تین سو ارب کی معافی۔۔۔ذرا ٹھہریے!
اس امید پر کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ہم نے تبدیلی کی بدترین شکل بھی سہہ لی کہ کچھ ٹائم دینا تو بنتا ہے۔ حد یہ ہے کہ حد ہونے کو آ ہی نہیں رہی آپ کی آئے روز کی انٹرنیشنل و نیشل میڈیا اور فورمز پر ماری گئی بونگیوں کی وجہ سے ہمارا ہر جگہ پر ہاسا بنا پڑا۔ پوری دنیا میں ہم پہلے سے بھی بڑے اور ریکارڈ توڑ بھکاری بن کر ابھرے ہیں۔ باہر کے ملکوں میں کوئی ہمارے نزدیک نہیں آتا کہ ہم کچھ مانگ نہ لیں اور یہاں اپ کے یہ اللے تللے ختم نہیں ہو رہے۔
یہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی ڈبل ٹرپل تنخواہیں، یہ یونیورسٹی کے وعدے مگر جھکائی دے کر وزیر اعظم ہاؤس و گورنر ہاؤسز کی تزئین پر کروڑوں کے خرچے، یہ الیکٹیبلز کی خریدو فروخت، یہ مہنگائی کے طوفان، یہ زراعت کا جنازہ، ترقیاتی سکیموں اور منصوبوں کا رول بیک، یہ بدترین وی آئی پی کلچر، کاروبار اور روزگار کی بندش اور تبدیلی کا مسخ شدہ چہرہ۔ سچ یہ ہے کہ اپ نے عوام کو خوبصورت دھوکا دیا ہے، ان کو اپنا بلیک بیری دکھا کر نوکیا گیارہ دس بیچ دیا ہے۔
خاں صاب کیا ان صنعتی مگر مچھوں کو یہ تین سو ارب معاف کرتے وقت آپ کے ذہن میں سرکاری تعلیمی اداروں کا حال نہیں آیا جہاں بہیت سے تعلیمی پروگرام اس بار آفر ہی نہیں کیے گئے کہ فنڈز بند کر دیے گئے ہیں، بہت سے پراجیکٹس پر تحقیق اور کام روک دیا گیا ہے کہ پیسہ نہیں ہے؟ بہت سی سکالر شپس بند ہوئی پڑی ہیں یہ آپ کو پتا ہے؟
کیا آپ کو پتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں دوائیوں کے نام پر ایک پرچہ پکڑا دیا جاتا ہے کہ اسٹور سے لیں، کیا آپ کو علم ہے کہ بلڈ کینسر کی وہ دوائیاں جو کچھ غریب لوگ مفت یا سستے میں لے رہے تھے اب ان کو دو لاکھ میں پڑ رہی ہیں؟ جی ہاں سانس لینے کی قیمت دو لاکھ ماہانہ، سرکاری ہسپتال پرائیویٹ سے زیادہ مہنگے ہوئے پڑے۔
سرکاری ملازم کی تنخواہ اس کے اخراجات سے دو حصے کم پڑ رہی ہے، غریب کو دیہاڑی میسرنہیں سارا سارا دن سڑک پر کھڑا ہو کر گھر چلا جاتا ہے۔ گوشت، پھل دودھ تو دور کی بات دال اور سبزی بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوئی جاتی ہے۔ مگر آپ نے ایک ہی جست میں یہ تین سو ارب معاف کرتے وقت اس ملک کے کروڑوں غریبوں کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی حسرتوں سے ایسے نظر چرائی ہے جیسے سوتیلی ماں اپنے سگے بچوں کو کھانا کھلاتے وقت سوتیلے کے جھڑک کر چپ کرواتے وقت چراتی ہے۔
آپ نے اپنے ذاتی مفاد و حکومت کو دوام دینے کے لئے اس غریب ملک کے خزانے پر ایک لیگل ڈاکا ڈالا ہے۔ ایک طرف آپ بات بات پر عوام سے فنڈز کی اپیل کرتے ہیں، باہر کے ملکوں سے خیرات مانگتے ہیں، ان کی ڈرائیوری کرتے ہیں، عوام ڈائرکٹ ٹیکس در ٹیکس اور ہو شربا مہنگائی کی چکی میں پیستے ہیں اور دوسری طرف اشرافیہ کو لے کر یہ حرکتیں؟
خود ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں، ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔
خان صاب! یہ بد قسمت عوام پہلے بھی کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں لٹنے اور دھوکا کھانے کے عادی تھے مگر آپ نے جو صاف چلی شفاف چلی اور ریاست ہوگی ماں جیسی کا اعتبار دلا کر کھلواڑ کیا ہے یہی اس تبدیلی کی بدترین شکل ہے۔
جاتے جاتے پی ٹی آئی سپورٹرز سے ایک سوال۔ مجھے پتا ہے اپ لوگ مجھے گالیاں دیں گے، الزامات لگائیں گے، لگا لیں دلوں کے حال میرا رب جانتا ہے۔ مگر ایک سوال کا جواب ضرور دے دیجے کہ کیا کوئی بتائے کہ ان سیاسی صنعت کاروں نے یہ تین سو ارب معاف کروانے کو لئے جو آرڈینینس پاس کروایا ہے اس کے لئے کس وزیر و مشیر اور کس حکومتی عہدیدار کو کتنا مال کھلایا؟ اور کیا آپ کو پتا ہے یہ قرض جو معاف کیا گیا ہے یہ ہماری کل ٹیکس کلکیشن کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
اور کیا آپ کے علم میں ہے کہ قوموں کے زوال کی سب سے بڑے وجہ کیا ہوتی ہے؟ اپنے راہنماؤں کی اندھی تقلید و حمائیت۔ ان کی غلط باتوں اور نا انصافیوں کو جسٹیفائی کرنا اور ان کے مخالفین کو گالیاں بکنا اور ان کو بے جا زلیل و رسوا کرنا۔ برائیوں کو برائیوں سے، ظلم کو ظلم سے، اور گھپلے کو گھپلے سے جسٹیفائی کرنا۔
لہٰذا ذرا ٹھہریے اور سوچیے کہ کیا موجودہ حکومت کا قول فعل ایک جیسا ہے؟ یا کھانے کے دانت اور دکھانے کے اور ہیں۔ اور جاتے جاتے میری ایک بات لکھ لیجیے کہ یہی آرڈینینس اور یہی تین سو ارب اس حکومت اور اس کے لیڈر کے گلے پڑ جائیں گے ایک دن۔ دیکھ لیجیے گا وقت بدلنے کے دیر ہے۔

