انتقام – پشتو کا ایک افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارباب رشید احمد خان کے اس شاہکار افسانے کا پشتو نام ”پتنہ“ ہے۔ پتنہ اور انتقام دو مختلف کیفیات ہیں۔ پتنہ کے لئے اردو کا کوئی موزون لفظ میرے ذہن میں نہ آسکا۔ پتنہ کو ہم تعصب کہہ سکتے ہیں لیکن لفظ تعصب بھی پوری طرح اس لفظ کا احاطہ نہیں کرتا۔ افسانے کی ساخت کے حوالے سے مجھے اردو میں اس کے لئے انتقام نام اچھا لگا۔ انتقام اور تعصب کے حوالے سے پشتو میں اس سے بہتر افسانہ شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ ترجمہ پیش خدمت ہے

ابھی شام کے زردی مائل سورج کی سرخ شعاعوں سے آسمان کا دامن بھرا تھا۔ شام کے گھنے ہوتے سائے مشرق کی جانب آہستہ آہستہ بڑھ رہے تھے۔ گاؤں سے دور۔ بہت دور راستے کے ایک جانب بیٹھے شیرین نے اپنی بندوق سے ہاتھ کھینچتے ہوئے گُلے سے پوچھا، ”روزہ کھولنے میں کتنا وقت ہے؟ “۔ گُلے نے تسلی دیتے ہوئے کہا ”ابھی وقت ہے، آجائے گا“۔ شیرین نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ کبھی اسے ہاشم کے پیچھے گزارے سردیوں کے راتیں یاد آجاتیں اور کبھی وہ لمبے اور نامانوس راستے جن پر اُس نے لوگوں کی مخبری پر ہاشم کا نہ ختم ہونے والا صبر آزما اور کھٹن انتظار کیا تھا۔

وہ ابھی ان اعصاب شکن خیالوں سے نکلا نہیں تھا کہ گُلے نے اسے ”سو گئے کیا؟ “ کہہ کر جگا دیا۔ شیرین نے پھر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بے صبری اور بیقراری کے ملے جلے جذبات کے ساتھ لرزتی آواز میں گلے سے مخاطب ہوا ”نہیں! افسوس کہ یہ کبھی بھی میری بندوق کی نالی کے نیچے نہیں آیا“ گلے کے چوڑے چہرے پر اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں مسکراہٹ ابھری۔ شیرین کو تسلی دیتے ہوئے گُلے بولا ”اب یہ مجھ سے اور شمروزئی کے ہاتھ کا سالن نہیں کھا پائے گا“، لیکن ساتھ ہی اُس نے یہ بات بھی صاف صاف بتا دی ”جب تک تُو پہلی گولی نہیں چلائے گا، میری بندوق کی نالی کا دھواں نہیں دیکھ پائے گا“

دونوں ابھی دھیرے دھیرے یہ باتیں کررہے تھے کہ قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ دونوں خاموش ہوگئے۔ شیرین کا رنگ زرد پڑ گیا۔ اپنی بندوق پر ایک دفعہ پھر ہاتھ پھیر کر چیک کیا۔ اور آنکھیں راستے پر گھاڑ دیں۔ اس کا گرم خون رگوں میں تیزی سے بھاگنے لگا۔ اسی دوران ہاشم دراز قد، چوڑے سینے، مردانہ وجاہت سے بھرپور جوانی کے ساتھ نمودار ہوا۔ ہیبت زدہ ہاشم لمبے اور تیز تیز قدم اٹھاتا اسی جانب آرہا تھا جہاں انتقام کی آگ میں جلتا شیرین موت بن کر اس کا انتظار کررہا تھا۔

شیرین کے پورے وجود میں بجلی سی دوڑ گئی، اس نے آنکھیں بند کیں اور جب دوبارہ کھولیں تو راستے کے اُس پار اُسے اپنا بھائی خون میں لت پت کھیت کی پگڈنڈی پر تڑپتا دکھائی دیا۔ شیرین نے اپنی بندوق کی سوئی ہاشم کے بائیں پسلی کے ذرا اوپر گاڑ دی۔ شیرین کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کے ماتھے پر ٹھنڈا پسینہ امڈ آیا۔ گلے نے اس سے کہا، ”دبا دو انگلی“، لیکن شیرین خاموش تھا۔ گلے نے اس دفعہ ذرا تیز لہجے میں کہا ”دبا دو نا، قریب آگیا ہے“۔

شیرین پھر بھی خاموش تھا۔ گلے نے دانت پھیستے ہوئے شیرین کی طرف اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں موڑ لیں۔ شیرین کی جھکی ملامت بھری آنکھوں سے دو موٹے آنسو اس کے گالوں پر آ رُکے۔ ہاشم نکل گیا تو گلے نے غضبناک آنکھوں سے شیرین کی طرف دیکھتے ہوئے چیخ کر کہا، ”اؤ تیرا بیڑہ غرق ہو، یہ کیا کیا؟ “۔ شیرین آنسووں سے بھری آنکھوں کے ساتھ سسکیوں میں اتنا کہہ سکا، ”روزے سے تھا، سیدھا جنت جاتا“۔
۔
پسِ تحریر: ارباب رشید احمد خان کے افسانے کے ترجمے کی ایک ادنی سی کوشش۔ ارباب صاحب کے پشتو افسانوں کی کتاب ”انگازے“ غالباً 1950 کی دہائی میں شائع ہوئی تھی

مترجم عامر گمریانی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •