرانحصار کرنا شروع ہوگئیں۔ ان ٹیکنوکریٹس نے دو جمع دو والے نسخے تیار کئے۔

ان پر عملدرآمد کرتے ہوئے ریاستیں عوامی اُمنگوں سے بیگانہ ہونا شروع ہوگئیں۔ ٹیکنوکریٹس نے جو نسخے تیار کئے ان کی بدولت دُنیا کے ہر ملک میں گنتی کے چند افراد یا خاندان امیر سے امیر تر ہوتے عالمی اجارہ داروں کی صورت اختیار کرنا شروع ہوگئے۔ وقت آگیا ہے کہ سیاست دان ’’ماہرین معیشت‘‘ سے جان چھڑاتے ہوئے عوامی اُمنگوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئی پالیسیاں بنائیں۔ معاشی حوالوں سے اٹھائے سوالات پر غور کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر تھوڑا وقت تحقیق کی نذر کیا تو دریافت ہوا کہ گزشتہ ہفتے بھارت کے ایک مشہور صحافی شیکر گپتا نے بھی اپنے یوٹیوب چینل پر کینز کا ذکر کیا تھا۔

جس قسط کا میں حوالہ دے رہا ہوں وہ اس نے حیدرآباد کی ایک یورنیورسٹی کے چمن میں ریکارڈ کی تھی۔گپتا نے دعویٰ کیا کہ حیدر آباد پہنچنے سے قبل وہ بنگلور اور بمبئی میں موجود تھا۔ بھارتی معیشت کے گڑھ مانے ان شہروں میں اس کی چند نامی گرامی سیٹھوں سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان سب نے شیکر گپتا کو بتایا کہ مودی سرکار تو یہ بڑھک لگارہی ہے کہ اس نے آرٹیکل 370کے خاتمے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو بھاری بھر کم سرمایہ کاری کے لئے کھول دیا ہے۔ یہ بڑھک لگاتے ہوئے لیکن وہ اس حقیقت پر غور نہیں کررہی کہ بھارتی سرمایہ کاروں نے بنگلور اور بمبئی جیسے شہروں میں بھی اپنے کاروبار پھیلانے سے گریز کرنا شروع کردیا ہے۔

نئی سرمایہ کاری کی ترغیب اس لئے نہیں ہورہی کیونکہ بازار میں مندا ہے۔ عام صارف نے زندگی کی بنیادی ضروریات کے لئے ضروری شمار ہوتی اشیاء کے علاوہ دیگر اشیاء کی خریداری یا استعمال کے لئے پیسہ خرچ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ بسکٹ کے ایک مشہور برانڈ کی فروخت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ شیکر گپتا کا دعویٰ تھا کہ اس سے گفتگو کرنے والے سیٹھوں کا اصرار تھا کہ مودی سرکار کی جانب سے لگائے ٹیکسوں کی بھرمار اور انہیں ہر صورت جمع کرنے کے جنون نے سرمایہ کاروں کو ’’ہاتھ روکنے‘‘ پر مجبور کردیا ہے۔ وہ اپنی دولت چھپارہے ہیں۔ٹیکس والوں سے خوفزدہ ہیں۔

بھارت نے اگر اپنی نمو کی شرح کو قابل رشک حد تک برقرار رکھتے ہوئے اسے مزید بڑھانا ہے تو سرمایہ کار کا ’’اعتماد‘‘ بحال کرنا ہوگا۔یہ بحالی ظاہر ہے کہ ٹیکسوں میں تھوڑی کمی اور انہیں جمع کرنے والوں کو ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کی ہدایت کی بدولت ہی رونما ہوسکتی ہے۔ شاید مطلوبہ ’’اعتماد‘‘ کی بحالی کے لئے بھارتی وزیر خزانہ نے گزشتہ ہفتے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔فروری میں پاس ہوئے بجٹ میں ٹیکس کی مد میں جو اہداف مقرر کئے گے تھے ان میں کمی کا اعلان ہوا۔ اس ہفتے کے آغاز میں بھارتی انکم ٹیکس کے چند افسران کو وقت سے پہلے ریٹائربھی کردیا گیا ہے۔ وہ غالباََ ’’سخت گیر‘‘ مشہور تھے مگر ان پر راشی ہونے کے الزامات بھی اپنی جگہ موجود تھے۔

حیران کن بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ جمعہ ہی کے روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان کی معاشی صورت حال پر خصوصی توجہ دی۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد اس میں ہوئی گفتگو کے لئے بریفنگ دیتے ہوئے محترمہ فردوس عاش اعوان صاحبہ نے اپنے مخصوص انداز میں اعتراف کیا کہ خوش حال پاکستانیوں نے نیب کے خوف سے اپنی دولت ’’میٹرس کے نیچے‘‘ چھپانا شروع کردی ہے۔ نئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیب ہی کے خوف سے سرکاری افسر فائلوں کو اپنے دستخطوں کے ساتھ منظور کرتے ہوئے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے آگے نہیں بڑھارہے۔

مشیر ا طلاعات کے بعد فروغ نسیم صاحب نے اعلان کیا کہ سرمایہ کاروں اور سرکاری افسروں کو نیب سے بچانے کے لئے ان کی وزارت احتساب سے متعلقہ چند قوانین کوجلد ختم کردے گی۔ نیب کی جانب سے جاری چھان پھٹک کو محض ’’چور اور لٹیرے‘‘ سیاست دانوں تک محدود کردیا جائے گا۔ حیران کن اتفاقات پر غورکرتے ہوئے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے کو مجبور ہوا ہوں کہ پاکستان اور بھارت بظاہر ایک سی وجوہات کی بنیاد پر ان دنوں کساد بازاری، مہنگائی اور بے روزگاری کے عذاب کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بھارت میں کاروباری مندے کا آغاز مودی سرکار کی جانب سے ’’نوٹ بندی‘‘ کے فیصلے کے ذریعے ہوا۔ اس کی وجہ سے سرکار کو اتنی رقم بھی وصول نہ ہوئی جو اس نے نئے نوٹ چھاپنے پر خرچ کی تھی۔ بازار میں لیکن مندی پھیل گئی۔ کئی لوگ خودکشی کو بھی مجبور ہوئے۔

نوٹ بندی کے اعلان کے بعد بھارت کے ان صوبوں میں جنہیں ہندی بولنے والوں پر مشتمل “Cow Belt”کہا جاتا ہے مقامی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے تو مودی کی جماعت کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔اس سال کی مئی میں ہوئے عام انتخابات کے دوران مگر معاملہ اُلٹ ہوگیا۔ مودی نے پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو وحشیانہ مہارت سے فروغ دیا۔ ہندوانتہا پسندی پر مبنی ’’قوم پرستی‘‘ کے سحر میں مبتلا ہوئے عوام سے اپنی جماعت کے لئے بھاری بھرکم اکثریت حاصل کرلی۔ عام انتخابات کے نتیجے میں معاشی اعتبار سے ناقص ا ور عام آدمی کی اکثریت کو پریشان کرتی پالیسیوں کے ہوتے ہوئے بھی مودی کی جماعت کا پانچ سال کے لئے دوبارہ منتخب ہوجانا مجھے یہ سوچنے کو مجبور کررہا ہے کہ ا گر بھارت میں شیکر گپتا جیسے صحافیوں کی تفصیل سے بتائی کسادبازاری،مہنگائی اور بے روزگاری کا آئندہ چند دنوں میں مناسب علاج دریافت نہ ہوا تو نریندرمودی اور اس کی سرکار پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو مزید بڑھاتی رہے گی۔

ہندو انتہاپسندی کی ’’بالادستی‘‘ کو یقینی بنانے کے نام پر جنتا کو ’’وطن کی خاطر قربانی‘‘ کے لئے آمادہ رکھا جائے گا۔فسطائیت کی تاریخ کے سنجیدہ طالب علم اور محقق اصرار کرتے ہیں کہ ہٹلر کی نازی پارٹی کے عروج کا بنیادی سبب پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کی بدترین شکست تھی۔ اس کے بعد فلسفیوں کے اس دیس میں ’’قومی ذلت‘‘ کے احساس کو مہنگائی، بے روزگاری اور کسادبازاری نے سنگین تربنادیا۔ ہٹلر نے اس سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنے ملک کی ’’آریائی ثقافت‘‘ کے احیاء کا عہد کیا۔ اس کی تمام عالم پر بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے دُنیا کو بالآخر دوسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل دیا۔

مودی نے دورحاضر میں ’’ہندوتوا‘‘ کے احیاء کی ٹھان رکھی ہے۔اس کی ’’بالادستی‘‘ کو آرٹیکل 370کے خاتمے کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔مقبوضہ کشمیر پر اس کی بدولت نازل ہوئے عذاب کا فقط انسانی بنیادوں پر تشویش کا اظہار کرنے والے بھارتی صحافیوں،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اپوزیشن کے چند رہ نمائوں کو ’’غدار اوروطن دشمن‘‘ ٹھہرایا جارہا ہے۔ بھارت کے بازار میں نظر آتے Slow Down کو اس شور میں قطعاََ بھلادیاگیا ہے۔ بھارتی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گرتی قدر کا بھی تذکرہ شاذہی بھارتی میڈیا میں دیکھنے یا سننے کو ملتا ہے۔ جنگی اور ہندوانتہا پسندانہ جنون نے روزمرہّ زندگی کی مشکلات سے جڑے تلخ حقائق سے توجہ ہٹادی ہے اور یہ سب ہمارے خطے کیلئے خیر کی خبر نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •