قومی اداروں کا زوال۔ فکر کس کو ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بد قسمتی سے ہمارے یہاں دیگر بے شمار باتوں اور اصطلاحات کی طرح لفظ ”قومی“ کے بھی صحیح معنی اور تعریف مروج نہیں ہے۔ ہم لفظ ”قومی“ (کے جُز کی بجائے اُس) کی ضد ”صوبائی“ یا ”علاقائی“ سمجھتے ہیں، جبکہ مختلف صوبوں اور خطّوں میں بسنے والے انسان بھی اپنی الگ الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جو سب مل کر ”پاکستانی قوم“ کو تشکیل دیتے ہیں۔ بالکل اُسی طرح، جس طرح بحیثیت ”پاکستانی ثقافت“ کوئی چیز وجُود نہیں رکھتی، بلکہ پاکستان کے مختلف خطوں، علاقوں اور صوبوں کی ثقافتیں ملک کر وہ گلدستہ بناتی ہیں، جس کو ہم ”پاکستانی ثقافت“ کہتے ہیں۔

ہم نے اپنی ہر آنے والی نسل کے دماغ میں یہ بات مستقل طور پر بٹھا دی ہے، کہ جب کبھی لفظ ”قومی“ (نیشنل) لیا جائے گا، تو اُس ادارے، یا تحریک کا تعلق، اسلام آباد ہی سے ہو گا۔ مانا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی اسلام آباد ہی میں ہونا ضروری ہے، کیونکہ وہ ملک کا دارالحکومت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قومی لائبریری (نیشنل لائبریری آف پاکستان) سے لے کر قومی ادارہء ثقافت (پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس) تک تمام ادارے اسلام آباد ہی میں بنائے جاتے۔

اور تو اور، اب اسٹاک ایکسچینج کو بھی ”قومی“ بنا کر اُس کی کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں روزِ روشن کی طرح عیاں اور ضوفشاں حیثیت اور اہمیت کو نظر انداز کر کے، اُسے ایک ڈبے میں ڈال کر ”پاکستان اسٹاک ایکسچینج“ بنا کر اسلام آباد تک محدود کیا گیا تھا، جبکہ دُنیا جانتی ہے کہ واشنگٹن ڈی سی سو بار امریکہ کا دارالحکومت ہو، مگر امریکہ یا دُنیا کا ”اقتصادی دارالحکومت“ (اکنامک کیمیڻل) نیو یارک ہی سمجھا جاتا ہے، اور نیو یارک اسٹاک ایکسچینج سمیت دُنیا کی تین سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینجز نیو یارک ہی میں ہیں۔ اُس ماڈل کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے اوّلین دارالحکومت اور ہر دور میں پاکستان کو پالنے والے اُس کے اقتصادی دارالحکومت کراچی میں اسٹاک ایکسچینج کی اہمیت کو کیسے نظر انداز کر کے اُسے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ضم کیا جا سکتا ہے!

یہ میرا ذاتی ہی نہیں، ان تمام متاثرہ لوگوں کا کڑا تجربہ رہا ہو گا، جنہوں نے ایسے اداروں میں کام کیا ہو، جن کے صدر دفاتر وفاقی دارالحکومت میں ہیں، اور وہ اُن کے صوبائی دفاتر میں کام کرتے ہوں۔ ایسے تمام ادارے، بشمول اکادمی ادبیاتِ پاکستان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، اُردو سائنس بورڈ، مقتدرہ قومی زبان، پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان وغیرہ کا سلوک صدر دفتر میں کام کرنے والے ملازمین اور دیگر صوبائی اور علاقائی دفاتر میں کام کرنے والے کارکنوں کے ساتھ اس حد تک مختلف ہے، جیسا ایک سوتیلی ماں کا اپنے سگی اور سوتیلی اولاد کے ساتھ!

جن اداروں کا میں نے ذکر کیا، اُن میں سے ہر ایک کی تفصیلی کہانی سنانے کے لئے مجھے شاید اس نوع کی بے شمار تحریریں قلمبند کرنی پڑیں۔ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن ہی کی عام مثال لے لیتے ہیں، اور اکابرین سے یہ بنیادی سوال ہی کر لیتے ہیں کہ ان دو انتہائی کلیدی نشریاتی اداروں کو کتنے ایسے سربراہان ملے، جو ’براڈکاسٹر‘ تھے؟ کچھ برس قبل ہی اسلم اظہر صاحب ہم سے بچھڑے ہیں۔ ہمیں پاکستان ٹیلی وژن جیسے اہم ادارے کو، نسلوں کی تربیت کرنے اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے والے اسلم اظہر صاحب جیسے پی ٹی وی کے کتنے سربراہ ملے ہوں گے؟

ریڈیو پاکستان میں بھی اوّلین ڈائریکٹر جنرل تو، بابا ئے نشریات، زیڈ۔ اے۔ بخاری رہے، مگر اُن کے بعد آغا ناصر اور چند اور ناموں کو چھوڑ کر کون سے نشر کاروں اور براڈکاسٹرز کو ریڈیو پاکستان کی سربراہی دی گئی؟ یہ دونوں ادارے بیشتر وقت پاکستان سیکریٹیریٹ میں بیٹھے سرکاری ”بابُوؤں“ کے مرہونِ منّت رہے ہیں، جن کو نہ فن کا پتہ ہے اور نہ ثقافت کا! جب چاہا کسی 21 یا 22 گریڈ کے بیوروکریٹ کو اُٹھا کر پی ٹی وی کا مینیجنگ ڈائریکٹر یا ریڈیو پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل لگا دیا گیا۔ جس نے جیسے چاہا، ان اداروں کو چلایا۔ گویا بڑھئی کو بالوں کی سنوارت کا کام دے دیا گیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں ایک معروف صحافی اور براڈکاسٹر کو ریڈیو پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا تو نشریاتی اور ادبی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ شاید اب ریڈیو پاکستان کے دن بدل جائیں۔ مگر جب موصوف نے بے نامی اور گم نام ای میلز اور فیکس شکایات پر سینیئر لوگوں کے تبادلے اور اُکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی اور لوگوں نے گمنام خواتین کے ناموں سے ایس ایم ایسز کر کر کے اُن سے اپنی مرضی کے کام لئے، تو یہ دیر میں اُٹھنے والی ذرہ سی اُمید بھی بجھ گئی۔

وہ ریڈیو پاکستان، جہاں ایم بی انصاری، حفیظ ہوشیارپوری، شکیل فاروقی، سلیم گیلانی، مہدی ظہیر، قمر علی عباسی اور نسیم حمید جیسے سربراہ اور پیش کار موجود تھے، جو بیک وقت شاعر، موسیقار، نقّاد، زبان کے ماہر اور ایک ہی وقت میں کئی زبانوں پر عُبور رکھنے والے تھے، وہاں اب جو پروڈیوسرز دستیاب ہیں، اُن سے ذرا ’پیشکاری‘ کی تعریف تو پوچھ کر دیکھیے! یا پھر پانچ منٹ دورانیے کی کوئی منفرد پیشکش تو تخلیق کرنے کو کہیے! شاید میں نے بہت زیادہ اُمید وابستہ کر لی۔ چلیں! اُن سے اُن ہی پروگرامز کی پیشکش کا کہہ دیجیے، جو وہ بچپن سے سُنتے آئے ہیں۔ پورے پاکستان میں چند کو چھوڑ کر باقیوں سے شاید یہ امیدیں رکھنے والوں کو ناکامی ہو۔

ذکر کریں اکادمی ادبیاتِ پاکستان کا، تو افتخار عارف کے بعد کچھ نہ کچھ فخرالزمان نے اس ادارے کو اچھے دن دکھائے، مگر وہ بھی اپنے پہلے والے ادوار کی بہ نسبت کم مستعد نظر آئے، شاید وہ اس بار تھک چُکے تھے، یا پھر وجہ یہ ہوکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کرنے اور آصف علی زرداری کے ساتھ کام کرنے میں فرق ہو! اُس کے بعد سے لے کر اب تک اکادمی کا جو حشر ہے، وہ ملک بھر کے قلمکار اور ادیب بخوبی جانتے ہیں۔ فخرالزمان کے بعد پاکستان ڈاک سے ایک بیورو کریٹ کو اُٹھا کر (جن کے بھائی معروف کالم نویس ہیں ) اکادمی ادبیاتِ پاکستان کا چیئرمین لگا دیا گیا۔

اکادمی کے اس کے بعد آنے والے چیئر مین ڈاکٹر قاسم بھگیو خود تو معروف محقق اور ادیب تھے مگر اُن کی سربراہی میں اکادمی نے کون سا کارنامہ سر انجام دیا؟ یہ بنیادی سوال میں، اس قوم کے فرد کی حیثیت سے ایک قومی ادارے کے حوالے سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں! بھگیو صاحب نے اس مسند کو حاصل کرنے کے لیے جتنی تگ و دو کی تھی، اُس کے دسویں حصّے کے برابر محنت بھی اگر انہوں نے اپنی پوری مدّتِ صدر نشینی کے دوران کی ہوتی، تو اکادمی اس وقت تک پاکستان کے ادیبوں کا نمائندہ ادارہ بن چکا ہوتا۔

اس وقت بھی اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے چیئرمین کا چارج وزارتِ لوک ورث کے جوائنٹ سیکریڻری کے پاس ہے، جن کو اپنی وزارت کے دیگر کاموں سے ہی اتنی فرصت نہیں کہ وہ ادب کی خدمت انجام دینے کے لیے الگ سے وقت نکال سکیں اور حکومت کی دلچسپ کسی کُل وقتی ادیب کو یہ ذمہ داری دینے کی جانب نظر نہیں آ رہی۔ اور تو اور اکادمی کے کراچی میں واقع صوبائی دفتر کے ایک طویل عرصے تک ”ریزیڈنٹ ڈائریکٹر“ رہنے والے مستعد افسر آغا نور محمد پٹھان کے ریٹائر ہو جانے کے بعد اُن کا نعم البدل تک آپ ڈھونڈھنے میں ناکام رہے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •