دادی بکھوڑی


مگر پھر بہت سارے دن گزر گئے۔ دادی گھر نہیں آئی۔ اب اس کے خاندان کی کام والی عورتیں بھی نہیں آتی تھیں۔ وہ تو بہت عرصے سے غائب تھیں۔ مگر دادی تو آیا جایا کرتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ قریباً کوئی دو ماہ بعد، ایک اتوار کو میں نے تھکی تھکی دادی کو دروازے سے اندر آتے دیکھا۔ دادی کی رنگت بہت کالی لگ رہی تھی۔ اس کے چشمے کی کمانی ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی جس میں اس نے ڈوری باندھ رکھی تھی اور اس ڈوری کو دائیں کان سے بل دیا ہوا تھا۔

دادی۔ دادی۔ میں نے دوڑ کر بے ساختہ اس کے گلے میں بازو ڈال دیے۔
”“ کہاں تھیں اتنے دن دادی؟
دادی کا مرجھایا ہوا چہرہ ایک دم کھل اٹھا۔
”میری بچی۔“

دادی کا غم میرے دل میں تازہ تھا۔ اس لیے عام دنوں کے مقابلے میں آج دادی مجھے زیادہ اچھی لگی۔ میں نے پورے دل سے پہلے دادی کے دائیں اور پھر بائیں گال کو بوسہ دیا۔

”میں صدقے، میں واری، دادی پوری قربان ہو جائے تجھ پر میری بچی۔ دادی کو پسینہ آیا ہوا ہے میری جان۔ جا، جا کر منہ دھولے۔ میرا پسینہ لگ گیا ہوگا۔ تیرا دل کسی اور ہی مٹی سے بنایا ہے میرے مولانے۔ مجھ بوڑھی، کالی، کوجھی کا بوڑھا پوپلا منہ چومتی ہے۔ قربان جاؤں تیرے“ ۔ دادی دل وجان سے مجھے دعائیں دینے لگی۔

” بیٹھو۔ بیٹھو دادی۔ میں امی کو بتاتی ہوں“ ۔ میں نے امی کو آواز لگائی۔
امی باورچی خانے میں بیٹھی سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔

آو ٔآؤ بکھوڑی۔ بڑے دنوں بعد راہ دکھائی۔ کیا طبیعت خراب تھی؟
”جی جیجل“ ۔ دادی نے پیڑھی پہ خود کو سنبھال کر بیٹھنا چاہا۔

”ایسا موا مرض لگا کہ پوچھو مت۔ مدے کا بخار۔ ایک دن گم تو دوسرے دن حاضر۔ پورے چوبیس گھنٹے کا چکر چلاتا تھا کمبخت۔ ایسا ظالم بخار۔ میں تو سمجھی یہ موت کی کپکپی ہے“ ۔

”کوئی گولی، کوئی دوائی؟“ امی نے رواجی لہجے میں پوچھا۔
”دوا دارو کیسی میری بچی۔ تعویذ لیا تھا بی بی سے۔ سائیں سے دم کروایا۔ بیٹی نے نظر اتاری۔ تو آج اس قابل ہوئی کہ تیرے پاس آ سکی“ ۔

اس دن دادی نے کھانا کھایا مگر برتن دھونے کی ضد نہ کی۔ وہ بہت تھکی تھکی نڈھال دکھائی دے رہی تھی۔ پتہ نہیں کس پہر گھر سے چلی گئی۔ میں نے اسے جاتے سمے نہیں دیکھا تھا۔
یہ میری دادی سے آخری ملاقات تھی۔

میں اسکول کا بستہ، کمرے میں اٹھا لائی تھی اور اپنے آس پاس کتابوں اور کاپیوں کا ڈھیر لگا کر، ہوم ورک مکمل کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ امی خاصے غصے میں کمرے میں داخل ہوئیں۔ یہی لمحہ تھا جب مجھے یاد آیا کہ امی نے دادی بکھوڑی کے سلام کا جواب خاصی برہمی سے دیا تھا۔ میرا بستہ ایک طرف ہٹا کر بولیں۔

”اس بکھوڑی کے منہ پر چٹاخ چٹاخ بوسے لینے کی کیا ضرورت تھی؟“
”جی؟“ مجھے طنزیہ باتیں دیر سے سمجھ آتی تھیں۔

”گندی، غلیظ عورت، پتہ نہیں کب نہائی ہو گی۔ ۔ مجھے تو اس کے جسم سے آتی پسینے کی بُو نے پندرہ منٹ نہیں بیٹھنے دیا اس کے پاس“ ۔

”مگر وہ دادی ہے۔ اداس تھی۔ بیمار ہے“ ۔ خوف مجھے ہمیشہ بے زبان کر دیتا ہے سو لرزتے، ڈرتے یہی جملہ بول سکی ”۔
”ماں ہے تیرے باپ کی وہ؟“ امی نے خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھورا۔

”کمی کمین تھے۔ ۔ اس کے چھوٹے بڑے سارے، بیٹھنے نہیں دیتے تھے اس کے خاندان کے کسی فرد کو موڑھے پر تیرے دادا والے۔ اس کو اتنا منہ اس لیے لگایا ہوا ہے کہ تیرا باپ پیدا ہوا تھا تو سب سے پہلے اسی نے اٹھایا تھا گود میں ان کو۔ اس لیے اس کی ذرا عزت ہے، مگر توتو عقل کر۔ ان معمولی لوگوں کو اتنا منہ لگاتے ہیں کوئی؟ گستاخ ہو جاتے ہیں“ ۔

دو لمحے توقف کے بعد ماں پھر بولیں، ”کیسے لپٹ کر منہ چوما ایسی عورت کا۔ پتہ نہیں کب نہائی تھی آخری بار۔ جھلی نہ ہوئے تے“ ۔ جانے سے پہلے امی نے قہر برساتی نظروں سے مجھے فضیلت سے رہنے کی تقلین کی۔

بیچاری دادی!

بچپن میں دادی اور اس گھر کو لازم و ملزوم دیکھا۔ چکی پیستے، روئی دھنکتے، گوبر سمیٹتے، گندم چھانتے، گودام میں گندم ڈالتے، نکالتے، بوریوں میں بھرتے۔ ڈھیروں پیاز اور لہسن چھیل کر سل بٹے پر پیس کر انہیں مرتبانوں میں بھرتے۔ کیریوں کو چھیل چھیل کر سکھا کر، آم چُور بناتے۔ رلیاں سیتے، وزن اٹھاتے، سارا سارا دن مسکراتے رہنے والی دادی۔ میں نے کبھی دادی کے چہرے پر خفگی یا پشیمانی نہیں دیکھی تھی۔ دادی دادی کہتے سارا بچپن گزرا اور جواب میں ”جی بسم اللہ“ کے علاوہ کبھی کچھ نہ سنا۔ اٹھتے بیٹھتے ہر کام میں دادی کو پکارا اور دادی کے لبوں پر سب کو دیکھتے ہوئے۔ صدقے واری دادی، قربان دادی تیرے، کے بول سنے اور یہ ایک دم کمی کمین؟

اب احساس ہوتا ہے کہ اسے خفگی یا پشیمانی کا حق تھا ہی نہیں۔ اس کی نسل کے مقدر میں یہ حق درج ہی نہیں تھا کہ شکایت کر سکیں۔ مجھے پہلی بار معلوم ہوا دادی، دادی نہیں تھی کمی تھی، کمین تھی۔ ہماری خدمت کرنا، ہمارے خاندان کی اطاعت کرنا، اس کی جنم کنڈلی میں لکھ دیا گیا تھا سو اس سے وہ سرمو منحرف نہ ہو سکتی تھی۔

بہت دنوں بعد، جب میں کالج سے واپس آئی تو گاؤں کی چند عورتیں امی کے پاس بیٹھی دکھائی دیں۔ کھانا کھاتے ہوئے ان کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ دادی بکھوڑی کا انتقال ہو گیا ہے اب تو کفن دفن کو بھی کافی دن ہو گئے ہیں۔ امی ان سے رسماً تعزیت کر رہی تھیں۔ میں نے ان عورتوں کی باتوں سے موت کی وجہ اخذ کرنے کی کوشش کی۔ دادی کو شاید ہائپاٹائٹس سی، ہو گیا تھا، جسے عورتیں ”کالی موت“ کہہ رہی تھیں۔ میں کچھ دکھ، کچھ افسوس سننا چاہتی تھی۔ مگر سب کچھ نارمل رہا، جب عورتیں چلی گئیں تب میں نے امی سے آہستگی سے کہا۔

”امی دادی بکھوڑی مرگئی بے چاری“ ۔
”ہاں تو بیٹا، کوئی چھوٹی عمر نہیں تھی بکھوڑی کی۔ میں نے تو سدا اسے اسی طرح دیکھا۔ تیری دادی سے بھی عمر میں بڑی تھی“ ۔

شام کو ابا آئے تو امی نے انہیں سرسری طور پر اس خبر سے آگاہ کیا۔ سب بہن بھائیوں اور ابا۔ سب کا چہرہ پرسکون تھا۔ ۔ کسی کو پرواہ نہ تھی۔ کتنے سال دادی نے اس گھر کی خدمت کی تھی دل و جان سے۔ اب وہ کمزور، بوڑھی ہو چکی تھی اور شاید اس کی ضرورت کسی کو بھی نہ تھی۔ اس لیے وہ خاموشی سے یہ جہان چھوڑ کر چلی گئی۔ میں نے کسی کو اس کی تعزیت کرتے، اس کے گاؤں یا گھر جانے کے بارے میں بات کرتے نہیں سنا۔

عید والے دن کی صبح ہم سب لوگ مل کر قبرستان جایا کرتے تھے، اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے۔ اپنے ساتھ گلاب کے پھولوں کی پتیاں اور پانی کے کولر لے جاکر، ان کی قبروں پر درود و وظائف پڑھتے۔ پھولوں کی پتیاں قبروں پر ڈالتے اور پانی سے چھڑکاؤ کرتے۔

”امی دادی بکھوڑی کی قبر کہاں ہے؟“ میں نے آہستگی سے پوچھا۔
”ہوگی یہیں کہیں“ ۔ امی نے دادا جان کی قبر پر گرے سوکھے پتے ہٹاتے ہوئے جواب دیا۔

میں نے نئی نئی قبریں تلاشنا شروع کیں۔ سورج اپنی تمازت سے اندھا کیے دے رہا تھا۔ کوئی قبر دادی کے نام کی نہ ملی۔ تو میں نے واپس آکر پھر دریافت کیا۔
”جھلی نہ ہوئے تے۔ کہاں جائے گی قبر۔ ادھر ہی ہوگی“ ۔ اور پھر ہمارے بزرگوں کو ثواب بہم پہنچانے کی غرض سے، امی نے درود و وظائف کی کتاب کھول لی۔

قبروں پہ پانی کا چھڑکاؤ کرتے، بھائی نے آہستگی سے مجھے بلایا۔ اور ایک قبر کی طرف اشارہ کیا۔ اس قبر نما ڈھیری پر رکھے بڑے سے سفید پتھر پہ کالکے حروف سے پہچان کے لیے ایک نام کھدا ہوا تھا۔ ”بخت آور“ ۔ جیسے سیاہی سے لکھا بخت۔
اوہ۔ اچھا۔ تو دادی کا نام بخت آور تھا۔ میں حیران ہو گئی۔ پہلی بار ادراک ہوا، جب بخت یاوری نہ کرے تو بخت آوریں بکھوڑی بن جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4