انچولی کا بہت بڑا ڈراما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انچولی کی تنگ گلیوں میں ایک شخص فل اسپیڈ سے ہونڈا ففٹی بھگاتا پھرتا تھا۔ پچاس پچپن سال عمر ہوگی۔ چہرے پر سنجیدگی لیکن حرکتیں شرارتی لڑکوں والی تھیں۔ کسی دوست کے بالکل سامنے جاکر ففٹی لہرا دی۔ کسی واقف کے بالکل قریب ہارڈ بریک لگاکر ڈرادیا۔ کسی راہ چلتے لنگوٹیے یار کو کہنی مار دی۔ لوگ بازو سہلاتے ہوئے کہتے، یار یہ نذر بہت بڑا ڈراما ہے۔

انچولی شروع سے ایسا ہی ہے۔ وہاں آج بھی ایسے بہت سے کردار ہیں۔ یہ کردار وہاں جنم لیتے ہیں جہاں گہری دوستیاں ہوتی ہیں۔ جہاں تھڑے پر دوست یار بیٹھتے ہیں۔ جو ایک دوسرے سے مضحکہ کرتے ہیں۔ جو آتے جاتے لوگوں کے نام رکھتے ہیں۔ جو خوشی اور غم میں ساتھ رہتے ہیں۔ جو مذاق کا برا نہیں مانتے۔

نذر بھائی ہر ایک سے مذاق نہیں کرتے تھے۔ ان کی شرارتیں صرف دوستوں کے لیے تھیں۔ بزرگوں اور بچوں کا ہمیشہ لحاظ کرتے۔ مجھ سے ہمیشہ اتنی محبت اور مروت کا مظاہرہ کیا جیسے میں ان کا چھوٹا بھائی ہوں۔

نذر بھائی کا گھر انچولی میں رشید ترابی پارک کے سامنے کارنر والا تھا۔ ایک سو بیس گز کا چھوٹا سا مکان۔ پانچ بھائیوں میں نذر بھائی سب سے بڑے تھے۔ گھروں میں اخبار ڈالتے تھے۔ منہ اندھیرے گھر سے نکلتے۔ واٹرپمپ جاکر اخبارات کے بنڈل اٹھاتے۔ ہونڈا ففٹی اسی لیے رکھی ہوئی تھی کہ اس میں آگے سامان رکھنے کی جگہ ہوتی ہے۔ اس میں اخبار رکھ لیتے تھے۔

نذر بھائی کسی بینک میں، شاید یو بی ایل میں بھی ملازمت کرتے تھے۔ صبح اخبار ڈالے، پھر دفتر چلے گئے۔ شام کو عزاداری۔ یہ ان کا معمول تھا۔

پانچوں بھائی ساتھ رہتے تھے۔ غریب لیکن محنتی لوگ۔ کسی نے ملازمت کی۔ کسی نے دکان کھولی۔ کسی نے اخبار ڈالا۔ کسی نے ٹیکسی چلائی۔ رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوتے گئے۔ سنگل اسٹوری مکان ڈبل اسٹوری بنا۔ اور بلند ہوا۔ اب شاید چار منزلہ ہے۔

نذر بھائی مجلس ماتم میں جوش و خروش سے حصہ لیتے۔ ان کے گھر پر بھی مجلس ماتم ہوتا تھا۔ محرم میں بہت سے مقامات پر مجلسیں ہوتی ہیں۔ نذر بھائی کے گھر پر محرم کے بعد بھی مجلسیں اور میلاد ہوتے تھے۔ ہر امام کے یوم ولادت پر میلاد، یوم شہادت پر مجلس۔ ان کے علاوہ دوسری شخصیات کے ایام پر بھی۔ بی بی خدیجہ کی وفات کے دن۔ حضرت ابو طالب کی وفات کے دن۔

پہلے صرف سادہ تقریب ہوتی تھی۔ کم لوگ آتے تھے۔ پھر زیادہ لوگ آنے لگے۔ لاؤڈ اسپیکر لگنے لگا۔ کبھی کبھی شامیانہ لگ جاتا۔ پھر سبیل لگ گئی۔ پانی پیو تو یاد کرو پیاس امام کی۔ امام کے نام پر لوگ آئے ہیں تو صرف پانی نہیں ملے گا۔ کبھی چائے ہوگی۔ کبھی شربت ہوگا۔

ان کے گھر کی دیوار پر ایک بڑا سا بینر لگ گیا۔ اس پر کربلا کی شبیہہ بنی تھی۔ امام کی مدح لکھی تھی۔ عزاداری کا پروگرام درج تھا۔
میں بھی اخبار والا تھا اور نذر بھائی بھی اخبار والے۔ وہ بھی رشید ترابی پارک کے سامنے رہتے تھے اور میں بھی وہاں چھ سال کرائے کے مکان میں رہا ہوں۔ کبھی کبھی پارک کے نکڑ پر ہماری ملاقات ہوجاتی۔

”آج پھر ایک مومن کو شہید کردیا۔ “ وہ مجھے مطلع کرتے۔ ان دنوں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی۔ ڈاکٹروں، استادوں، دانشوروں ہی کو نہیں، سڑک پر بیٹھ کر پنکچر لگانے والے غریبوں اور علی کا نعرہ لگانے والے ملنگوں کو بھی قتل کیا جارہا تھا۔

”پتا نہیں یہ سلسلہ کب رکے گا! “ میں دکھ کا اظہار کرتا۔
”آپ رات کو دیر سے گھر آتے ہیں۔ آتے جاتے احتیاط کیا کریں۔ “ وہ مجھے نصیحت کرتے۔ بڑے بھائی اسی طرح چھوٹے بھائیوں کے لیے فکرمند ہوتے ہیں۔

ان دنوں ایسا لگتا تھا کہ شہر میں کہیں بھی واردات ہوتی، میت انچولی لائی جاتی تھی۔ مسجد خیرالعمل سے اعلان کیا جاتا۔ ظہرین یا مغربین کے بعد جنازہ ہوتا۔ پھر اکثر جلوس کی صورت میں لوگ وادی حسین جاتے۔ اس قبرستان میں قدرتی موت کا شکار ہونے والے کم ہیں۔ مقتول زیادہ ہیں۔

چار سال پہلے کی بات ہے، ایک دن صبح سویرے منہ اندھیرے نذر بھائی گھر سے نکلے اور حسب معمول واٹرپمپ پہنچے۔ اخبار کی گاڑی ان کے لیے بنڈل چھوڑ کر جاچکی تھی۔ قریب پاس کے بلاکس کے اخبار والے جمع تھے اور اپنے اپنے اخبار اٹھا رہے تھے۔ لوگ بتاتے ہیں کہ تین چار موٹر سائیکلوں پر چھ سات نوجوان آئے۔ ان میں سے ایک نے نذر بھائی پر فائرنگ کردی۔ شہیدوں کے دن منانے والا شہید ہوگیا۔

مجھے وہ دن یاد ہے۔ پورا انچولی جنازے میں شریک ہوا۔ تدفین کے بعد بہت سے لوگ کارنر والے مکان پر جمع ہوئے۔ گھر کی دیوار پر لگے بینر پر تمام شبیہیں غائب ہوگئیں۔ نذر بھائی کی شبیہہ ابھر آئی۔

مجلس کا اہتمام کرنے والے شخص کو قتل کیا گیا تو اس کے سوئم پر مجلس ہوئی، دسویں پر مجلس ہوئی، بیسویں پر مجلس ہوئی، چہلم پر مجلس ہوئی۔

میں چشم تصور سے دیکھتا ہوں کہ جنت کی وادیوں میں ایک شخص فل اسپیڈ سے ہونڈا ففٹی بھگاتا پھرتا ہوگا۔ چہرے پر سنجیدگی لیکن حرکتیں شرارتی لڑکوں والی ہوں گی۔ کسی جنتی کے بالکل سامنے جاکر ففٹی لہرا دی۔ کسی حور کے بالکل قریب ہارڈ بریک لگاکر ڈرادیا۔ کسی راہ چلتے فرشتے کو کہنی مار دی۔ لوگ بازو سہلاتے ہوئے کہتے ہوں گے، یار یہ نذر بہت بڑا ڈراما ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 177 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi