دو دفعہ تحصیل ناظم رہا، جامعات سے کورس کئے، اس لئے صوبہ چلا رہا ہوں: عثمان بزدار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان چاہتے تھے کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ کسی پسماندہ علاقے سے ہو اور جس کا کوئی اسکینڈل نہ ہو اس لئے انہوں نے میرا انتخاب کیا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے سے قبل میں دو مرتبہ تحصیل ناظم رہا اس کے علاوہ میں نے متعدد جامعات سے کورسز بھی کئے جو آج صوبہ چلانے کے لئے میرے کام آ رہے ہیں۔

عہدے سے ہٹائے جانے کے حوالے سے سوال پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جب تک میرا دانا پانی لاہور میں لکھا ہے اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا اور جب مجھے جانا ہے تو کوئی مجھے ایک منٹ کیلئے بھی روک نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کیلئے کوئی لابنگ نہیں کی۔ جس دن مجھے وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد کیا گیا، اسی دن میری وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تھی۔

عثمان بزدار نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کوئی شریف آدمی پنجاب جیسے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ نہیں بن سکتا۔ مجھے ایک سال ہو گیا صوبہ چلاتے ہوئے اور میری کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے۔

عثمان بزدار نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان جتنا اعتماد مجھ پر کرتے ہیں شاید کوئی اپنے بھائی پر بھی نہ کرتا ہو۔ وزیراعظم جب کبھی لاہور آتے ہیں تو وفاق کے معاملات پر بھی مجھ سے بات کرتے ہیں۔ پولیس اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ صوبے میں ہر چیز ٹھیک نہیں ہے، پنجاب پولیس میں ابھی تک سنگین مسائل موجود ہیں۔ تاہم کچھ عرصے تک آپ پولیس کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھیں گے۔ پولیس کو جتنا غیر سیاسی ہماری حکومت نے کیا، پہلے کبھی نہیں ہوا، انھیں صرف میرٹ پر کام کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ میں تحریک انصاف میں نیا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ فواد چودھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں عثمان بزدار کو چیف منسٹر بننے سے پہلے نہیں جانتا تھا لیکن اب الحمدللہ ہماری ایک دوسرے کے ساتھ اچھی جان پہچان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کی میرے ساتھ بہت اچھی ہم آہنگی ہے۔ دونوں شخصیات مجھے بہت زیادہ سپورٹ کرتی ہیں لیکن فیصلے میں خود کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •