غریب کی فریاد: حکومت کا خاتمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کا کوئی باشندہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مہنگائی نے سب کی کمر توڑ دی ہے۔ درزی سے لے کر معمار تک چھوٹے تاجر سے لے کر بزنس ٹائی تک سب پریشان ہیں۔ ڈاکومنٹڈ معیشت کے نام پر لوگوں کی جیبوں اور گھروں سے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی ادارے پیسہ نکالنا چاہتے ہیں۔ سونا، پٹرول اور ڈالر تینوں مہنگائی کی انتہا کو پہنچ رہے ہیں۔ پاکستانی روپیہ تاریخ کی بد ترین سطح پر آ چکا ہے۔ ملکی قرضے ملکی بجٹ سے بھی تجاوز کر رہے ہیں۔

خوفناک صورت حال ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہوتا ہے۔ عام اشیاء خورونوش کی قیمتیں بڑھتے بڑھتے آسمان پر جا پہنچی ہیں۔ چینی باون روپے سے پچاسی جبکہ کوکنگ آئل 160 سے 210 تک فی کلو جا پہنچا ہے۔ اکتوبر تک قیمتیں انتہا تک پہنچ جائیں گی۔ جن فیمیلیز کا گزارہ 30 ہزار میں ہوتا تھا ان کا ماہانہ خرچ اب 60 ہزار تک جا پہنچا ہے۔ ٹیکسز کی بھرمار کی وجہ سے تاجر طبقہ سراپا احتجاج ہے۔

ان حالات میں سب کی دیرینہ خواہش اس حکومت کا خاتمہ ہے۔ سب کی نظریں کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔ عوام تیار بیٹھے ہیں۔ کوئی قیادت کرے اور سڑکوں پر آئے۔ عوام اس کی پشت پر ہوں گے۔ یہ کام کرنے جا رہے ہیں مولانا فضل الرحمن صاحب۔ مولانا کا غریب عوام پر بڑا احسان ہو گا اگر وہ حکومت کے خاتمہ میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں غربت کے مارے عوام مولانا کی کال پر اسلام آباد کی طرف یوں لپکیں گے جیسے بھوکے روٹی پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ملک کا ہر طبقہ انتظار میں بیٹھا ہے۔ دیگر جماعتیں ساتھ دیں یا نہ دیں۔ عوام ضرور مولانا کا ساتھ دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •