آئی ایم ایف پروگرام گہرے خطرات سے دوچار: صوبے مطلوبہ مقدار میں ٹیکس جمع نہیں کر سکتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئی ایم ایف پروگرام خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے لیکن حکومت بظاہر اپنی اقتصادی کامیابی پر مطمئن ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی میں صوبے مطلوبہ اضافی محصولات جمع کرنے میں اطمینان بخش کارکردگی نہیں دکھا رہے، یہی وجہ ہے آئی ایم ایف فنڈ کا پروگرام رواں مالی سال کی دوسری ششماہی (جنوری – جون) کے دوران کسی بھی وقت معطل ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق،مالی سال 2018-19 کے دوران اگر صوبے  138.87  ارب روپے کا اضافی ریونیو اکٹھا کرنے میں ناکام ہوجاتے تو پاکستان کا بجٹ خسارہ یقینی طور پر جی ڈی پی کے 9 فیصد سے تجاوز کرجاتا۔ پی ٹی آئی دور حکومت کے پہلے سال میں بجٹ خسارہ 3444 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کے  8.9فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ جب کہ اس مدت میں پاکستان کا بنیادی خسارہ بھی بڑھ کر جی ڈی پی کا  3.6فیصد ہوچکا ہے ۔ اب آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالرز کے بیل آئوٹ پیکج کے تحت حکومت نے بنیادی خسارے کو 2018-19 کے جی ڈی پی کے 3.6فیصد سے کم کرکے رواں مالی سال کے دوران 0.6  فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی خسارے کو اتنی جلد کم کرنا تقریباً ناممکن ہےلہٰذا آئی ایم ایف پروگرام گہرے خدشات سے دوچار ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •