سیاست اور عوام کا ہتھیار

دنیا کے ہر کھیل میں ایک ہتھیار (ٹول) ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ کھیل کھیلا جاتا ہے اور سیاست وہ کھیل ہے جہاں وہ ہتھیار دوسرا انسان ہے جس کے ذریعے سارا کھیل کھیلا جاتا ہے اور جیتا جاتا ہے کوئی بھی سیاست دان اس انسانی ہتھیار کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔ عام…

Read more

کاکروچ میاں اور میں

نماز پڑھنے اور دعا مانگنے کے بعد ابھی مصلے پر بیٹھی تھی کہ پاس پڑے موبائل کا دیدار کیا جاتا ہے اور جسے ایسے پکڑا گیا گویا کہ آج کوئی خزانہ نکال ہی لیا جائے گا ابھی خزانے کی تلاش جاری ہی تھی کہ آنکھیں سامنے سے آتے ہو کاکروچ کے ساتھ چار ہوتی ہیں…

Read more

شیطان قید ہے

رمضان المبارک کا مہینہ ہے، برکات کا نزول ہے، رحمت برس رہی ہے، کرم عام ہے، ہر طرف نیکیاں ہی نیکیاں ہو رہی ہیں، عبادات کی جا رہی ہیں، رب کا خاص احسان ہے ہم پہ۔ ایسے میں جب شیطان بھی قید ہے تو معاملہ اور اچھا ہو جاتا ہے مگر ہم تو ہم ہیں اور ہمیں جہاں موقع ملتا ہے ہم اپنا حصہ ڈالنے سے بعض نہیں آتے ہیں پھر چاہے کسی تذلیل ہو، کالی گلوچ ہو، غیبت ہو، دوسروں کے کردار کو جانچنا ہو، کسی کی حق تلفی ہو، ہم سے رہا نہیں جاتا ہے۔

Read more

نا کامی، کام یابی کی کنجی ہے

کہا جاتا ہے کہ جب ایڈیسن نے بلب بنانا چاہا تو 999 کوششیں نا کام گئیں اور ہزارویں دفعہ بن گیا۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے 999 نا کام طریقوں کے بعد ہزارویں بار صحیح بلب بنایا اور وہ کام یاب طریقہ ایجاد کیا، جس سے بلب بنایا جا سکتا ہے، تو…

Read more

ناز

ناز ایک معاشرتی ناول ہے جو ایک سچی کہانی پر مبنی ہے جس کی رائٹر تسنیم کوثر ہیں جو انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں کونسلنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں اور لوگوں کو پریشانی سے نکالنے میں لگی رہتی ہیں اور ان کا اللہ سے رابطہ استوار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ…

Read more

درخت لگائیں، ملک کو سنواریں

پچھلے ہفتے جب ہمیں فوسٹر پاکستان کی طرف سے شجرکاری کا پروجیکٹ دیا جاتا ہے تو شجرکاری شجرکاری بہت سنا تھا مگر تب جب پہلی بار سکول کے بچوں کے ساتھ شجرکاری کی تو خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اور سکون اپنی جگہ۔ شجرکاری سے پہلے اس کی اہمیت اور ضرورت کو جاننا بھی بہت…

Read more

ابھی دیر نہیں ہوئی

جس راہ کو آپ چھوڑ چکے ہوں اور آگے نکل چکے ہوں مگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ جس راہ کو آپ نے چھوڑا تھا وہ آپ کی تھی اور آپ اب دوبارہ واپس مر جانا چاہتے ہوں مگر ایسا ممکن نہیں آپ دوبارہ اس وقت میں چلے جائیں اور وہاں جا کر وہ…

Read more

میڈیا، بریکنگ نیوز اور ٹینشن

آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ایسے میں تو یہی لگتا ہے کہ مسکرانا منع ہے جس طرف دیکھو بری خبریں ہی سنائی دیتی ہیں ایسے میں بندے کی گبھڑاہٹ ہی نہیں جاتی اس زمر میں میڈیا خاص اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے ہر وقت سنسنی پھیلا ئے رکھنے کا عہد کر لیا اور اب تو یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات کو اس طرح سنسنی خیز بنا دیا جاتا ہے کہ کیا کہیے۔نیوز چینلز کی بات ہی مت کیجئے آپ خود ہی دیکھیے کہ جب بھی ٹی وی آن کریں اور نیوز چینل پر کریں تو کسی نہ کسی حادثے یا سانحے کی خبر ہی ملتی ہے، معجزہ۔ ہی ہوجاتا جب کوئی اچھی خبر سننے کو ملے۔

Read more

امن پرستی اور وطن پرستی

پلوامہ اٹیک کے کئی دنوں تک بھارت جنگ کی دھمکیاں دیتا رہا مگر کسی نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا یہاں تک کہ بدھ کے دن بھارت کے طیارے لائن آف کنٹرول کو کراس نہیں کر لیتے ہیں، جس کے بعد تفشیش بڑھ جاتی ہے اور پاکستان کے بہادر جوان ان کو نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ اب سب کہنا شروع کر دیتے ہیں ابھی جنگ ہوئی ابھی ہوئی اور ابھی ہوئی، ہر جگہ انٹرنیٹ ہو، ٹی وی سکرین ہو یا موبائل فون ہو ہر جگہ ماحول گرم ہے ہر کوئی جنگ جنگ کرنے لگا ہوا تھا۔ہم لوگ یونیورسٹی میں تھے جب خبریں گردش زدہ عام تھیں، دل گھبرا رہا تھا، زبان سے بس یہی نکلتا تھا خدا خیر کرے۔ آزاد کشمیر کے ساتھی زیادہ پریشانی میں تھے، ان کے تو علاقے بھی خالی کرا لیے گئے تھے۔ مگر اس سب میں ایک چیز نمایاں تھی وہ جذبہ تھا کسی میں بھی کم نہ تھا، سب وطن کے لیے لڑنے مرنے کو تیار تھے، اس کی سکت ان میں تھی یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ مگر اس سب میں، میں نے جو جانا ہے وہ یہ کہ بیک وقت وطن پرست اور امن پسند نہیں رہا جاسکتا ہے، یا تو وطن پرستی نبھائی جا سکتی ہے یا امن کی خواہش کی جا سکتی ہے۔

Read more

قاتل کون

سب صحیح کہتے ہیں میں زمین پر بوجھ ہوں اس لئے مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، میرا مر جانا ہی بہتر ہے۔ کاغذ پر یہ سطریں بکھری پڑی تھیں، جو زمین پر علی کے ساتھ گرا پڑا تھا، علی کے منہ سے سفید جاگ نکل رہی تھی۔

مریم اماں سے کہتی ہے یہ علی کہاں ہے؟ کب سے بلا رہی ہوں مجھے کوثر کی طرف جانا ہے۔ کہیں موبائل پر لگا ہو گا نمرہ سے باتیں کرنے۔ آپ اسے سمجھاتی کیوں نہیں۔ اماں کہتی ہے، میں کیا سمجھاؤں وہ سمجھتا کب ہے میری، ویسے بھی بچپن کی منگنی ہے۔

مریم اگے سے ہاں آپ کیوں سمجھائیں گی وہ تو ویسے بھی آپ کا لاڈلا ہے، اب میں خود ہی جارہی ہوں اس نے تو سننی نہیں بات، آج کل رہتا بھی اتنا چڑچڑا ہے۔ نمرہ فون پر ایمان سے کہتی ہے، میں نے توڑ لی ہے منگنی علی سے، میں تنگ آ گئی تھی اس کے پاگل پن سے، وہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ ابھی بابا اور پھوپھو لوگوں کو نہیں پتہ مگر اماں کو بتا دیا ہے انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ میرا ساتھ دیں گی اور بابا کو منا لیں گی۔

Read more