تین سو ارب کی معافی۔۔۔ذرا ٹھہریے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرپشن کے خلاف مہم کو ڈھال بنا کر غریب مار مہنگائی کو جسٹیفائی کرنے والو کیا آپ کے علم میں ہے کہ آپ کی صاف شفاف چلنے والی حکومت نے ایک ہی جست میں صنعت کاروں کو تین سو ارب کے قرضے معاف کر کے اب تک کی ملکی تاریخ کا سب سے بڑا لیگل ڈاکا ڈالا ہے؟

کیا آپ کو علم ہے کہ اس معاف شدہ قرض کا حجم اب تک کی ہمار ی مجموعی سیاسی بنیادوں پر مبنی قرضہ معافی تاریخ سے بھی بڑا ہے؟
کیا آپ کے علم میں ہے کہ اس لیگل کرپشن کے حمام میں اشنان کر کے پوتر ہونے والے تمام کے تمام وہ لوگ ہیں جن سے آپ کی لاڈلہ پارٹی کو ماضی میں، حال میں یا مستقبل میں فائدہ ہوگا؟

کیونکہ اس قرضہ معافی سے ”صاف اور شفاف چلی“ بھی اب وہ کاروباری مافیا دوست شناخت بنانے جا رہی ہے جو ماضی کی حکومتیں بناتی رہی ہیں۔ کبھی اقتصادی پالیسیز متعارف کروا کر تو کبھی قرضے معاف کر کے۔ اب بڑے بڑے صنعتکار پی ٹی آئی کی بھی بیک پہ ہوں گے۔ کبھی الیکشن سپانسر کرنے کے لئے تو کبھی ہنگامی فنڈز اور دھوتی بچاؤ مہم میں ساتھ دینے کے لئے۔ کیونکہ نواز و زرداری دور کی طرح اب پی ٹی آئی بھی صنعتکاروں اور بڑی مچھلیوں کو انڈائرکٹ ایس آر او سے نواز رہی ہے۔

مجھے کچھ حیرت نہیں ہوگی کہ اگر پی ٹی آئی والے اور ان کے حواری اور ان کے حواریوں کے حواری، ووٹر اور سپوٹرز اس قرضہ معافی کو یہ کہہ کر جسٹیفائی کریں کہ ”جب ستر سال تک کرپٹ حکومتیں قرضے معاف کرتی رہیں تو تب تم لوگ کہاں تھے اب آ گئے ہو بڑ بڑ کرنے؟ “

کیونکہ یہ فقرہ پورے ایک سال سے ہم سن رہے ہیں۔ مگر بات پتا ہے کیا ہے؟ کسی قوم کا بد ترین وبال وہ ہوتا ہے جب وہ اپنی برائی کو کسی برائی کی مثال دے کر جسٹیفائی کرنا شروع کردے۔ جب لوگ غلطیوں کا غلطیوں سے موازنہ کر کے اپنے ضمیر مطمئن کرنا شروع کرتے ہیں تو یہ لمحہ ضمیر کی موت ہوتا ہے۔ اور جب ہم یہ کام حکومتی پالیسیز اور کاموں کو لے کر کرتے ہیں (محض اپنے ذاتی فائدے، یا پھر ذاتی وابستگی کو لیکر) تو پھر یہ اجتماعی قومی ضمیر کی موت ہوتی ہے۔

لہٰذا صاف شفاف کی جسٹیفیکیشن والو ذرا ٹھہرو! اور سنو۔ یہ جتنی حکومتیں تھیں نہ ماضی کی کہ وہ محض تبدیلی کے نعرے پر نہیں آئیں تھیں، وہ کرپشن کے خلاف جنگ کا ماٹو لے کر نہیں آئیں تھیں، ان کا مینڈیٹ بھی تبدیلی نہیں تھا نہ ہی ان پر عوام نے اس وجہ سے اعتبار کیا تھا کہ وہ نیا پاکستان بنائیں گی ایک ایسا پاکستان جہاں غریب کو خود کشی نہیں کرنی پڑے گی، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہوگا، جہاں وراثتی سیاست و حکومت خاتمہ ہو جائے گا، جہاں مہنگائی سے تنگ ماں باپ بچے برائے فروخت کا بورڈ لے کر سڑکوں پر نہیں آئیں گے، جہاں وی آئی پی کلچر کی زد میں آ کر رکشوں میں بچے پیدا ہوں گے نہ ایمبولینس میں کسی کی موت ہوگی، جہاں ایک عام آدمی کا بچہ بھی پارلیمنٹ تک پہنچے گا، جہاں ویٹیج جیب کو نہیں دماغ کو حاصل ہو گا۔

جہاں لوگ باہر سے نوکریاں کرنے آئیں گے، جہاں ایک کروڑ نوکریاں پہلے سو دن میں مل جائیں گی، جہاں لاکھوں گھر تعمیر ہوں گے، جہاں ہر چیز سستی ہو گی، یہاں تک کہ پیٹرول باون روپے ہو گا اور دو سو ارب ڈالر جو باہر کے ملکوں میں پڑا ہے وہ خان کی حکومت کے دوسرے ہی دن واپس آ جائے گا، اور آئی ایم ایف کے منہ پر اس کا قرضہ مارا جائے گا۔ جہاں اس ملک کا پیسہ لوٹنے والے یہ پیسہ اپنے ہاتھوں سے قومی خزانے میں جمع کروائیں گے، بڑی بڑی مچھلیوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے کینچوے نہیں پکڑے جائیں گے، جہاں ذاتی عناد اور دشمنی کے بجائے ملکی مفاد میں سیاست و حکومت کی جائے گی اور عوام کی جیب پر نہ ڈاکا ڈالا جائے گا نہ کسی کو ڈالنے دیا جائے گا۔ جہاں کرپٹ مافیا کی حکومت تو کیا اس ملک میں بھی کوئی جگہ نہ ہوگی۔ یہ سب، یہ سب وعدے آپ کے تھے۔ ان سرٹیفائیڈ کرپٹ حکومتوں کے نہیں تھے۔

اور ہم نے آپ پر، آپ کے وعدوں پر من و عن اعتبار کیا اور اپ نے وہی سارے کرپٹ اور زنگ آلود سیاسی لوٹے کھینچ کھانچ کے اپنی ٹرالی میں بھر لیے (جبکہ غریب کا ذہین اور صاف ستھرا بیٹا کبھی پارلیمنٹ نہ پہنچ سکا) اور توجیح دی کہ الیکٹیبلز آپ کی مجبوری ہیں کیونکہ سسٹم ہی ایسا ہے۔ ہم مان گئے کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ لیڈر اچھا ہو تو سب اچھے ہوتے ہیں۔ آپ نے آتے ہی مہنگائی اتنی بڑھا دی کہ ہماری چیخیں نکل گئی مگر ہم نے منہ میں کپڑے ٹھونس لیے کہ ہمارے لیڈر نے کہا تھا گھبرانا نہیں۔ ہم نے یہ سوچ کہ دل کو تسلی دی کہ مصنوعی طریقے سے روکی گئی مہنگائی اصل صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے ہم ملاوٹ کے عادی تھے مگر اب خالص پییں گے تھوڑا مہنگا ہے تو کیا ہوا۔

آپ نے ہائیر ایجوکیشن کے فنڈز اور سکیمز ختم کر دیں ہم سہہ گئے کہ ملک ابھی اس کا متحمل نہیں ہے، اگرچہ وزیر اعظم ہاؤس کی تزئین و آرائش پر بے بہا خرچ ہو گیا مگر ہم نے اس کو آپ کی محبت میں در خوراعتنا نہ سمجھا۔ آپ کا ہیلی کاپٹر پچپن روپے والا شوشہ بھی ہم نے تسلیم کیا۔ وی آئی پی کلچر نے جو تباہی مچائی ہم نے آپ کے عشق میں اور آپ کے کرپٹ لوٹوں کا ذاتی فعل سمجھ کر اس کو اگنور گیا۔ ہم نے اس بات پر بھی چیں تک نہ کی کہ ایک طرف تو سرکاری ملازم کی تنخواہ دس فیصد بھی نہیں بڑھی جبکہ دوسری طرف سینٹ اور اسمبلیوں میں بیٹھے غریبوں کی تنخواہیں اور مراعات ایک ہی جست میں ڈبل اور ٹرپل ہو گئیں۔ حالانکہ ہماری اس وقت بھی مہنگائی کے بوجھ سے ٹیاؤں بجی ہوئی تھی مگر ہم ہس کہ سہہ گئے کہ خان کتنا پیارا ہے۔

خان صاب آپ کی ، صرف آپ کی قمیض میں ہوئی دو موریوں کے صدقے ہم نے ہو شربا مہنگائی، بے جا کے ڈائریکٹ ٹیکس، آپ کے کرپٹ حواریوں کی کرتوتیں، وہی پرانے گھسے پٹے کرپٹ چہرے بھی برداشت کیے۔ ہمارے عشق کے گہرا اور پکا ہونے کا حال یہ تھا کہ ہم نے اس عشق میں غرق ہو کر عامر لیاقت حسین، فواد احمد، اور فردوس عاشق اعوان اور پتا نہیں کس کس کی شان میں قصیدہ گوئی کی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •