بلوچستان: جام سوئم کی حکمرانی کے نرغے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے عوام تین نسلوں سے حکمرانی کرنے والے جام خاندان کے چشم وچراغ جام سوئم سے ان کے اولین وعدوں اور آئین کی پاسداری کی ہنوز منتظر ہے۔ پڑھے لکھے وزیراعلیٰ کا ویژن کچھ یوں ہے کہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے محکمہ تعلیم جس کا سالانہ بجٹ 75 ارب روپے اور محکمہ صحت جس کا بجٹ سالانہ 22 ارب 38 کروڑ 30 ہزار 98 روپے ہے کے قلمدان اپنے پاس رکھنے کی بجائے انتہائی کم خواندہ لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھے ہیں جبکہ خود صرف 2 ارب 26 کروڑ 71 لاکھ 47 ہزار ایک سو روپے کے بجٹ والے محکمہ معدنیات کا قلمدان گزشتہ ایک سال سے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ یعنی 93 ارب کے بجٹ والے محکموں کو صرف دو ارب روپے بجٹ والے محکمہ معدنیات پر فوقیت دی ہوئی ہے 2 ارب روپے میں کرپشن نہ ہو بے شک 93 ارب سے زائد کا ضیاع ہو۔

اس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ یوں ان کے ویژن اور قول و فعل میں تضادات ظاہر ہورہے ہیں۔ تعلیم کا وزیرجو محکمہ معدنیات کے قلمدان پر مرمٹنے کو تیار ہے اور وزیراعلیٰ کے ساتھ قلمدان تبدیل کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ لیکن وزیراعلی بلوچستان کسی قیمت پر اس محکمے کی تبدیلی پر تیار نہیں۔ دوسرا بڑا المیہ تو یہ ہے کہ سیکرٹری صحت اور سیکرٹری سکینڈری ایجوکیشن کے عہدوں پر وزراء کے من پسند اور جوئنرافسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ جو اتنے بڑے محکموں کو کامیابی سے چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

ان کو قوم کے مستقبل اور صحت سے زیادہ بے جان پتھر عزیز ہیں، محکمہ مائنز اینذ منرل میں اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی و اقدامات کو دیکھتے ہیں تویہاں بھی حقائق اس سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں، ضلع لسبیلہ جہاں معدنیات پائی جاتی ہیں اس کے چپہ چپہ کی آمدنی مخصوص لوگوں تک بہ رضا ورغبت یا زور زبردستی پہنچتی ہے۔

محکمہ معدنیات کا اگر جون 2018 سے پہلے اور اب تک یعنی اگست 2019 کا ریکارڈ ملاحظہ کریں تو معلوم ہوگا کہ مالکان کے نام میں بہت بڑی تبدیلی ہوئی ہے اور نئے علاقے جن میں اربوں روپے مالیت کی معدنیات موجود ہیں براہ راست یا بلا واسطہ اعلی احکام کو الاٹ ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کروڑں روپے کی ماہانہ آمدنی کا حصول پیش نظر ہے جس میں ٹھیکوں پر کمیشن کی وصولی کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیا یہ بدعنوانی کے زمرے میں نہیں آتا؟

لسبیلہ کے ہر کس و ناکس کو اپنے حکمرانوں کی ان خزانوں اور دولت سے نہ ختم ہونے والی چاہت کا علم ہے۔ حکمرانی کی طرز کا اظہار اس بات سے عیاں ہوگا کہ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد یہ سوال بنتا ہے کہ وہ صوبہ کے 36 اضلاع میں کیا قابل ذکر تبدیلی کا موجب بنے ہیں؟ چیف سیکرٹری کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبہ کے معاملات بیوروکریسی کے ذریعے چلائے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے صوبے میں ان اقدامات کا فقدان ہے۔ صوبہ کا مقامی فرد ہونے کے ناتے مجھے خدشہ ہے کہ انہیں صوبہ کے تمام اضلاع کے متعلق کماحقہ معلومات نہیں کہ کس ضلع میں کیا کمی بیشی ہے۔

وزیراعلیٰ کے لئے نادر موقع ہے کہ وہ اپنے پیش روؤں سے ہٹ کر ہر جگہ پہنچتے اور لوگوں کی مشکلات اور مصیبتوں کو جان سکتے۔ ان کی حکمرانی کی جدت پسندی یعنی ٹویٹر، وڈیو کانفرنسنگ، گیجٹس کا استعمال کے ذریعے انتظامی معاملات کو چلانے کا کوئی کامیاب ماڈل نہیں۔ بلکہ پہلے معاملات کو گہرائی و گیرائی کے ساتھ سمجھنا ہوگا پھر تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد کوئی حل تلاش کرنا ہو گا۔ دوسرے صوبوں بلکہ ایران، بھارت اور بنگلہ دیش سے مقامی اور دیہی ترقی کے ضمن میں کیے جانے والے کامیاب تجربات سے فائدہ اٹھا کر اس طرز کو اپنایا جا سکتا ہے۔ بظاہر اقدامات سے لگ یوں رہا ہے کہ وزیراعلی نظام کو مزید کمزور کرنے کے موجب بن رہے ہیں۔

ابھی کچھ دن قبل نیب بلوچستان نے ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز بلوچستان کو دو خطوط لکھے، جس میں نیب کو شکایت کرنے والے درخواست گزار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بطور وزیر معدنیات اپنی کمپنی کے حق میں ضلع لسبیلہ کے علاقے کنڈ ملیر میں اپنے نام سے گلیکسی منرلز کی کمپنی کے لئے پرمٹ حاصل کیا ہے جو خلاف قانون ہے۔ جس کے جواب میں ڈائریکٹر مائنز انیڈ منرلز نے مجبوراً تصدیق کرتے ہوئے جوابی خط لکھا ہے کہ ”وزیراعلیٰ نے اپنی کمپنی کے پرمٹ کے لئے درخواست دی ہے، جس کی باقاعدہ این او سی ڈپٹی کمشنر لسبیلہ، ان کے حق میں جاری کر چکے ہیں۔یہ کیس اس وقت پراسس میں ہے۔ تاہم پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔“

یا اسی طرح لسبیلہ میں مائنز ڈیپارٹمنٹ کا ایک خاتون کی فیکٹری کو کسی کے کہنے پر نوٹس کرنا، ایک سابق وفاقی وزیر کی کنڈ ملیر میں ریت نکالنے والی کمپنی کو نوٹس کرنا اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے اپنے حلقے میں حب ندی میں 45 غیر قانونی کرش پلانٹ کا واقع ہونا، جو کہ مائنز اینڈ منرلز سے اجازت کے بغیر چل رہے ہیں اور کوئی ٹیکس ادا نہیں کر رہے، وہاں ایک منشی ماہانہ کی بنیاد پر ان غیرقانونی کرش مشینوں سے ایک کرش مشین پر چار لاکھ روپے بھتہ وصول کرتا ہے۔ اور مائنز ڈیپارٹمنٹ کو اتنی ہمت نہیں کہ وہ جاکر وہاں کارروائی کرے۔ مندرجہ بالاحقائق بلوچستانی عوام حکومتی سطح پر جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •