خیام صاحب کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”شام غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہم“، موسیقار خیام کی فلم ”فٹ پاتھ“ کا یہ گیت یوں تو ہم برسوں سے سنتے آئے ہیں، لیکن اب جب خیام نہیں رہے تو یہ گیت اور بھی زیادہ یاد آ رہا ہے۔ خیام کا اس دنیا سے کوچ کرنا سبھی کو غمگین کر گیا ہے۔ اگرچہ خیام صاحب کی عمر 92 برس سے بھی کچھ زیادہ تھی اور وہ اب موسیقی کے حوالے سے فعال بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود ان کا ہمارے بیچ ہونے کا احساس ہی خوبصورت تھا۔ ان کی موجودگی سے موسیقی کی دنیا مالا مال تھی، ان کے جانے سے سنگیت کا انمول رتن چلا گیا۔

خیام جب فلموں میں آئے اس وقت انل بسواس، ہنس لال بھگت رام، ماسٹرغلام حیدر، نوشاد، چتر گپت، وسنت ڈیسائی، روشن، مدن موہن، او پی نیر اور شنکر جے کشن سمیت کتنے ہی نامور موسیقارفلمی دنیا میں موجود تھے۔ سبھی نے فلمی موسیقی کو بہت کچھ دیا لیکن خیام کی موسیقی سب سے منفرد رہی۔ خیام ایسے موسیقار تھے جنھوں نے اپنے فن پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمیشہ اپنی پسند کے لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ کئی بار تو وہ اپنی فلم کے ہدایت کاروں سے ناراض بھی ہو جاتے تھے۔ ایسے کئی مواقع آئے جب خیام نے فلموں میں موسیقی دینے کی پیش کش کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا کیونکہ انھیں فلم سازوں کی شرائط یا باتیں پسند نہیں تھیں۔

خیام صاحب کافلمی دنیا میں سب احترام کرتے تھے اور وہ بھی سبھی کو عزت دیتے تھے۔ ہمیشہ دوسرے موسیقاروں کی تعریف کرتے تھے اور اپنے گیتوں کی کامیابی میں وہ نغمہ نگاروں کی شاعری اور گلوکاروں کی گائیکی کو برابر کا حصہ دار قرار دیتے تھے۔ اپنی بیوی جگجیت کور اور ان کے ہنر کی تو وہ ہمیشہ دل کھول کر تعریف کیا کرتے تھے۔ کہتے تھے، ”آج خیام کو جو بھی کامیابی ملی ہے اس میں جگجیت کور جی کا بڑا حصہ ہے۔ “ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا، ”میری زندگی میں کئی مشکل دور آئے، لیکن میری شریک حیات جگجیت جی نے ان مشکل گھڑیوں کو اتنا آسان بنا دیا کھ برا وقت کب گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ “ یہاں تک کہ جگجیت کور کے خاندان والوں خاص طور سے اپنی ساس جنھیں وہ بی جی کہتے تھے، کی بھی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔

خیام کی پیدائش 18 فروری 1927 ء میں جالندھر شہر کے نزدیک ایک قصبے نوا ں شہر میں ہوئی۔ ان کا پورا نام محمد ظہور خیام ہاشمی تھا۔ ان کے دادا امام مسجد تھے اور ان کے والد اسی مسجد کے موذن تھے۔ لیکن خیام کو بچپن سے ہی مسجد کی اذان کے ساتھ ساتھ مندروں کی آرتی کی آوازیں بھی اپنی جانب کھینچتی تھیں، وہ بڑے شوق سے یہ آوازیں سنا کرتے۔ شاید یہی سبب تھا کہ وہ سبھی مذہبوں کا احترام کرتے تھے۔ وہ جب 13 سال کے تھے تو ان کا دل فلموں میں کام کرنے کے لئے مچلنے لگا۔

درحقیقت خیام اپنے لڑکپن ہی سے ایکٹر سنگرکے ایل سہگل سے کافی متاثر تھے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ سہگل کا تعلق بھی جالندھر ہی سے تھا۔ خیام چاہتے تھے کہ وہ بھی گلوکار اور اداکار بنیں۔ اسی لیے وہ گھر سے بھاگ کر اپنے چچا کے پاس دہلی آ گئے۔ اب یہ نصیب کی بات تھی کہ ان کے چچا کی میل ملاقات موسیقار جوڑی حسن لال بھگت رام اور ان کے بڑے بھائی پنڈت امر ناتھ کے ساتھ تھی۔ ایک دن چچا نے ان کو بتایا کہ یہ لڑکا گھر سے بھاگ آیا ہے اب اسے کوئی کام کام دلانا ہے۔ پنڈت امرناتھ نے کہا اسے گانا ہی سکھاتے ہیں۔ یوں خیام صاحب کی موسیقی کی تعلیم اور تربیت پنڈت امر ناتھ کے زیر اثر شروع ہوئی۔

تقریباً 5 برسوں تک خیام صاحب نے ان سے گانا سیکھا۔ اسی دوران خیام اس زمانے کے فلمی مراکز لاہور اوربمبئی کے چکر بھی لگانے لگے۔ ان کے ایک جاننے والے انھیں لاہور میں مشہور موسیقار جی اے چشتی کے پاس لے گئے جنھیں سب بابا چشتی کے نام سے جانتے ہیں۔ بابا چشتی نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انھیں اپنے اسٹوڈیو میں ملازمت دے دی۔ شروع میں خیام کو صرف کھانے اور رہنے کی جگہ کے عوض ملازمت دی گئی تھی لیکن جلد ہی مشہور فلمسازبی آر چوپڑا نے خیام کی تنخواہ 125 روپے مہینہ مقرر کردی۔ لاہور میں بابا چشتی کے زیر سایا کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد جنوری 1947 ء میں خیام بمبئی لوٹ گئے۔ جب حسن لال بھگت رام نے پوچھا کہ کیا سیکھ کر آئے ہو تو خیام نے اپنے سیکھے ہوئے فن کا مظاہرہ دکھایا۔ حسن لال بھگت رام بہت خوش ہوئے، وہ اس زمانے میں ایک فلم ”رومیو جولیٹ“ کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ اس فلم میں انھوں نے خیام کو زہرہ بائی انبالے والی کے ساتھ ایک دوگانا گانے کا موقع دیا۔

یہ فیض احمد فیض کی مشہور غزل ”دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے“ تھی۔ یوں خیام نے بطور گلوکار اپنا فلمی سفر شروع کیا۔ لیکن خیام کا میدان گلوکاری نہیں بلکہ موسیقاری تھا۔ انھی دنوں انھوں نے حسن لال بھگت رام کی طرز پر موسیقاروں کی جوڑی ترتیب دی۔ ان کی اس جوڑی کا نام شرما جی ورما جی قرار پایا، یہ نام انھیں حسن لال بھگت رام ہی نے دیا تھا۔ شرما جی تو خود خیام تھے اور ورما جی نام تھا موسیقار رحمان ورما کا جو بعد ازاں پاکستان چلے آئے اور یہاں آکر نام کمایا۔

بابا چشتی کے حوالے سے شرما جی اور ورما جی کی ملاقات ولی صاحب اور ممتاز شانتی سے ہوئی جو فلم ”ہیر رانجھا“ بنا رہے تھے اور اس فلم کی موسیقی عزیز ہندی ترتیب دے رہے تھے۔ لیکن ولی صاحب چاہتے تھے کہ چونکہ فلم کا موضوع پنجاب سے متعلق ہے اس لیے موسیقی بھی پنجاب کی ہو۔ انھوں نے اپنے بھائی ناظم پانی پتی کے مشورے سے خیام صاحب اور رحمان ورما یعنی شرما جی اور ورما جی کو اس میں ایک بھنگڑا گیت بنانے کا موقع دیا۔

یوں خیام صاحب نے رحمان ورما کے ساتھ مل کر اپنا پہلا گیت بنایا جس کے بول تھے ”شہروں میں سے شہر سنا تھا، شہر سنا ملتان“۔ ولی صاحب اور ممتاز شانتی کو یہ بھنگڑا گیت بہت پسند آیا، ”ہیر رانجھا“ میں شرما جی ورما جی نے چھے گیتوں کی دھنیں بنائیں جو بہت پسند کی گئیں، فلم کے باقی گیت عزیز ہندی نے ترتیب دیے تھے۔

خیام نے رحمان ورما کے ساتھ مل کر شرما جی ورما جی کی موسیقار جوڑی کے طور پر پانچ برس تک فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ بعد ازاں رحمان ورما پاکستان چلے آئے اور یہ جوڑی ٹوٹ گئی۔ اسی دوران ضیاء سرحدی نے خیام صاحب سے اپنی فلم ”فٹ پاٹھ“ کی موسیقی دینے کے لیے رابطہ کیا۔ اب شرما ورما کی جوڑی تو رہی نہیں تھی، ضیاء سرحدی نے پوچھا تمھارا اصل نام کیا، خیام بولے ”محمد ظہور خیام ہاشمی“، ضیاء سرحدی نے کہا، ”بس تم اس فلم میں خیام کے نام سے موسیقی دو گے۔ “ یوں انھیں خیام کا انوکھا اور منفرد نام ملا۔

”فٹ پاتھ“ ان کی زندگی کی اہم ترین فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انھوں نے طلعت عزیز کی آواز میں مجروح سلطان پوری کی غزل ”شام غم کی قسم“ ریکارڈ کی۔ یہ غزل دلیپ کمار پر فلمبند کی گئی تھی۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج تقریباً 66 برس بعد بھی اس کا جادو قائم ہے۔ یہ گیت ہر دم تازہ محسوس ہوتا ہے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک اداس سمفنی ہوا میں تیرتی ہوئی شام کو مزید اداس بنارہی ہے۔ اس گیت کی دھن آج بھی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ایک نئی تکنیک کا موجب مانی جاتی ہے، جس میں غزل کے روایتی ردھم کے سازوں یعنی طبلہ یا ڈھولک کے بجائے سپینش گٹار اور ڈبل بیس سے ردھم دیا گیا ہے۔

”فٹ پاتھ“ کے بعد اگلی کامیابی حاصل کرنے کے لیے خیام صاحب کو سات برس انتظار کرنا پڑا۔ خیام کی زندگی میں انقلاب اس وقت آیا جب فلمساز رمیش سہگل نے اپنی فلم ”پھر صبح ہوگی“ کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ اس فلم کے ہیروراج کپور تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کی ہر فلم کا میوزک شنکر جے کشن ہی بناتے ہیں۔ ”پھر صبح ہوگی“ عظیم روسی ناول نگار دستوفسکی کے مشہور ناول ”جرم وسزا“ پر مشتمل تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہر طرف کمیونزم کا چرچا تھا اور ترقی پسند تحریکیں عروج پر تھیں۔ خیام بھی ذہنی طور پر ترقی پسند گروپ سے تعلق رکھتے تھے، اور ترقی پسند مصنفین اور ادیبوں میں اٹھتے بیٹھتے تھی۔ فلم کے پروڈیوسر کا خیال تھا کہ اس فلم کی موسیقی کوئی ایسا شخص بنائے جس نے نہ صرف یہ روسی ناول پڑھ رکھا ہو بلکہ وہ اس تحریک کو سمجھتا بھی ہو۔

یوں یہ موقع خیام کو مل گیا۔ خیام نے اس فلم میں شاندار موسیقی ترتیب دی۔ اگرچہ فلم کچھ زیادہ کامیاب نہ رہی لیکن اس کے گیت مقبول ہوگئے۔ ’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘ ، ’آسماں پہ ہے خدا اور زمین پہ ہم‘ اور ’رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا‘ ، یہ وہ گیت تھے جو بچے بچے کی زبان پر چڑھ گئے تھے۔ ’پھر صبح ہوگی‘ کے گیت ساحر لدھیانوی نے لکھے تھے۔ اس فلم کے بعد ساحر اور خیام جب بھی اکٹھے ہوئے، نہایت خوبصورت گیت سننے کو ملے۔

اس فلم کے بعد خیام کو کئی فلموں میں موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا، جن میں ’شعلہ اور شبنم‘ ، ’محبت اس کو کہتے ہیں‘ ، ’آخری خط‘ اور ’شگن‘ اہم ہیں۔ ’شگن‘ ( 1964 ) کی خاص بات یہ ہے کھ اس فلم میں جگجیت کور کا گایا ہوا ایک گیت ’تم اپنا رنج او غم اور یہ پریشانی مجھے دے دو‘ امر گیت بن گیا۔ جگجیت کور بعد ازاں خیام کی شریک حیات بن گئیں۔ اگرچہ انھوں نے فلموں میں زیادہ گیت نہیں گائے، لیکن جتنا بھی گایا وہ یادگار ہے۔ خیام صاحب ان کی آواز کو منفرد آواز کہا کرتے تھے، ’شگن‘ کا یہ گیت آج بھی ان کی پہچان ہے۔

اگرچہ فلم ’آخری خط‘ ( 1966 ) میں لتا منگیشکر کا گایا ہوا گیت ’بہاروں میرا جیون بھی سنوارو‘ ایک سدا بہار گیت ثابت ہوا اور بے حد مقبول ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود خیام صاحب کے پاس اتنا کام نہیں تھا۔ اس زمانے میں انھوں نے جن چند مزید فلموں کی موسیقی ترتیب دی ان میں ’پیاسے دل‘ ، ’مٹھی بھر چاول‘ اور ’سنکلپ‘ شامل ہیں۔ ’سنکلپ‘ میں سلکشنا پنڈت کو ان کے گائے ہوئے گیت ’تو ہی ساگر تو ہی کنارہ‘ کے لیے فلم فیئر ایورڈبھی ملا۔

عجیب بات یہ تھی کہ یہ فلمیں زیادہ نہیں چل رہی تھیں لیکن ان کا سنگیت مقبول ہورہا تھا۔ اس زمانے میں جوبلی فلموں کی دوڑ لگی ہوئی تھی، ہر فلمساز چاہتا تھا کہ اس کی فلم سلور جوبلی یا گولڈن جوبلی کرے۔ خیام صاحب کی کامیاب فلموں کا تناسب بہت کم تھا، اس لیے فلمساز ان کے ساتھ کام کرنے سے کترا رہے تھے۔ ان کا خیال تھا اگر خیام لو لے لیا تو فلم جوبلی نہیں کرے گی۔ ایسے حالات میں یش چوپڑا نے بھی اپنی فلم ’کبھی کبھی‘ میں خیام کو لینے کے لئے دس بار سوچا۔ لیکن ’کبھی کبھی‘ کی موسیقی نے مقبولیت کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور فلم نے سلور جوبلی ہی نہیں بلکہ گولڈن جوبلی منا کر خیام صاحب سے متعلق تمام بد گمانیوں کو دور کردیا۔

خیام صاحب کے نا امیدی کے دور میں ’کبھی کبھی‘ کی شاندار کامیابی ان کے لیے زندگی کا پیغام لے کر آئی۔ ’میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘ ، ’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘ ، ’میرے گھر آئی ایک ننھی پری‘ اور ’تیرے چہرے سے نظر نہیں ہٹتی‘ جیسے گیتوں نے انھیں نئی نسل کا ہردل عزیز موسیقار بنا دیا۔ وہ دور صحیح معنوں میں ان کے لیے ’سنہری دور‘ ثابت ہوا۔ ۔ ’کبھی کبھی‘ کے بعد کے بعد انھوں نے یش چوپڑا کی دو اور فلموں ’ترشول‘ اور ’نوری‘ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی اور ہمیں ’محبت بڑے کام کی چیز ہے‘ ، ’چوری چوری کوئی آئے‘ اور ’آجا رے او میرے دلبر آجا‘ جیسے خوبصورت گیت سننے کو ملے۔

بعد ازاں انھوں نے کمال امرہوی کی فلم ’شنکر حسین‘ میں بے مثال سنگیت دیا۔ ’اپنے آپ راتوں میں چلمنیں سرکتی ہیں‘ اور ’آپ یوں فاصلوں سے گزرتے رہے‘ وہ نغمے ہیں جنھیں لتا منگیشکر کے خوبصورت ترین گیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

’تھوڑی سی بیوفائی‘ میں ان کی دھنوں کو گلزار کی شاعری ملی اور ایک سے بڑھ کر ایک گیت سننے میں آیا، ’ہزار راہیں مڑ کے دیکھیں کہیں سے کوئی صدا نہ آئی‘ ، ’آنکھوں میں ہم نے آپ کے سپنے سجائے ہیں‘ ، اور ’آج بچھڑے ہیں کل کا ڈر بھی نہیں‘ آج بھی سننے والوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد ’ناخدا‘ ، ’درد‘ ، اور ’آہستہ آہستہ‘ جیسی فلموں کی موسیقی بھی مقبول ہوئی لیکن ان کی زندگی کی وہ تین فلمیں جنھوں نے خیام کو امر کردیا، وہ تھیں ’امراؤ جان‘ ، ’بازار‘ اور ’رضیہ سلطان‘ ۔ ان میں کمال امروہی کی ’رضیہ سلطان‘ ( 1983 ) اگرچہ اچھا بزنس نہ کر سکی لیکن اس کی موسیقی اس قدر دل کش تھی کہ لتا منگیشکر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کھ ’رضیہ سلطان‘ کا گیت ’اے دل اے نادان‘ ریکارڈنگ کے بعد کئی مہینوں تک ان کے دماغ میں گونجتا رہا۔ یہ گیت سن کر جو سکون ملتا ہے اس کو لفظوں میں بیاں نہیں کیا جا سکتا۔ اسی فلم میں ’جلتا ہے بدن‘ ، آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے ’اور‘ تیرا ہجر میرا نصیب ہے ’جیسے اعلی گیت بھی شامل تھے۔

لیکن ’رضیہ سلطان‘ سے دو سال پہلے 1981 میں مظفرعلی کی فلم ’امراؤ جان‘ کی موسیقی خیام کو تاریخی شہرت دے چکی تھی۔

’دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجیے‘ ، ’ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں‘ اور ’یہ کیا جگہ ہے دوستو‘ جیسے گیت خیام کی دھنوں اور آشا بھوسلے کے سروں میں سننے والوں کی پہلی پسند بن گئے تھے۔ آشا بھوسلے نے اس فلم سے پہلے سینکڑوں خوبصورت گیت گائے تھے، لیکن آشاکا ذکر کرتے ہوئے ان کے جن گیتوں کو سب سے پہلے یاد کیا جاتا ہے وہ اسی فلم کی غزلیں ہیں۔ آشا بھونسلے ’امراؤ جان‘ کے گیتوں سے فلمی موسیقی کے عروج پر ہی نہیں پہنچیں بلکہ وہ اس فلم کے گیتوں سے امر ہو گئیں۔

فلم ’امراؤ جان‘ کے اگلے سال ساگر سرحدی کی فلم ’بازار‘ آئی اور اس فلم نے بھی خیام صاحب کے کام کی انفرادیت کو ثابت کردیا۔ اس فلم میں خیام نے مرزا شوق کی مثنوی ’زہرعشق‘ کا ایک ٹکڑا ’دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے، کوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے‘ اپنی بیوی جگجیت کور سے گوایا، اسی فلم میں انھوں نے میر کی ٖ غزل ’دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا‘ لتا منگیشکر سے گوائی، اس کے علاوہ ’کرو گے یاد تو ہربات یاد آئے گی‘ اور ’پھر چھڑی رات بات پھولوں کی‘ جیسے گیت بھی اس فلم میں شامل تھے۔ یہ تمام نہایت اعلیٰ پائے کے شاہکار تھے اور سب کے سب نہایت مقبول ہوئے۔

خیام صاحب نے اپنی زندگی میں جہاں بے حد جدوجہد کی وہیں خوب شہرت بھی پائی اور دنیا کو بتا دیا کھ خیام ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اچھے اچھے موسیقاروں کے جمگھٹے میں بھی خیام منفرد ہی رہے۔ وہ بڑے موسیقار ہی نہیں، بڑے انسان بھی تھے۔ تقریباًدو سال پہلے اپنے 90 ویں جنم دن پر خیام نے ایک ٹرسٹ بنا کر اپنی لگ بھگ 12 کروڑ روپے کی جائیدادکو نئے آنے والے اور مستحق فنکاروں کے لیے وقف کردیا۔

اپنے فلمی گیتوں کے ساتھ بے شمارغیر فلمی گیت تخلیق کرکے خیام نے موسیقی کی دنیا کو جو تحفہ دیا اس کے لیے انھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا تھا جن میں پدم وبھوشن جیسا بڑا اعزاز بھی شامل ہے۔ خیام صاحب کے گیتوں پر ان کی چھاپ ہوتی تھی، ہم جب بھی ان کے گیت سنیں گے، یہ چھاپ ان کی یاد دلاتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •