وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر میں کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات کا تبادلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے اپنے دور میں پنجاب میں 56 جعلی کمپنیاں بنائیں، ان 56 کمپنیوں کے علاوہ بھی 12 کمپنیاں بنائی گئی تھیں۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ ان جعلی کمپنیوں کی آڑ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کمپنیوں سے ہر ماہ حمزہ شہباز نے 35 سے 40 کروڑ روپے کمائے۔ ان دستاویزات کے بعد بھی یہ آزاد گھوم رہے ہیں۔

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ساتھیوں نے مل کر پنجاب میں موشی منڈیوں کے ٹھیکے میں پانچ ارب روپے کی کرپشن کی جس کے صلے میں  حمزہ شہباز کو کچھ ماہ پہلے تک پینتیس کروڑ روپے ملتے رہے۔

فیصل واوڈا نے سوال کیا کہ کہ اقتدار میں آنے سے شریف خاندان کی کیا اوقات تھی، یہ گھٹیا قسم کے چور ہیں، گزشتہ دور میں قومی خزانے کو انتہائی بے دردی سے لوٹا گیا۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ شہباز شریف جھوٹے الزامات کا بھرپور جواب ے چکے ہیں البتہ فیصل واوڈا برطانیہ کی اپنی بے نامی اور غیر قانونی جائیداد کا حساب دیں۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ ڈیفالٹرز اور ٹیکس چوروں کو جو 300 ارب روپے کے قرضے معاف کیے ہیں، ان پر پردہ ڈالنے کے لیے وہی پرانا تماشہ شروع کر دیا گیا ہے لیکن اب عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر پہلے عمران خان صاحب کی پی ٹی آئی کے نام پر فارن فنڈنگ کے 18 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا حساب دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک پر ڈاکا ڈالنے والے اپنی چوری، نااہلی اور نالائقی چھپانے کے لیے ہر روز تماشہ کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •