صلاح الدین کی لاش منہ چڑا رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے گھر میں پاکستانی نیوز چینل کا کنکشن نہیں لیا ہوا۔ پہلے تھا۔ ایسی ایسی خبر آتی تھی کہ دل ہی ڈوبتا رہتا تھا۔ پردیس میں یوں بھی ہر چیز زیادہ زور سے لگتی ہے۔ وہاں کوئی دکان کا شٹر بھی گرے تو خبروں پر ایسا چرچا کیا جاتا ہے کی لگتا ہے پورا ملک بند ہو گیا۔ کچھ دوستوں کے بقول ہمارا یہ فیصلہ کبوتر کی آنکھیں بند رکھنے کے مترادف ہے۔ مصیبت تو نہیں ٹلتی لیکن یہ نیک بخت اپنی آنکھیں میچ لیتا ہے۔ بلی بڑھتی رہتی ہے۔ یہ کھڑا رہتا ہے۔ موت تو بر حق ہے لیکن انسان وقت سے پہلے ڈر کی موت کیوں مرے۔ جتنا وقت اچھا گزر جائے غنیمت جاننا چاہیے۔

لیکن یہ سوشل میڈیا کم بخت چین لینے ہی کہاں دیتا ہے۔ کچھ دن پہلے صلاح الدین نامی ایک شخص کی ویڈیو گردش کر رہی تھی جو اے ٹی ایم مشین کے چیمبر میں لگے کیمرے کو منہ چڑا رہا تھا۔ خبر یہی تھی کہ یہ اے ٹی ایم مشین توڑنے کے چکروں میں تھا۔ ہم نے زیادہ کان نہ دھرے۔ یہ تو روز کی کہانی ہے۔ ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی اے ٹی ایم مشینوں کو نوٹوں کا درخت سمجھ کر لوٹنے کا اپنا ضرور دیکھتا ہے۔ ہمیں خبر کی تفصیل میں چنداں دلچسپی نہ تھی۔

ہماری چاق و چوبند ہر دم تیار پولیس، جس نے کبھی کوئی مجرم پکڑنے میں تاخیر نہیں کی، فورا چوکس ہو گئی۔ جھٹ صلاح الدین کو جیل میں ڈالا۔ اس قدر تشدد کیا کہ وہ پوچھنے پر مجبور ہو گیا کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے۔ بس ویڈیو یہیں تک تھی۔ اس سوال نے افسر صاحب کا سینہ اور چوڑا کر دیا۔ نہ صرف اس کی ویڈیو بنائی گئی بلکہ اسی سوال پر اسے بند بھی کر دیا گیا۔ اپنی تعریف خود کرنا ہماری پولیس کو گوارا نہ تھا اس لئے جواب میں بس شرما دیے۔

ایک دن صلاح الدین کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ مر گیا۔ شاید جواب کی تاب نہ لا سکا۔ ذہنی توازن بھی اس قدر مضبوط نہ تھا کہ فلسفہ سہار پاتا۔ یہ دل خدا کی طرف سے بند ہوا یا بندوق کے بٹ مار کر زبردستی بند کیا گیا؟ خدا کی کرنی خدا ہی جانے۔ صلاح الدین کے ریکارڈ پر تو کوئی سنگین جرائم نہ تھے۔ البتہ پولیس کا ٹریک ریکارڈ اتنا صاف نہ تھا۔

یہ نہیں معلوم کہ اس نے مرتے دم کوئی سوال کیا یا نہیں۔ شاید ’آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ ‘ ہی اس کا اس متعفن سسٹم سے آخری سوال تھا۔

ایک منٹ۔ ذرا رکئے۔ کہاں چلے؟ کہانی ابھی باقی ہے۔

صلاح الدین کی لاش سرد خانے کی زینت بنا دی گئی۔ بوڑھا باپ اپنے بھولے بیٹے کو ملنے آتا لیکن اس ناگہانی نے اس کی لاش ہی باپ کا مقدر ٹھہرائی۔ لاش کو پہچانا۔ بیٹے کا چہرہ چوما اور بارہا چوما۔ صلاح الدین مر چکا تھا لیکن اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ ابھی بھی کہاں چپ ہوا تھا۔ ہر طرف ظلم کی داستان سنا رہا تھا۔ گھر جا کر غسل دینا چاہا تو پورا جسم چیخ چیخ کر اس ’ہارٹ اٹیک‘ کی کہانی سنانے لگا۔ بتانے لگا کہ ’انہوں‘ نے مارنا کہاں سے سیکھا تھا۔

پھر اسی سسٹم کا منہ چڑانے لگا جس میں ایک بے گناہ ذہنی معذور شخص کو ان دیکھے جرم کی سزا مل گئی۔ لیکن تین سو ارب کے مالک صنعت کاروں کو سب کہا سنا معاف کر دیا گیا۔ اس نظام سے چلا چلا کر اپنی موت کی وجہ جاننے لگا جو غریب کے لیے تو ’ہارٹ اٹیک‘ تھا لیکن امیر کے لیے این آر او تھا۔ جہاں شاہیں اور کرگس کا جہاں اور تھا۔ ایک ایسا جانوروں کا باڑہ تھا جہاں کچھ جانور باقی جانوروں سے زیادہ ’برابر‘ تھے۔

خدارا کسی بھی سبز باغ کا راگ الاپنا بند کیجئے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو ظلم کے متوالوں کی جنت ہے اور غریب کے لیے اسی دنیا میں جہنم ہے۔ یہاں مدینہ کے سبز گنبد والے ہوتے تو صلاح الدین کو ’ہارٹ اٹیک‘ نہ ہونے دیتے۔ امیر کو این آر او نہ دیتے۔ آپ کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ مدینہ کی ریاست کا نام لینا بند کیجئے۔ آپ تو جنگلوں کا نام لینے کے لائق بھی نہیں کہ جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔
بائی دا وے، صلاح الدین ابھی بھی منہ چڑا رہا ہے۔ یقین نہ آئے تو دل سے پوچھئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •