کیا ڈوگرہ دور میں کشمیر و کشمیری آزاد و خود مختار تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن قبل فیس بک پر ایک پوسٹ پڑھی
*جب پاکستان اور بھارت انگریزوں کے زیر انتظام برصغیر تھے، تب بھی جموں و کشمیر ایک آزاد و خود مختار ریاست تھی۔ *

اور ایک دوسری جگہ ایک صاحب نے لکھا
*دو قومی نظریہ کا اطلاق برطانوی زیر تسلط علاقوں پر ہوتا ہے، کشمیر تو ایک آزاد علاقہ تھا۔ *

اس کے علاوہ کچھ لوگ  16 مارچ کو متحدہ ریاست جموں و کشمیر کی یوم تشکیل کے طور پر مناتے ہیں اور مہاراجہ گلاب سنگھ کو ”بانی کشمیر“ مانتے ہیں۔

کشمیر میں رعایا خصوصا مسلمانوں کو کتنی ایک آزادی حاصل ہے، اس کا تو تذکرہ ہی کیا۔ مگر جائزہ لیتے ہیں کہ خود مہاراجہ گلاب سنگھ اور اس کی ذریت کس قدر آزاد و خود مختار تھی۔

کشمیر کا یہ خطہ 16 مارچ 1846 کو انگریزوں نے 75 لاکھ نانک شاہی کے عوض ڈوگرہ خاندان کے ہاتھوں بیچا تھا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ پہلی انگریز سکھ لڑائی میں شکست دینے کے بعد انگریزوں نے تخت لاہور سے ڈیڑھ کروڑ روپے بطور تاوان جنگ طلب کیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ مالی طور پر اتنا مستحکم نہ تھا، اس نے دریائے سندھ اور بیاس کے درمیان واقع اپنے قلعے، اثاثے ( صوبہ کشمیر و ہزارہ سمیت ) انگریزوں کو تفویض کر دیا۔ تخت لاہور اور تاج برطانیہ کی اس جنگ میں جموں کے راجہ گلاب سنگھ نے تاج برطانیہ سے ( جو روایتی طور پر سکھوں کا ساتھی تھا اور جس نے جموں کی جاگیر بھی رنجیت سنگھ کے دربارمیں خدمات انجام دے کر حاصل کی تھی مگر اس جنگ میں درپردہ تاج برطانیہ کا ساتھ دیا تھا ) تاوان جنگ کے بدلے کشمیرکی ریاست خود کو تفویض کرنے کی استدعا کی۔

اس موقع پر ایسٹ انڈیا کمپنی اور مہارجہ گلاب سنگھ کے درمیان طے کیا جانے والا معاہدہ، معاہدہ امرتسر کہلاتا ہے۔

معاہدہ امرتسر میں یہ خطہ ڈوگرہ خاندان کو تفویض کئیے جانے کے بعد مستقبل کے لئے جو اصول و ضوابط طے کیے گئے ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

1۔ آرٹیکل 4 کے مطابق مہاراجہ گلاب سنگھ کے زیر نگین علاقے کی حدود برطانوی راج کی اجازت کے بغیر تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔

2۔ آرٹیکل 5 کے مطابق تخت لاہور اور گلاب سنگھ کے مابین کسی بھی تنازعے کی صورت میں یا کسی بھی ریاست کے ساتھ تنازعے کی صورت میں برطانوی سرکار سے ثالثی کے لئے رجوع کیا جائے گا اور برطانوی ثالثی کو تسلیم کیا جائے گا۔

3۔ آرٹیکل 7 کے مطابق مہاراجہ کسی بھی برطانوی، یورپی یا امریکی شہری کو حکومت برطانیہ کی اجازت کے بغیر ملازم نہیں رکھ سکتا۔

4۔ آرٹیکل 10 کے مطابق مہاراجہ تاج برطانیہ کی بالادستی کو تسلیم کرے گا اور اس تسلیم کے ثبوت کے طور پر سالانہ ایک گھوڑا، بارہ بکریاں ( چھ بکریاں، چھ بکرے ) اور تین شالوں کے جوڑے تاج برطانیہ کو پیش کرے گا۔

ڈوگرہ دور میں مسلمانوں کے ساتھ جوبدترین سلوک کیا گیا وہ ایک الگ موضوع ہے، مگر مذکورہ بالا نکات سے یہ بات واضح ہے کہ ہمارے بعض دوستوں کے محبوب ڈوگرہ خاندان کو کس قدر آزادی حاصل تھی۔ حتی کہ 1889 میں تاج برطانیہ نے پرتاب سنگھ کی حکومت کو ختم کر کے کچھ عرصے کے لئے ایک عارضی کونسل بھی قائم کی تھی۔

ہمارے کچھ دوست گلاب سنگھ کو ”متحدہ“ ریاست جموں و کشمیر کا بانی اور پہلا حکمران سمجھتے ہیں۔ اگر خالصتا نسلی، جغرافیائی عصبیتوں کی بنیاد پر ہی سوچا جائے اور مہاراجہ گلاب سنگھ کو دھرتی کا بیٹا مان کر اپنا حکمران سمجھا جائے، تب بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا نکات کس قدر تذلیل آمیز ہیں اور ان نکات کے ہوتے ہوئے آزادی کا دعوی کرنا اور ڈوگرہ خاندان کو ”بانی کشمیر“ کے طور پر گلوریفائی کرنا مضحکہ خیز ہے۔

جہاں تک تعلق کشمیر میں ڈوگرہ دور کے دوران مسلمانوں کی حالت زار کا ہے اس کے بارے میں تاریخ کی کتب کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں سے بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ڈوگرہ خاندان نے جموں کو اپنا وطن اور کشمیر کو ایک مفتوحہ علاقہ سمجھا اور اسی طرح کشمیریوں کے ساتھ برتاؤ کیا۔

کشمیر میں مسلمانوں کی آمدن کے تمام تر ذرائع پر بے جا ٹیکسز عائد تھے۔ ریشم، زعفران، کاغذ، تمباکو اور نمک کی صنعت کلی طور پر حکومتی دسترس میں تھی۔ فی کس آمدن محض 11 روپے سالانہ تھی۔ ٹیکسز کی شرح پڑوسی ریاستوں ( پنجاب وغیرہ ) سے تین گنا زیادہ تھی۔ 1941 کی مردم شماری کے مطابق 93.4 % آبادی ناخواندہ تھی۔ پوری ریاست میں محض ایک کالج موجود تھا۔ مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند تھے۔ بیگار لینے کا رواج عام تھا۔ بغیر کسی قصور کے قید کرنا اور سزائیں سنانا عام سی بات تھی۔ گائے ذبح کرنے پر سزائے موت مقرر تھی جسے 1934 میں عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔

ڈوگرہ دور میں سالانہ بجٹ میں عدلیہ کے لئے 40 لاکھ، فوج کا حصہ 50 لاکھ جبکہ مفاد عامہ صحت تعلیم، مواصلات وغیرہ کے لئے محض 36 لاکھ مقرر تھا۔ جس کا بڑا حصہ پنڈتوں اور برہمنوں پر خرچ کیا جاتا تھا۔ صرف غیر مسلموں کو ہی اسلحہ لائسنس جاری کئیے جاتے تھے۔ 1947 میں جموں میں ہونے والا مسلمانوں کا قتل عام انسانی تاریخط کے بد ترین قتل عام میں سے ایک ہے۔ ہمارے دوستوں کے محبوب مہاراجہ ہری سنگھ نے آر ایس ایس اور دیگر ہندو تنظیموں کے غنڈوں، ڈوگرہ افواج کے ہاتھوں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا۔ محتاط ترین اندازوں کے مطابق بھی دو سے اڑھائی لاکھ مسلمان شہید کیے گئے باقی جان بچا کر پاکستان کی جانب بھاگے۔ مسلمانوں کی اتنے بڑے پیمانے پر نسل کشی کی گئی کہ محض چند ماہ کے عرصہ میں مسلمان کہ جو جموں کی آبادی کا 61 فیصد تھے، یہ تناسب کم ہو کر محض 38 فیصد تک رہ گیا۔

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں باآسانی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ڈوگرہ دور حکومت میں مسلمانوں کو کس قدر ”آزادی“ حاصل تھی اور یہ کہ ایک مخصوص مکتبہ فکر کا ”ڈوگرہ خاندان کو گلوریفائی کرنے“ کا مقصد عوام کو کنفیوژ کرنے، ڈوگرہ مظالم اور اس کے بعد بھارتی مظالم کے لئے جواز گھڑنے اور پاکستان سے عوام کو متنفر کرنے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •