اسلام کی عالمگیریت اور ہماری تنگ نظری
”اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات ہے“ یہ جملہ بچپن سے کتابوں میں پڑھتے اور بزرگوں سے سنتے آئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس بات کو نصاب تک ہی محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی کہ عوام الناس کو ایک نعرہ مستانہ دے دیا جائے جسے جب جب جب دل چاہا استعمال کرکے ان کی گردنوں پر حکومت کی۔ ہر دو طرف سے اسلام کو محض ایک مذہب کے طور پر پیش کرنے اور اس بات کی ترویج کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبکہ اسلام ایک مذہب سے بڑھ کر ایک دین ہے۔ دین بھی ایسا جو عین فطرت کے تقاضوں کے موافق و مطابق۔
اس سے پہلے کہ بات بڑھے دین اور مذہب کا مفہوم واضح ہوجانا چاہیے۔ تعریف کے مطابق مذہب عبادات کے مجموعے کا نام ہے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ عبادات کی ادائیگی کے ایک مخصوص اسلوب کو مذہب کہتے ہیں۔ مذہب انسانوں کے ایک مخصوص گروہ سے متعلق ہوتا ہے۔ دین، اس کے برعکس، ایک مکمل نظام حیات ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ کائینات کی تمام اکائیوں سے متعلق رہنما اصول مہیا کرتا ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ دین ایک راستہ ہے جو ایسی منزل کی طرف لے کے چلتا ہے جو فلاح و بہبود سے مزین ہے۔
اسلام کیا ہے؟ دین یا مذہب۔ اس کا تعین اسلام خود کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰھِ الْاِسْلَامُ
بیشک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین اسلام ہے۔
کم و بیش 79 مقامات پر اسلام کے لئے دین کا لفظ قرآن کریم میں مستعمل ہے۔ اسلام محض مذہب ہو بھی نہی سکتا کیونکہ یہ زندگی کے تمام لوازمات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کائینات کے تمام علوم و عجائبات جو سائنس کی ترقی سے آج آشکار ہو رہے ہیں چودہ سو سال بیشتر ان کی خبر اور ان کی جستجو کی دعوت دی جا چکی ہے۔ سیاست، فلسفہ، علم النجوم، دریاؤں کی روانی، دن اور رات کی الٹ پلٹ، پہاڑوں کی ہیئت و بناوٹ بوٹنی، زووالوجی، میڈیکل سائنس غرضیکہ تمام علوم کا ذکر اسلام کی بطور دین اجتماعئیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ معاشرتی عدل وانصاف، قومی اور بین الاقوامی معاہدات اور ان کی اہمیت، تجارت و حکومت سے متعلق راہنما اصول متعین کرتا ہے جن پر عمل درآمد امن و راحت کا ضامن ہے۔
خرابی کہاں آتی ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے اسلام کی غلط تشریح اور اس پر ہٹ دھرمی سے نہ صرف خود قائم رہنا بلکہ اسے دوسروں پر بھی مسلط کرنا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی غیر مسلم پر اسلام کی قبولیت یا اسلامی قوانین کی پیروی کے لئے تشدد نہیں کیا۔ بلکہ مدینہ منورہ میں ایک ریاستی نظام قائم کرتے کرتے وقت وہاں موجود یہودیوں کو نہ صرف زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی بلکہ ریاست کے تحفظ کے لئے کی جانے والی جنگوں سے بھی استثناء دیا۔
