حقوقِ نسواں دراصل انسانی حقوق ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں تقریباً ہر جگہ انسانی حقوق کا بہت راگ الاپا جاتا ہے۔ لیکن جب بات حقوقِ نسواں کی ہو تو ہمارے ہاں کئی لوگوں کی پیشانی پر شکنیں پھیل جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اِن دونوں میں کوئی فرق ہے؟ ہمارے ہاں مرد حضرات بالعموم اور خواتین (شعور کی کمی کی وجہ سے ) بالخصوص اِس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ حقوقِ نسواں، انسانی حقوق سے الگ کوئی چیز ہیں۔ یہی غلط فہمی ہمارے ہاں عورت کے لئے شدید مسائل پیدا کیے ہوئے ہے۔

جب عورت اپنے کسی قانونی، اخلاقی، شرعی، معاشی، یا معاشرتی حق کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ کہہ کر لعن طعن شروع کر د ی جاتی ہے : تمہیں بہت پتہ چل گیا ہے حقوق کا؛ ٹی وی اور میڈیا نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے وغیرہ۔ اور اگر وہ تعلیم، جاب، کریئر، یا اپنی مرضی سے زندگی گذارنے کی بات کرے تو کہا جاتا ہے : تمہیں کتنی آزادی چاہیے؟ گھر تمہیں کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے؟ باہر ایسا کیا رکھا ہے جو گھر سے نکلنا چاہتی ہو؟ عموماً ایسے ہی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گویا عورت کا حقوق کی بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔

اسکی بنیادی وجہ وہ معاشرتی تعصب ہے جو ہمارے ہاں بدقسمتی سے 2019 ء کے دوسرے نصف میں بھی موجود ہے۔ عورت کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھنا؛ اس کے حقوق کو آزادی یا فحاشی کا نام دے کر رد کر دینا؛ حقوقِ نسواں پر عمل درآمد کو معاشرے کے اخلاقی انحطاط سے منسلک کر دینا۔ یہی وجوہات مسائلِ نسواں کی بنیاد ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے اِس فرسودہ اور جاہلانہ ذہنیت کو بدلنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ مسائل دیگر معاشرتی مشکلات کا سبب بنتے رہیں گے۔

مثلاً پسند کی شادی کا حق تسلیم کرنے کی بجائے لڑکی کو (اور بعض دفعہ لڑکے کو بھی) غیرت کے نام پر قتل کر دینا؛ تعلیم اور کریئر کے دروازے بند کر کے اسے گھر کی چاردیواری تک محدود کر دینا اور یہ توقع رکھنا کہ وہ اس چاردیواری کا احترام کرے گی؛ جس کا شوہر بدکار ہو، اگر وہ اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے کوئی غیراخلاقی راستہ اختیار کر لے تو اسے فاحشہ قرار دے کر سخت ترین سزا کا مطالبہ کرنا وغیرہ۔ یہ عورت کے خلاف تعصب کی چند ایک مثالیں ہیں۔

جن باتوں کو مرد کے لئے نارمل تصور کیا جاتا ہے، وہی عورت کے لئے ممنوع اور جرم کیوں ہیں؟ مرد کے گناہ کو غلطی اور عورت کی غلطی کو گناہ قرار دے دینا۔ یہی وہ نا انصافی ہے جو کئی معاشرتی مسائل کی بنیاد ہے۔ جس معاشرے میں مرد اور عورت کے لئے الگ الگ پیمانے ہوں، وہاں صنفِ نازک کے لئے مساوات اور انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

عورت بھی انسان ہے۔ جب تک اس کے حقوق کو انسانی حقوق نہ سمجھا جائے گا، تب تک خاندانی اور معاشرتی حالات میں بہتری کی توقع رکھنا عبث ہے۔ مرد کب تک عورت کے حقوق کو آزادی کا نام دے کر سلب کرتے رہیں گے؟ حقوق ِ نسواں کی ادائیگی سے مرد کو اس لئے انکار ہے کہ وہ حقوق کا غلط استعمال کرے گی یا مرد کے برابر آ جائے گی۔ تو جناب، حقوق کے غلط استعمال کو مناسب اور ضروری تعلیم و تربیت سے روکا جا سکتا ہے۔ رہی بات اِس خدشے کی کہ حقوق دینے سے عورت، مرد کے برابر آ جائے گی تو برائے کرم یہ مت بھولیں کہ عورت کا مقام مرد سے مختلف ہے۔ ایک باشعور عورت کبھی اس مقام کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اور جو حقوق اسلام میں عورت کو دیے گئے ہیں، وہ فطرت کے عین مطابق ہیں جن سے انکار کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔ عورت کے شعور و تربیت کا مناسب، درست، اور ضروری اہتمام کیجئے تو آپ کو اس کے روئیے سے شکایت نہ ہو

گی۔ جب عورت کو دوسری درجے کی مخلوق سمجھنے کی بجائے انسان کا درجہ اور عزت و احترام دیا جائے گا تو وہ کبھی معاشرتی حدود پھلانگنے کی کوشش نہ کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •