صلاح الدین ایوبی کے قتل کا مقدمہ پولیس افسران کے خلاف درج
اے ٹی ایم کو توڑ کر کارڈ نکالنے اور اس دوران کیمرے کو دیکھ کر منہ چڑانے والے صلاح الدین ایوبی کے قتل کا مقدمہ رحیم یار خان تھانہ سٹی کے افسران کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ صلاح الدین کی موت پولیس کی حراست کے دوران ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق صلاح الدین ایوبی کے والد محمد افضال نے کہا ہے کہ اس کا بیٹا صلاح الدین ذہنی طور پر معذور تھا اور اسی وجہ سے اس کے بازو پر نام اور پتہ کندہ کروایا گیا تھا۔ وہ کئی دنوں سے رابطے میں نہیں تھا۔
مورخہ یکم ستمبر کو بذریعہ میڈیا پتہ چلا کہ صلاح الدین رحیم یار خان کے تھانہ سٹی میں پولیس حراست کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔ افضال نے تھانے کے اہلکاروں سے اپنے طور پر رابطہ کیا لیکن اسے کوئی معلومات نہ مل سکیں۔
رحیم یار خان گیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے بیٹے کو پولیس نے کسی چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا جسے ایس ایچ او محمود الحسن، تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفاقت علی، اور مطلوب حسین اے ایس آئی اور دیگر ملزمان نے تشدد کر کے دوران حراست قتل کر دیا ہے اور صلاح الدین کے لواحقین کو اطلاع دیے بغیر پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا۔
تھانہ سٹی کے سب انسپکٹر نذیر احمد نے پولیس کارروائی کے ضمن میں لکھا ہے کہ درخواست موصول ہوئی ہے اور اسے حرف بحرف درج کیا گیا ہے۔ مضمون درخواست سے جرم دفعہ 302/34 کا لگتا ہے۔ تفتیش کی جا رہی ہے۔