ان کا صوابدیدی اختیار تھا کہ چاہے تو دفاع کے لئے آ جائیں۔ مدینہ سے باہر ہونے والی فتوحات کے بعد بھی متعلقہ ریاستوں کے غیر فوجی عوام کو مکمل تحفظ کا اہتمام کرنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ جنگوں کا آغاذ بھی اسی صورت ہوتا تھا کہ ان سے متعلق جارحانہ عزائم کا اظہار ہوتا ہو۔ غزوہ تبوک کی ہی مثال لے لی جائے کہ سخت ترین مشقتوں کے باوجود ہفتوں تک اسی بات کا انتظار رہا کہ جنگ کا آغاز دوسری سمت سے ہو۔ ایسا نہ ہوا تو بنا جنگ کیے واپس لوٹ آئے۔ یاد کرو وہ وقت جب قتیبہ بن مسلم نے اسلام کے متعین کردہ اصولوں سے روگردانی کرکے رات کے اندھیرے میں سمرقند کو فتح کرلیا تو اسی لشکر سے ایک شخص نے قاضی بن کر فیصلہ سنایا کہ اسلامی لشکر فی الفور شہر خالی کردے۔ مال غنیمت واپس کرکے شہر کے ایسے خالی کردیا گیا جیسے ہارا ہوا لشکر پلٹ کے جاتا ہے۔
جنگی قیدیوں کے لئے یکساں قوانین تھے۔ بدر کے بعد رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بے چین کروٹیں لیتے رہے تو صحابہ کرام نے پوچھا یارسول اللہ کیا ہوا۔ ارشاد فرمایا کہ میرے چچا قید میں ہیں، کیسے راحت پاؤں۔ باقی لوگوں کے ساتھ اپنے داماد کو اور سگے چچا کو قید میں رکھا۔ جب رہا فرمایا تو سب کو آزادی دی۔ اس دن غلامی کے خاتمے کی داغ بیل ڈال دی کہ انسانوں کو غلام بنانے کی سب سے بڑی وجہ جنگیں تھیں۔ جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے کا اعلان انسانیت کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
زکوۃ کے مصارف میں بھی ایک مصرف قیدیوں کو آزاد کروانے میں ہے۔ یعنی غلامی کو سخت ناپسند فرمایا گیا ہے۔ فتح مکہ کے دن اس بات کا اعلان فرمادیا گیا کہ اب انسانوں کو غلام نہی بنایا جائے گا۔ ناحق انسانی خون کو انسانوں پر حرام کردیا گیا۔ مجرموں کے لیے، خواہ وہ بیٹی اور چچا کے قاتل ہی کیوں نہ ہوں، معاف کردیا گیا
۔ اسلام سے قبل دنیا نے بخت نصر جیسے فاتح دیکھے تھے جو تہذیبوں کو نیست و نابود کردیا کرتے تھے۔ اسلام کا مزاج اس سے یکسر مختلف ہے۔ آسمان زمین کے مشاہدے میں آیا کہ ایک مغلوب قوم کی بیٹی کے لئے فاتح لشکر کا سردار اپنی چادر بچھا رہا ہے۔ پھر ایک منظر دیکھا کہ چچا کا کلیجہ چبانے والی کے گھر کو امان گاہ کا درجہ دیا جارہا ہے۔ یہ سب کرنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ انسانیت کو بردباری اور محبت کا پیغام دیا جائے۔
جو لوگ دین قبول کرلیں ان کے لئے الگ قوانین ہیں جو کلی طور پر معاشرے کی فلاح کے لئے ہیں۔ خواتین کو نہ صرف زندگی کا حق ملا بلکہ ان کے معاشرتی مسائل کا ادراک و تدارک بھی کیا گیا۔ وراثت کا حق خواتین کو اسلام نے دیا۔ خواتین کی تعلیم و تربیت کی باقاعدہ کوششیں کی گئیں۔ خلع خالصتا اسلام کا تصور ہے۔ عورت کی گواہی تسلیم کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب یہی نکلتا ہے کہ اسے فیصلہ سازی کا اختیار ہے۔ یعنی ووٹ کا سب سے پہلے حق خواتین کو اسلام نے دیا ہے۔ عورت خود کا کاروبار کر سکتی ہے۔ منصف لگ سکتی ہے اور سب سے بڑھکر جنگوں میں سربراہی کرسکتی ہے۔ مطلب اسلام نے ہی عورت کو فضیلت بخشی ہے۔
والدین کے حقوق و فرائض، ہمسایوں کا حق، اور چوپایوں کے حقوق کا تعین اسلامی نظام حیات ہی میں ملتا ہے۔ صدقہ زکوٰۃ کے نظام سے فلاحی ریاست کا تصور بھی اسلام ہی کا مہیا کردہ ہے۔ یہ اسلام ہی کی تعلیم ہے کہ حاکم وقت ایک کتے کے بھوک سے مرنے پر خود کو جوابدہ سمجھتا ہے۔
اسلام نے انسانوں کی برابری کو عملی طور پر دکھایا ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع کا مرکزی خیال انسانیت کی فلاح ہے۔ اسلام نے کسی گورے کو کالے پر یا کسی عربی کو عجمی پو کوئی فضیلت نہی دی بلکہ اس کا معیار تقوی پر رکھا ہے۔ تقوی یہ ہے کہ جو اپنے لئے پسند کیا جائے وہ اپنے بھائی کے لئے پسند کیا جائے۔ انسان کبھی پسند نہی کرتا کہ اس پر ظلم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ظالم کا ساتھی بھی نہ بنے۔ خود بھوکا نہی مرنا چاہتا تو دولت کے ارتکاز سے افلاس کا باعث بھی نہ بنے۔ خود غلام بننا پسند نہی کرتا تو غلام بنانا بھی چھوڑدے۔ یہی تقوی ہے اور اسی میں فضیلت ہے۔ اسی سوچ کی عملی صورت خلفائے راشدین کے عدل و انصاف میں دیکھی جاسکتی ہے۔
آج کی فلاحی ریاستیں بھی اس درجے کو نہی پہنچ سکتیں کہ آدھی دنیا کا حاکم گلی کوچوں میں لوگوں کے مسائل سنے۔ عام لوگوں سا لباس پہنے اور تاج و تخت سے بیزار مسجد کا امام ہو۔ جب ان سنہری اقدار سے رو گردانی کی گئی تو پھر اسلامی احکام سے بچنے کے لئے جواز پیدا کیے گئے۔ اسلام کی عالمگیریت کو مذہب کے کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی گئی۔
آج اسلام کو بطور مذہب پیش کیا جارہا ہے۔ اس کو بھی شیعہ سنی اور وہابی مذاہب میں تقسیم کرلیا گیا ہے۔ اخلاقیات کو سرے سے مسترد کیا جاچکا ہے۔ ایک مخصوص طریقہ سے عبادت نہ کرنے والوں پہ کفر و شرک لازم ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ سود جیسی لعنت جو لاچار و مجبور انسانوں کا لہو نچوڑتی ہے کو معیشت کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ ملاوٹ کو تجارت کا ہنر مان لیا ہے۔ جرائم پر سزائیں نہیں ملتیں جس سے معاشرہ ایک الگ عذاب میں مبتلا ہے۔ طاقتور کو استحقاق حاصل ہے کہ وہ لاچار کو روند ڈالے۔ ایک طرف تو مولوی کو مسجد تک محدود کرلیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف جہاد جیسے اہم اور حساس معاملے کو گلی کوچوں کے لشکروں کے رحم و کرم پہ چھوڑدیا گیا ہے۔
اسلام کو مذہب بنا کے پیش کرنے کا سب سے بڑا فائدہ اسلامی دنیا کے حاکم اٹھا رہے ہیں۔ عبادات کے جھگڑوں میں الجھا کر ان پر حکمرانی کے مزے لوٹے جارہے ہیں۔ بلاد عرب سے لے کر افریقہ کے صحراؤں تک خون خرابے کا باذار گرم کیا ہوا ہے۔
جب تک اسلام کو دین سمجھ کر اس کی تمام تعلیمات پر عمل نہیں کیا جائے گا معاشرتی انصاف ناممکن رہے گا۔ اہل مدرسہ کو جدید علوم پر دسترس حاصل کرنا ہوگی۔ کائنات کے حقائق پر تحقیق کے لئے نعروں سے نکل کر جدید سائنسی لیبارٹریز میں کام کرنا ہوگا۔ ادنی و اعلی کی تفریق مٹانا ہوگی۔ مظلوم کی دادرسی کے لئے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ فروعی اختلافات کو بھلاکر بھلائی پر اجتماعیت ہی اسلام کا منشور ہے۔ اسلام دین فطرت ہے جو میانہ روی کا پرچار کرتا ہے نہ کہ متشدد اطوار کا۔


