گلگت بلتستان : نوآبادیات کا گمنام گوشہ
برٹش انڈیا 1901 میں ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن، جرائم سرحد نمبر 3 کا قیام عمل میں لایا جو کہ بتاریخ اٹھارہ ستمبر 1901 جناب نواب گورنر جنرل بہادر با اجلاس کونسل کی پیشگاہ سے منظور ہوا۔ دفعہ نمبر 1 کے تحت یہ ریگولیشن ”ریگولیشن جرائم سرحد 1901“ کہلائے۔ جس کے سیکشن 6، 10، 21 اور 22 کے تحت کسی ایک شخص کے جرم کرنے کی صورت میں پورے قبیلے کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اور اس موضع کے باشندوں پر بحثیت مجموعی جرمانہ تجویز کرتے تھے یا بحثیت مجموعی ان کی جائیداد پر سرکار قبضہ کرسکتی یا تلف کرنے کی مجاز تھی۔
تاج برطانیہ نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت کونسل آف انڈیا کو ختم کیا اور ایک تبدیل شدہ سسٹم آف گورننس انڈیا میں متعارف کرایا۔ سیکرٹری آف سٹیٹ جو لندن میں گورنمنٹ آف انڈیا کی نمائندگی کرتا تھا اس کی مدد کے لئے ایک ایڈوائزری باڈی بنائی گئی جو 8 سے 12 ممبران پر مشتمل ہوتی تھی۔ وائسرائے و گورنر جنرل آف انڈیا کو ملکہ برطانیہ نامزد کرتی تھی۔ گورنر جنرل انڈیا وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا سربراہ اور تمام مرکزی انتظامی معاملات اور اداروں کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ تقسم ہند کے وقت اس ایگزیکٹو کونسل کے ممبران کی تعداد چودہ تھی۔
جبکہ تاج برطانیہ کونسل فار انڈیا ختم کرنے کے بعد انڈیا میں کونسل فار سٹیٹس کا قیام عمل میں لایا گیا جو ایوان بالا کہلاتا تھا جو 58 ممبران پر مشتمل تھی جن میں سے اراکین منتخب 32 تھے جب کہ 26 اراکین غیر منتخب تھے۔ 1919 میں لیجسلیٹو کونسل کا قیام عمل لایا گیا جو 141 ممبران پر مشتمل تھی جبکہ 26 سرکاری افسران کو نامزد کیا گیا تھا جبکہ 13 اور افراد نامزد تھے جبکہ 102 منتخب نمائندے شامل تھے۔ لیجسلیٹو اسمبلی ایوان زیریں کہلاتی تھی، لیجسلیٹو اسمبلی کے صدر کو وائسرائے منتخب کرتا تھا۔ کونسل پانچ سال کے لیے کام کرتی تھی اور اسمبلی کی معیاد 3 سال تھی البتہ کونسل فار سٹیٹس اور لیجسلیٹو اسمبلی دونوں کا سربراہ گورنر جنرل آف انڈیا اور وائسرائے ہند ہوتا تھا۔
دوسری طرف 1789 کے امریکی انقلاب سے قبل امریکہ کی تیرہ کالونیوں میں تاج برطانیہ کا راج تھا جہاں تاج برطانیہ اپنے نوآبادیاتی قوانین کو ایک کالونیل گورنر کے ذریعے اطلاق کرواتی تھی۔ اس نوآبادیاتی گورنر کو انگلستان کا بادشاہ سلامت یا ملکہ صاحبہ منتخب کرتی تھی اور تاج برطانیہ کا منتخب گورنر کالونیوں میں چیف انفورسمنٹ افسر کے طور پر کام کیا کرتا تھا جو کالونی کا ایگزیکٹو ہوتا تھا۔ جب کہ نوآبادیات میں جوڈیشل ڈپارٹمنٹ کا کام یہ دیکھنا ہوتا تھا کہ کہ آیا نوآبادیاتی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہوتی ہے؟
امریکہ کی ان 13 کالونیوں میں حکومت ایک اسمبلی اور کونسل کے ذریعے چلاتے تھے۔ عام طور پر بادشاہ سلامت ایسے شخص کو گورنر مقرر کیا کرتا تھا جس کا انگلستان میں اثر ورسوخ ہو، جبکہ ایسے شخص کے لئے انگلینڈ کا وفادار ہونا بنیادی شرط تھی۔ گورنر کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ چاہے تو ان کالونیوں کی اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کو veto کرسکتا تھا، یا وہ چاہے تو اسمبلی کو معطل کر کے نیے انتخابات کا اعلان بھی کر سکتا تھا۔ جبکہ کونسل کے ممبران عام طور پر اپر کلاس سے تعلق رکھتے تھے اور نوآبادکار اپنے کرائے پر لیے گیے ایجنٹس کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کیا کرتے تھے۔
بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ انگلستان کی پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے برطانیہ میں بنائے گئے قوانین امریکہ کے عوام کے حقوق کو متاثر کیا کرتے ہیں، اور انگلش لوگوں کے حقوق کو رد کرتے ہیں۔ برٹش انڈیا میں دو سو سالوں رائج ان مندرجہ بالا نوآبادیاتی قوانین اور نظام حکومت پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد گلگت بلتستان میں رائج قوانین اور پولیٹیکل سسٹم کا مطالعہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں رائج نظام درحقیقت برٹش انڈیا کے نوآبادیاتی نظام کا ہی تسلسل ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات ججوں پر مشتمل فل بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں مورخہ 17 / 1 / 2009 کو گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق اور آئینی حیثیت کے بارے میں زیر سماعت کئی مقدمات کا فیصلہ بعنوان سول ایوی ایشن (civil aviation) اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ آف گلگت بلتستان وغیرہ نامی کیس میں متفقہ طور پر 29 صفحات پر مشتمل اپنے تاریخی فیصلے میں لکھا کہ گلگت بلتستان پر حکومت کرنے کے لیے 1947 سے ایڈمنسٹریٹو سٹرکچر اور قوانین اپلائی کیے گئے جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔
1۔ 1947 میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) گلگت میں نافذ کیا گیا۔ ایف سی آر تاج برطانیہ کا نوآبادیاتی قانون تھا۔ جو 1974 تک گلگت بلتستان میں نافذ العمل رہا۔ ایف سی آر عام طور پر کالے قانون کے نام سے مشہور ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس تاریخی فیصلے کے پیراگراف نمبر 14 کو Quote کرتا ہوں تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہو،
14۔ First law to be enforced was a continuation of the colonial law of FCR under the British law for the tribal areas and GB، a civil bureaucracy exercised all judicial and administrative powers۔

