امرتا پریتم: ایک صدی تمام ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں تینوں فیر ملاں گی

کتھے؟ کس طراں؟ پتہ نئیں

(میں تمہیں پھر ملوں گی، کہاں ؟ کیسے؟ پتہ نہیں)

شاید تیرے تخیل دی چھنک بن کے

تیرے کینوس تے اتراں گی

(شاید تمہاری یادوں کا حصہ بن کے تمہارے کینوس پہ اتر آ ؤں گی)

 یا خورے تیرے کینوس تے

اک رہسمئ لکیر بن کے

خاموش تینوں تکدی رہواں گی

(یا پھر ایک خاموش پراسراریت میں لپٹی تمہیں دیکھتی رہوں گی)

یا خورے سورج دی لو بن کے

تیرے رنگاں وچ گھلاں گی

(یا شاید سورج کی روشنی بن کے تمہارے رنگوں میں گھل جاؤں گی)

 

یا رنگاں دیاں بانہواں وچ بہ کے

تیرے کینوس نوں ولاں گی

( یا شاید رنگوں کے ساتھ تمہارے کینوس کا طواف کروں گی)

 پتہ نئیں کس طرح ؟ کتھے؟

پر تینوں ضرور ملاں گی

(یہ معلوم نہیں کس طرح اور کیسے ، لیکن یہ یقین ہے کہ میں تمہیں ضرور ملوں گی)

 گوجرانوالہ، پہلوانوں کا شہر !

لیکن ہماری انسیت کی وجہ یہ ٹھہری کہ ہمارے ابا نے گوجرانوالہ میں جنم لیا اور پرورش پائی۔ ابا جب بھی اپنے شہر کا ذکر کرتے،ان کی آنکھوں میں چمک آجاتی۔ غم روزگار کی وجہ سے عمر پنڈی میں بتائی، لیکن واپس جانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ گنواتے حتی کہ وصیت میں بھی گوجرانوالہ دفن ہونے کی خواہش کی۔

ہمیں گوجرانوالہ سے یا تو بچپن میں پالا پڑا جب گرمیوں کی چھٹیوں میں آبائی گھر جاتے۔لیکن اس دور کی یادیں مبہم ہیں۔ ہماری دوسری یاد کینٹ میں رہنے کی ٹھہری جب صاحب کی گوجرانوالہ میں پوسٹنگ ہوئی۔اس قیام میں ہمارے چھوٹے دونوں بچوں کی پیدائش ہوئی اور صفحہ دل یادوں سے بھرتا چلا گیا۔

یہ سب تو انسیت کے قصے ٹھہرے، لیکن ہمیں گوجرانوالہ سے محبت ہو گئی جب معلوم ہوا کہ بیسویں صدی کی خوبصورت الفاظ کی مالک خوبصورت شاعرہ کا جنم دیس بھی گوجرانوالہ ہے۔

اج آکھاں وارث شاہ نوں”لکھ کے امر ہو جانے والی ، امرتا پریتم!

اور آج امرتا پریتم کا جنم دن ہے ، سوواں جنم دن! (اکتیس اگست انیس سو انیس)

پنجابی معاشرے میں پیدا ہو کے اپنی آواز اور اپنے جذبات کو چھپانے کی بجائے الفاظ کا روپ پہنانے والی بہادر عورت!

امرتا کور کا بچپن گوجرانوالہ میں گزرا۔ چھوٹی عمر میں ماں کی وفات نے زندگی پہ گہرا اثر ڈالا۔ امرتا کے ابا بھی شاعر تھےاور شاید اسی رنگ کے تحت امرتا نے اپنی تنہائی کا حل شاعری میں ڈھونڈا۔ سولہ سال کی عمر میں پہلا پنجابی مجموعہ”امرت لہراں” چھپا اور اسی سال زندگی نے شادی کی صورت میں ایک اور موڑ لیا۔ وہ شادی کے بعد امرتا پریتم کہلائیں۔ امرتا لکھاری ہونے کا جو سفر شروع کر چکی تھیں وہ اس پہ گامزن رہیں۔

امرتا نے رومانوی شاعری سے نام کمایا لیکن حساس دل ہونے کی وجہ سے معاشرے کے رستے زخموں سے بے خبر نہیں رہ سکیں۔ انیس سو تینتالیس میں بنگال میں ہونے والا خونی قحط ان کی آنکھ سے لہو بن کے ٹپکا اور صفحات رنگین کر گیا۔اور پھر سینتالیس کے فسادات نے نہ صرف جنم دیس چھوڑنے پہ مجبور کیا بلکہ لکیر کے دونوں طرف دس لاکھ بے گناہوں کے خون نے دل کی حالت ہی بدل دی اور وہ چیخ اٹھیں،

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچون بول

تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

(آج وارث شاہ سے پوچھتی ہوں کہ وہ قبر میں خاموش کیوں ہے۔ عشق کی داستان سے آگے کی کہانی کیوں نہیں لکھ رہا)

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لکھ لکھ مارے وین

اج لکھاں دھیآں رودیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن

( پنجاب کی ایک بیٹی کے رونے پہ تو نے اتنے بین کئے تھے اور آج لاکھوں بیٹیاں رو رہی ہیں)

اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب

اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

( اٹھو اور اپنا دیس پنجاب دیکھو، جہاں چناب لہو بھرا ہے)

 کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا

تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا

( کسی نے پانی میں زہر ملا دیا ہے اور دھرتی زہر ملے پانی سے سیراب ہو رہی ہے)

امرتا کی تخلیق محبت سے ہوئی تھی سو دھرتی سے بھی کی اور اپنے خوابوں سے بھی۔ امرتا اور ساحر لدھیانوی کی محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، دونوں شاعروں نے اپنے اپنے دل کا حال سیاہ و سفید میں کھول کے رکھ دیا۔دونوں ریل کی دو پٹڑیوں کی طرح ساتھ ساتھ چلے لیکن ایک نہ ہو سکے۔ اور شاید ہر داستان کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔

امرتا کے لفظ، لفظ نہیں ہیں، درد بھرے نوحے ہیں جو جگر چیر دیتے ہیں۔ یہ وہ سسکیاں ہیں جو اندھیری تنہا راتوں نے سنی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی جاں بلب پیاس کی شدت سے تڑپ رہا ہے۔ پانی کا پیالہ پاس ہے لیکن لبوں میں جان نہیں۔

تیرا ملنا ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی ہتھیلی پہ ایک وقت کی روٹی رکھ دے

میں نے اپنی زندگی کی کڑواہٹ پی لی کیونکہ اس میں تمہارے عشق کی ایک بوند ملی تھی

چنگا ہویا توں پرائی ہو گئیوں، مک گئی چنتا تینوں اپنان دی

( اچھا ہوا، تم غیر کی ہو گئیں، تمہیں اپنانے کی فکر سے جان چھوٹی)

اک درد تھا جو سگریٹ کی طرح میں نے چپ چاپ پیا ہے صرف کچھ نظمیں تھیں جو سگریٹ سے میں نے راکھ کی طرح جھاڑی ہیں

امرتا نے شاعری اور نثر میں تقریبا سو کتابیں لکھیں، دونوں ملکوں میں بے تحاشا عزت کمائی۔ انڈیا میں بہت ایوارڈ پائے لیکن لاشعوری طور پہ انتظار کیا کہ شاید جنم دیس والے بھی یاد کریں۔ وہ عمر کے آخری حصے میں تھیں، جب پنجابی اکیڈمی نے انہیں ایوارڈ دینے کا اعلان کیا اور وہ بے ساختہ کہہ اٹھیں

بڑے دنوں بعد میرے میکے کو میری یاد آئی

اور آج ہمیں امرتا سے یہ کہنا ہے کہ آپ کے جنم دیس کی ہوائیں آج بھی آپ کو یاد کرتی ہیں۔ وہ بے رونق دن، وہ اداس لمحے، وہ دکھ بھراوقت، وہ ڈھلتی شام، سب آج بھی وہیں کھڑے ہیں، جب آپ ان میں جیتی تھیں اور اداس آنکھوں سے تنہائی بھری راتوں میں خواب بنتی تھیں۔

وہ مٹی آپ کو نہیں بھولی!

سالگرہ مبارک، امرتا پریتم!

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •